Ye Muhabbaten Ye Shidaten bold romantic novel
URDU NOVELS, BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS

Ye Muhabbaten Ye Shidaten bold romantic novel by hania shah- Best Bold romantic Urdu Novels Online & Download Pdf

In this post I am here to provide you Ye Muhabbaten Ye Shidaten bold romantic novel. You can read online or download according to your choice.

BOOK NAME: Ye Muhabbaten Ye Shidaten
AUTHOR NAME: Hania Shah
GENRE: Bold Romantic Novel, Rich Hero Based, Second Marriage Based, Rude Hero Based, 2 Couple Based, Forced Marriage based
STATUS: Complete

Hania Shah is a social media writer. She has written many novels in a unique and interesting writing style. She love to write interesting stories.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

اس کے بھیگے ہونٹ زیان شاہ کو بہکا رہے تھے۔۔۔

ہاتھ کو پیچھا لیجا کر اس کے بلاؤز کی ڈوریاں کھولنی شروع کئیے۔۔

اس کی انگلیاں قمر سے ٹچ ہوئیں تو امبر کا دل زور شور سے دھڑکا۔۔

زیان ڈوریوں کو چھوڑ کر انگلیوں کے پوروں سے اس کی قمر کو سہلانے لگا۔۔

لیکن امبر کی جان نکل رہی تھی اس کے اس کی انگلیوں کے گرم لمس سے۔۔

اس کی گردن میں منہ چھپائے ایک ہاتھ پیچھے قمر پر اور ایک اس کے بالوں میں وہ اسے بلکل بے حوش کرنے کے موڈ میں تھا۔۔۔

کھینچ کے ڈوریاں کھنچی تو موتی ٹوٹ کر نیچے بکھر گئے۔۔

موتیوں کی آواز نے ایک الگ سا ارتعاش پیدا کیا۔۔

اس کے دھیرے سے کندھے سے اس کا بلاؤز ہٹا کر وہاں لب رکھے۔۔۔

اپنے کندھے پر اس کا گرم لمس پاتے ہی امبر کے ہاتھ پاؤں پھولے تھے۔۔

ز۔۔۔۔زیا۔۔۔۔زیان۔۔

شششششششش امبر۔۔بس محسوس کرو ان لمحوں کو۔۔۔

انگلیوں میں انگلیاں الجھا کر سکون سے اس کے لبوں کو اپنی پکڑ میں لیا۔۔۔

لبوں سے گردن تک اور پھر کندھے۔۔ہر جگہ اپنا لمس بکھیر رہا تھا وہ۔۔۔

امبر آج میری رات ھے بلکہ ہم دونوں کی ھے لیکن جو انجوائے کرے گا اسی کی ہو گی ناں اب تمہیں تو رونا ھے ساری رات۔۔لیکن بھول جانا کہ تمہارے آنسو مجھے پھگلا سکیں گے۔۔۔آج اپنے وجود پر میری شدتیں برداشت کرنی ہوں گیں تمہیں۔۔۔

وہ انگھوٹھے سے اس کے ہونٹ سہلاتا ہوا اسے اپنے ارادے بتا رہا تھا۔۔

بٹن کھولو میری شرٹ کے۔۔۔۔

عجیب سی فرمائیش پر امبر کی آنکھیں کھل چکیں تھیں۔۔

اس نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا مگر وہ پر سکون سا اسے دیکھنے میں محو تھا۔۔۔

ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔تمہارا ہی ہوں جتنا چاہو دیکھنا۔۔ابھی جو کہا ھے وہ کرو۔۔۔

لیی۔۔لیککن۔۔۔لیکن۔۔

کیا لیکن۔۔بٹن کھولو ۔۔

و۔۔۔وہ۔۔۔

کیا کر رہی ہو امبر ابھی تو صرف بٹن کھولنے کا ہی بولا ھے نا۔۔

مگر پر زور دیتا وہ اسے اور خدشات میں ڈال چکا تھا۔۔

زیا۔۔۔۔زیا۔۔۔۔زیان۔۔پل۔۔۔لیز۔۔مم۔۔میر۔۔میرے ۔۔۔سے۔۔۔نن۔نہی ہو گا۔۔۔۔

کیوں نہیں ہو گا کوئی مشکل کام تو نہیں کہا نا ۔۔۔

چلو شاباش میرا بچہ شرٹ کے بٹن کھولو جلدی سے۔۔۔

اس کا ہاتھ پکڑ پر شرٹ پر رکھا جو امبر نے جلدی سے پیچھے کر لیا۔۔۔

امبر پیار سے سمجھا رہا ہوں نا میرے جان تو سمجھ جاؤ بعد میں جو ہوگا وہ تم سے برداشت نہیں ہو گا۔۔۔

اس کا انداز ایسا تھا کہ امبر ایک پل میں اہم گئی تھی۔۔۔

اس نے دوبارہ سے اس کا ہاتھ پکڑ کر بٹن پر رکا تو اس بار امبر نے کانپتے ہاتھوں سے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنا شروع کئے۔۔۔

بٹن کھول کر اس کی شرٹ کو کندھوں سے سرکایا۔۔

لیکن نظریں نیچے کی طرف جھکیں ہوئیں تھیں ۔جیسے اگر اوپر اٹھائیں تو جانیں کیا ہو گا۔۔

زیان نے اس کو دوپٹہ سے آزاد کیا تو اس کی جھکی گردن مزید جھک گئی۔۔۔

اس نے سائڈ ٹیبل سے لائٹر اٹھایا تو امبر ایک دن ع

سہم گئی۔۔۔

لائیٹر جلا کر وہ اس کے اتنا قریب ہو گیا کہ ان کے بیچ میں ہوا کا گزر بھی ناممکن تھا۔۔۔۔

اس کے ہونٹوں کے قریب لائٹر لا کر اسے ڈرانا چاہا اور امبر تو اصل کی ڈرپوک بہت پہلے سے ہی ڈر چکے تھی۔۔۔

ایک آنسو ٹوٹ کر اس کی گال پر بہا جیسے زیان سے اپنے ہونٹوں سے چنا۔۔

ڈرو نہیں تمہیں نہیں جلاؤں گا۔۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کر دیں۔۔

اور لائٹر کی آگ بھی بند ہو چکی تھی۔۔کمرے میں اس وقت مکمل۔اندھیرا چھا چکا تھا۔۔۔

امبر اندھیرے کو محسوس کر کے چلا اٹھی۔۔۔

لیکن زیان نے اسے کی چیخ کو اس کے منہ میں ہی دبا دیا تھا۔۔۔

اندھیرا تینائی اور محبوب کے لب کون ظالم نا بہکے۔۔یہ تو پھر زیان شاہ تھا اور محبت بھی باہوں میں تھی۔۔۔

ایک دم سے اٹھے چھوڑ کر زیان اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

جب امبر کو لگا کہ زیان پاس نہیں تو اس نے اسے پوکارا۔۔

زیا۔۔۔زیان۔۔۔کہ۔۔۔کہاں ھیں ۔۔۔آپ۔۔۔

زی۔۔۔زیا۔۔۔زیان۔۔۔پلیز ۔۔۔ایسا ناں کریں۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔سامنے۔۔۔آئیں زیان نے۔۔۔

اندھیرے کمرے میں ہلکی سی لائٹر کی آگ چمکی۔۔

آگ کی روشنی میں اس کو زیان کا وجود محسوس ہوا۔۔۔

وہ بھاگ کر اس کے سینے سے آ لگی۔۔

زیان نے اسے بازؤں میں لئے آہستہ آہستہ ساری کینڈلز جلا دیں۔۔

پورا کمرے میں روشنی ہو۔ کی تھی۔۔۔

زیان نے اس کی طرف دیکھا تو دوبٹہ سے بے نیاز بالاؤز کندھوں سے نیچھے گرا۔۔۔اس کے جسم کے سبھی نشیب و فراز ظاہر کر رہا تھا۔۔۔

وہ بہکا بہکا سا اس کی جانب جکھا اسے بازؤں میں اٹھایا اور بیڈ پر لے لے آیا۔۔۔

نرمی سے اسے لیٹایا اور اپنے بازو سے واچ نکالا پینٹ کی پاکٹ سے کیز وغیرہ نکال کر ٹیبل پر رکھے۔۔۔اور امبر پر جھک گیا ۔

اپنے اوپر وزن محسوس کر کے امبر نے آنکھیں کھولیں تو زیان اسے اپنی پناہوں میں لئے ہوئے تھا۔۔

زیان نے اس کے بازو اپنی پشت پر رکھے تو امبر اس کے سینے میں چھپ چکی تھیں۔۔۔

اپنے جسم پر اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کا لمس زیان کو سکون دے رہا تھا۔۔

بہت خوبصورت لگ رہی تھی آج یہ سب جو ہو رہا ھے نا تمہاری وجہ سے ہی ہو رہا ھے کس نے کہا تھا اتنا خوبصورت لگنے کی۔۔۔زیان شاہ تو بہکے گا ناں پھر میرا تو کچھ نہیں گیا۔لیکن میری چھوٹی سی جان کی جان کر بن گئی ھے۔۔۔

وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا اس کے کان کی لو کو دانتوں میں دبا چکا تھا۔۔امبر کی ہلکی سے سسکی نکلی تھی۔۔۔

اوو میرے بچے کی تو ابھی سے سسکیاں نکل رہیں ھیں آگے کیا کرو گی۔۔۔

مگر امبر خاموش تھی زیان کی گردن میں منہ دئے وہ پر سکون سی کیٹی ہوئی تھی۔۔

سکون تب غارت ہوا جب زیان کا لمس اسے اپنی شاہ رگ پر محسوس ہوا۔۔

اس نے دھیرے سے اس کے لہنگے کا بلاؤز اس کے جسم سے علیحدہ کیا تو امبر نے زور سے اس کی پشت کو سینے میں بھنچا۔۔۔

اس کی انگلیوں کو اپنی انگلیوں الجھا کر وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا امبر کی سانسیں پینے لگا۔۔۔

ہونٹوں سے لبوں نے نیچے کی طرف شروع کیا۔۔۔۔

اس کی گردن پر لب رکھ کر انگلی سے سینے پر لکیر کھنچی تو امبر جی جان سے تڑپ اٹھی۔۔۔اپنے ہاتھوں کو آزاد کرانا چاہا مگر ناکام وہ اپنے دو ہاتھ اس کے ایک ہاتھ سے چھڑوانے میں ناکام رہی۔۔۔

زیان نے اس کے کندھے سے لب ہٹائے ایک سیک ڈ کے لئے اس کی طرف دیکھا تو وہ آنکھیں بند کئے رونے کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔

نیچے جھک کر نرمی سے اس کے دل کے مقام پر لب رکھے تو وہ مچل اٹھی۔۔

زیا۔۔۔زیان۔۔پلیز۔۔نہیں۔۔۔

مگر زیان اس دنیا میں ہوتا تو سنتا وہ تو کسی اور ہی منزل پر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔

اس کی تیز دھڑکن وہ اپنے ہونٹوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ اپنا حق وصولتا کمرے میں موبائل کی آواز گونجی۔۔۔

زیان نے سر اوپر اٹھایا امبر پر اپنی شرٹ ڈالتے ہوئے اپنا فون اٹھایا۔۔

فون پر جگمگاتے نام کو دیکھ کر اس کا موڈ بری طرح خراب ہو چکا تھا مگر پھر بھی کال ریسیو کی۔۔۔

جی ڈیڈ۔۔

کہاں ہو زیان کتنے دن سے نظر ہی نہیں آئے۔۔۔

کچھ نہیں ڈیڈ بس کسی کے حوش ٹکانے لگا رہا تھا اس نے امبر کی طرف دیکھ کر ہونٹوں پر تنزیا مسکراہٹ سجا کر ملک کو جواب دیا۔۔۔

تم جہاں بھی ہو ابھی گھر آؤ۔۔

مگر ڈیڈ۔۔

اگر مگر کچھ نہیں ابھی کا مطلب۔ ابھی۔۔۔

اوکے ڈیڈ آتا ہوں۔۔

وہ اسے ابھی شک کروانا نہیں چاہتا تھا اسی لئے آنے کی ہامی بھر لی۔۔۔

کال بند کر کے اس نے لائٹس آن کی تو امبر نے زور سے آنکھیں میچ لیں کیونکہ وہ شرٹ لیس تھا۔۔۔

آنکھیں کیون بند کر رہی ہو شرٹ تو تم نے بھی نہیں پہنی۔۔۔

امبر نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں اس کی بات سن کر۔۔۔

اس کا چہرہ خرچ پڑ چکا تھا شرم کی وجہ ۔۔۔

آآآہ میرا بچہ بلش کر رہا ھے۔۔

ابھی ٹائم نہیں جانی بچا کر رکھو سب ۔۔

واڈروب سے اپنے کپڑے نکالے اور واشروم میں گھس گیا۔۔

امبر وہیں پڑی چھت کو گھور رہی تھی۔۔۔

شکر ھے بچ گئی۔۔یہ کھڑوس تو عمران ہاشمی کا بھی باپ ھے۔۔

ہائےےےےے کیا بنے گا میرا۔۔۔

وہ اس کی حرکتوں کو سوچتی شرما اور مسکرا رہی تھی

زیان فریش ہو کر باہر نکلا۔۔تو امبر کو ویسے ہی اپنے شرٹ سے سینا چھپائے لیٹے پایا۔۔۔

آٹھ کر چینج کر لو گفٹ اس دن دوں گا۔جس دن ہمارا ولیمہ ہو گا۔۔

ہاں اگر میرا انتظار ایسے ہی کرنا ھے ہو مجھے کوئی مسئلہ نہیں کر سکتی ہو میں آ جاؤں گا صبح تک۔۔۔

امبر گڑبڑا کر اٹھنے لگی مگر اپنی حالت دیکھ کر پھر لیٹ گئی۔۔

زیان اس کی بات سمجھ چکا تھا اس لئے الماری سے اپنی ٹی شرٹ نکالی اور اس کے قریب آیا۔۔۔

جھک کر اس کے چہرے کے قریب آیا۔۔۔

آج چھوٹ مل گئی میری جان تمہیں مگر کب تک ہلکہ سا اسکے لبوں کو چھوتا ہوا پیچھے ہوا۔۔

یہ لو کپڑے چینج کر کے سو جانا۔۔

اوکے میں آتا ہوں تھوڑی دیر تک

اللہ حافظ۔۔۔

 Ye Muhabbaten Ye Shidaten bold romantic novel By Hania Shah Complete PDF Download Link

Ye Muhabbaten Ye Shidaten By Hania Shah Read online

You may also like...

1 Comment

  1. […] muhabbat ki hawasDownload Ye Muhabbaten Ye Shidaten bold romantic novel by hania shah- Best Bold romantic Urdu Novels Online &… […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *