Tum Jo Aye Zindagi Main Cousin Marriage Based Funny Novel By Shagufta Kanwal Season 02
ROMANTIC URDU NOVELS, BOOKS I LOVE, Uncategorized, URDU NOVELS

Tum Jo Aye Zindagi Main Cousin Marriage Based Funny Novel By Shagufta Kanwal Season 02

In this post I am here to provide you Tum Jo Aye Zindagi Main cousin marriage based funny novels. You can read online or download according to your choice.

Book Name: Tum Jo Aye Zindagi Main Season 02
Author Name: Shagufta Kanwal
Genre: Cousin Marriage-Based, Funny Novel, Love Story, Romantic Novel
Status: Completed

Tum Jo Aye Zindagi Main novel is written on a romantic life which reflects the real life struggles and loss of our lives. It is a beautiful journey of love and intimacy where two lovers do everything to be one.

Shagufta Kanwal is a very famous novel writer. She wrote many novels on social and moral issues and also romantic Urdu. Therefore, her novels are very famous on social media, and her novels are very famous among the young generation.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels.

صبح کے چھ بج رہے تھے جب اس کی آنکھ کھلی تو خود کو بیڈ پر لیٹے پایا ۔ ہلنے کی وجہ سے اس کو اپنے کندھے اور پیٹ میں درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئیں تو اس کے زہن میں گھوما کہ کیسے نواز عالم نے اس کو کڈنیپ کیا تھا پھر کچھ ہی گھنٹوں بعد عادل پہنچ گیا تھا وہ اس کے ساتھ آ رہی تھی کہ نواز عالم نے اس پر گولیاں چلا دیں تھیں ۔ اس نے کمرے میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو تقریبا سبھی کو کمرے میں بیٹھے پایا ۔اس کو آنکھ کھولتے دیکھ کر شہریار اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھا تھا۔

“کیا بات ہے؟ میرا شہزادہ کیا دیکھ رہا ہے ؟”اس کو ادھر ادھر نظریں گھماتا دیکھ کر شہریار نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا

“بھائی میں؟” اس نے اٹھنے کی کوشش کی

“لیٹی رہو۔ کہیں پین تو نہیں ہو رہا ؟”شہریار نے اس کی پیشانی چومتے ہوئے پوچھا

“نہیں میں ٹھیک ہوں ۔عادی کہاں ہے ؟ وہ کیسا ہے؟ ٹھیک ہے ؟”امثال نے کمرے موجود لوگوں پر نظر ڈالتے ہوئے اس کی غیرموجودگی کو محسوس کیا ۔وہ لوگ خاموشی ان دونوں کو سن رہے تھے ۔

“وہ بلکل ٹھیک ہے ، باہر ہے ، بیچارہ ساری رات تمہارے لیے پریشان رہا ہے ۔”شہریار نے ایک بار پھر جھک کر اس کی پیشانی چومی

“بھئی مجھے بھی اپنی بیٹی سے ملنے دو ۔”ساریہ بیگم شہریار کو اس سے پاس سے نہ ہٹتا دیکھ کر خود ہی آگے آئیں

“کیسی ہے میری بیٹی ؟”

“ٹھیک ہوں ۔”اس نے آہستگی سے کہا

“ماما میرا بے بی ٹھیک ہے نہ ۔”اس نے اپنے اوپر جھک کر منہ چومتی ساریہ بیگم سے پوچھا آواز اتنی آہستہ تھی کہ وہ بمشکل ہی سن پائیں

“ماما !”اس نے ان کے نظریں چرا کر خاموش ہوجانے پر دوبارہ پوچھا

“کوئی بات نہیں بیٹا! اللہ دوبارہ اپنا کرم کر دے گا ۔”ساریہ بیگم اسے صاف لفظوں میں کہنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ ان کی بات سن کر اس کی آنکھوں میں نمی ابھری مگر راسم شاہ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر پلکیں جھپک کر روک گئی۔

“میرا ژلی شاہ بہت بہادرہے ۔”راسم شاہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولے تو وہ دھیرے سے مسکرائی

“اس نےکوئی بہادری نہیں دکھائی۔ وہ تو ہم اتنے لوگ اکھٹے ہو گئے تھے کہ اللہ کو ہم پر ترس آگیا اور اسے واپس بھیج دیا ۔”صدام نے ماحول کی سنجیدگی کو کم کرنے کے لیے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔

“ہاں واقعی اور ویسے بھی اللہ کو فرشتوں کا سکون بہت عزیز ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہاں یہ لوگوں کو چین نہیں لینے دیتی اوپر آ کے فرشتوں کا جینا حرام کیے رکھے گی۔ اس لیے کچھ دنوں تک فرشتوں کو سکون کے مہیا کیا ہے۔”امان نے مسکراتے ہوئے کہا

“تم لوگ پھر سے شروع ہو گئے اس کو سانس تو لینے دو ۔” زریاب نے افسوس سے سر جھٹکا

“کیسا فیل کر رہی ہو ؟”عائشہ دوسری طرف سے کرسی گھسیٹ کر اس کے پاس بیٹھی

“سچ کہوں تو جب میں نے آپ سب کو یہاں دیکھا تو مجھے تھوڑا برا فیل ہوا تھا ۔ مجھے لگا میں جنت میں پہنچ گئی ہوں اور آپ سب مجھ سے پہلے ہی پہنچ گئے ہیں ۔ کہیں تو مجھے اکیلا چھوڑ دیا کریں ۔”اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی

“تھینک گاڈ !اس کی زبان سلامت ہے ورنہ مجھے تو خدشہ ہونے لگا تھا کہ کہیں ڈیمج نہ ہوگئی ہو ۔”صدام کی زبان میں پھر سے کجھلی ہوئی ۔وہ اسے گھورتے ہوئے شہریار کی طرف متوجہ ہوئی

“بھائی بازی اور عدی کہاں ہیں؟ نظر نہیں آ رہے ہیں۔”

“بازی تو کینٹین گیا ہوا ہے اور عدید کافی دیر سے غائب ہے۔ پتہ نہیں کدھر ہے۔ بتا کر نہیں گیا۔”

“مجھے کسی نے یاد کیا ؟”عدید نے اندر آتے ہوئے کہا

“کہاں تھے ؟” شہریار نے پوچھا

“ایک کام سے نکلا ہوا تھا۔ تم بتاؤ کیسی ہو ۔میری پرنسز کو پین تو نہیں ہو رہا ۔”عدید نے اس کی پیشانی چومتے ہوئے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا ۔وہ وہیں بیٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگا ۔ثریا شاہ نماز پڑھ کر آئیں تو اس کو جاگتا دیکھ کر مسکرا دیں

“ماشاءاللہ سے میری بیٹی اٹھ گئی ۔” وہ اس کے پاس آئیں تو عائشہ نے اٹھ کر ان کے لیے کرسی چھوڑی

“لیں جی گرما گرم شوارما آگیا ۔”بازل کہتا ہوا اندر آیا

“اوئے !تو ہوش میں آ گئی ۔ یعنی کے تو بچ گئی۔”بازل نے اس کو ثریا شاہ سے باتیں کرتا دیکھ کر مصنوعی حیرانگی دکھائی

‘تم تو چاہتے ہو میں بے ہوش پڑی رہوں اور تم اکیلے مزے کرتے پھرو۔”

“ہائے میری حسرتیں ۔ “بازل نے ٹھنڈی آہ بھری اور اس پیشانی پر جھکا۔

“مجھے لگتا ہے آج میرا منہ گھس جائے گا ۔”امثال نے بازل کو اپنا ماتھا چومتے دیکھ کر کہا۔

” عزت راس نہیں ہے۔” بازل شوارمہ منہ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا

“اتنی صبح تمہیں کہاں سے مل گیا۔ “صدام نے پوچھا

“سپیشل بنوا کر لایا ہوں ۔”

“بھائی مجھے یہ لینا ہے ۔”امثال نے اس کو مزے سے کھاتا دیکھ کر شہریار کی طرف دیکھا ۔بازل نے جھٹ سے ہاتھ پیچھے کیا

“میں نہیں دوں گا ۔ ٹوئنی اپنی جگہ مگر یہ کمپرومائز نہیں کروں گا.”

“بچے یہ ابھی تمہارے لیے اچھا نہیں ہے .بعد میں کھا لینا۔” شہریار نے کہا

“گولی زدہ بندے کی کون سی پرہیز ہوتی ہے ؟بس ایک بائٹ لینی ہے ۔ “

“کمال ہے میں کہہ رہا ہوں کہ میں نہیں دوں گا پھر بھی اپنی ہی کیے جا رہی ہے ۔”بازل نے منہ بنایا ہاتھ البتہ ابھی بھی پیچھے ہی تھا ۔

شہریار نے اٹھ کر نہایت اطمینان اس کے ہاتھ سے شوارمہ نکالا اور امثال کی طرف بڑھایا ۔بازل منہ کھولے کبھی شوارمے کو دیکھتا تو کبھی امثال کو جو بڑے مزے سے کھا رہی تھی ۔ اس نے کینٹین والے کا ایک گھنٹہ تک سر کھا کر بنوایا تھا۔ اس کو اپنی طرف دیکھتا پا کر امثال نے آنکھ دبائی ۔وہ بے بسی سے اپنی ایک گھنٹے کی محنت کو اس کے پیٹ میں جاتا دیکھ رہا تھا ۔

کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے چیک اپ کر کہ ڈرپ چینج کی اور میڈیسنز دیں ۔دواؤں کا اثر تھا کہ وہ تھوڑی ہی دیر میں غنودگی میں چلی گئی ۔ڈاکٹرز کے بار بار کہنے پر کہ وہ رش کم کریں تو وہ سب واپس حویلی چلے گے ۔اس کے پاس شہریار اور بازل تھے ۔عدید بھی کام کا کہہ کر نکل گیا ۔ساریہ بیگم کو بھی انہوں نے کچھ دیر کے لیے گھر بھیج دیا کہ وہ ریسٹ کر کہ دوبارہ آجائیں ۔

اس کے سونے کے بعد بازل شہریار کو زبردستی کینٹین لے گیا تاکہ ناشتہ کر لے ۔عادل اندر آیا تو وہ گہری نیند سو چکی تھی ۔ ایک ہی رات میں اس کی رنگت نچڑ گئی تھی۔ اس کے گال پر بندھی پٹی دیکھ کر وہ لب بھینچتے ہوئے اس کے پاس جا بیٹھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کافی دیر سے بیٹھا اس کے بے ہوش وجود کو دیکھ رہا تھا ۔اسے پتہ نہیں تھا صدام نے کیسے بے ہوش کیا تھا اس لیے خاموشی سے بیٹھا اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔بلاآخر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو اس نے باہر کھڑے ملازم کو آواز دے کر اسے اٹھانے کو کہا

کیسے اٹھاؤں ۔

یار ناک اور منہ بند کر دو۔ خود ہی ہوش میں آجائے گا ۔اس نے اکتاہٹ سے کہا تو اس ملازم نے آنکھیں پھاڑیں

سر بوڑھا آدمی ہے مر جائے ۔ملازم نے ڈرتے ڈرتے کہا

ایسے ہی مر جائے گا ۔ابھی تو اسے بہت سا حساب دینا ہے ۔چلو جلدی سے اٹھاؤ ۔عدید نے ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے کہا تو اس نے اس کا ناک اور منہ بند کیا کچھ سکینڈ بعد ہی اس کے جسم میں حرکت ہونا شروع ہوئی تو عدید نے اسے جانے کا اشارہ کیا ۔

نواز عالم کی آنکھیں کھلیں تو خود کو کرسی پر بندھے پایا ۔سر کو جھٹکتے ہوئے اس نے پوری آںکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے عدید کرسی پر بیٹھا پایا ۔ نواز عالم کو یوں حیرانی سے اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ ہلکا سا مسکرایا

تم تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟ میں تو تھانے میں تھا اور وہ لڑکا ۔۔ وہ لڑکا کہاں ہے ۔ نواز عالم نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔اسے یاد تھا کہ وہ حوالات میں تھا جب سپاہی نے آکر اسے باہر آنے کو کہا کہ اس کو لینے آئے ہیں باہر آکر اس نے صدام سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اسے عافین نے لینے بھیجا ہے مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر وہ دونوں گاڑی سے نکلے.

اس انجان جگہ کو دیکھ کر وہ سوچ ہی رہا تھا کہ عافین کو اب کیوں فکر ہونے لگی جبکہ یہ سب اسی کا ہی تو کیا دھرا تھا کہ پیچھے سے اس کے سر پر کچھ چیز آ لگی ۔بے ہوش ہونے سے پہلے جو آخری بات اس کے زہن میں آئی تھی کہ وہ غلط لوگوں کے ہاتھ لگ چکا ہے اور اب ہوش آنے پر عدید اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔وہ اسے اچھے سے جانتا تھا بزنس کے سلسلے میں وہ اسے شہریار کے آفس میں مل چکے تھے

کیا بات ہے نواز صاحب ؟کس سوچ میں ڈوب گئے ؟اس کو اپنی طرف دیکھتا پا کر عدید نے کہا

تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو ؟جانتے ہوئے بھی وہ پوچھ رہا تھا

جانتے تھے نہ کہ ہماری بہن ہمیں اپنی جان سے بھی پیاری ہے ۔اس کے باوجود بھی تم نے اسے اغواہ کیا اس کو تکلیف دی ۔تمہاری وجہ سے میری بہن اس وقت ہسپتال میں ہے ،تمہاری وجہ سے میرا بڑا بھائی رویا ہے ،تمہاری وجہ سے میرا چھوٹا بھائی دکھی ہوا ۔

کبھی نہ خاموش ہونے والا بازل چار سے پانچ گھنٹے خاموش رہا ۔ میرے ماما بابا پریشان رہے ۔اس کے باوجود خود کی یہاں موجودگی سے انجان ہو۔ حیرت ہے ۔اس نے برف سے ٹھنڈے لہجے میں کہا ۔ اور نواز عالم جانتا تھا جتنے ٹھنڈے لہجے میں وہ بات کر رہا ہے اس کی سزا اتنی ٹھنڈی ہر گز نہیں ہوگئی

میری بات سنو تم ۔اس کو اٹھ کر اپنی طرف آتا دیکھ کر اس نے جلدی سے کہا

تمہارا جھگڑا عادل کے ساتھ تھا ۔اسی سے نمٹتے۔ میری بہن کو بیچ میں لانے کی کیا ضرورت تھی ۔تم نے بہت غلط کا اسے درمیان میں لا کر ۔تمہیں نہیں لانا چاہیے تھا ۔ اب کی بار اس سرد لہجے میں کہا ۔

مم مجھے پہلے نہیں پتہ تھا وہ تمہاری بہن ہے ۔اس کو پسٹل لوڈ کرتا دیکھ کر وہ گھگھیایا

تو جب پتہ چل گیا تھا تب ہی پیچھے ہٹ جاتے ۔عدید نے نشانہ لے کر ٹریگر دبایا ۔بے اختیار اس کے منہ سے چیخ نکلی اور انکی گردن ڈھلک گئی ۔گولی ان کے کان کو چھوتی ہوئی دیوار میں جا لگی تھی ۔ حیرانگی کی وجہ سے اب کے عدید کا منہ کھلا

واٹ ! یہ پاگل ہے کیا ۔عدید نے پہلے اپنے ہاتھ میں پکڑی پسٹل کو اور پھر نواز عالم کو گھورا جو خوف سے بے ہوش ہوچکے تھے

عجیب بندہ ہے کچھ کہنے سے پہلے ہی بے ہوش ہو چکا ہے۔ بڑ بڑاتے ہوئے وہ کرسی پر جا بیٹھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے سوئے دو گھنٹے گزر چکے تھے جب اسے اپنے چہرے پر کچھ قطرے گرتے محسوس ہوئے ۔ اس نے نظرانداز کرنا چاہا مگر مسلسل آنکھوں پر گرتا پانی اسے ڈسٹرب کر رہا تھا ۔اس نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو عادل کو آنکھیں بند کیے اپنی پیشانی پر سر ٹکائے بیٹھا دیکھا ۔

اس کو یوں روتا دیکھ کر اس نے اسے ٹوکا نہیں تھا ۔ اس کی زہنی حالت جانتی تھی ۔اور اپنے بارے میں اس کا پاگل پن بھی جانتی تھی اور اب تو وہ دہری تکلیف میں تھا ۔اس کی تکلیف کے ساتھ ساتھ بچے کو کھونے کا بھی دکھ تھا ۔جب سے اسے پتہ چلا تھا وہ بہت خوش تھا ۔پہلے سارا دن وہ کالز کرتی تھی اب وقفے وقفے سے وہ کرتا تھا کبھی اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتا تو کبھی اس کو کھانے پینے کے بارے میں ہدایت دیتا اکثر تو وہ جھلا کر کال ہی کاٹ دیتی ۔

وہ سب سوچتے ہوئے اس کی آنکھیں بھی رواں ہوچکیں تھیں ۔صبح جب اسے ساریہ بیگم نے اسے بتایا تھا تب وہ خود کو کنٹرول کر گئی تھی کہ اتنے لوگ پہلے ہی ٹینشن میں تھے مزید انہیں پریشان نہیں کر سکتی تھی ۔ اس نے بے اختیار ڈرپ والا ہاتھ اٹھا کر اس کے چہرے کو چھوا تو وہ آنکھیں کھولتا ہوا سیدھا ہوا

تم اٹھ گئی ۔کیسی ہو ۔اپنی آنکھیں صاف کرتا ہوا فکرمندی سے پوچھنے لگا

ٹھیک ہوں ۔۔ تم کیسے ہو ؟اس نے اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو اس نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بٹھایا اور کود اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا

مجھے کیا ہونا ہے اچھا بھلا تو ہوں ۔ اس کے ڈرپ والے ہاتھ کے نیچے تکیہ رکھتے ہوئے اس نے نرمی سے کہا تو اس نے سر ہلا دیا ۔کچھ دیر کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔کسی بھی انسان کی خاموشی بے سبب نہیں ہوتی ، درد آواز چھین لیتا ہے ۔ان کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ۔امثال کو لگا شائد وہ بے بی کے لیے ایسا بی ہیو کر رہا ہے ۔ وہ اتنی لمبی خاموشی سے گھبرا اٹھی تھی

ایم سوری ۔اس کو مسلسل اپنے ہاتھ پر لگے کنولے کو گھورتے دیکھ کر امثال نے بات شروع کی ۔

کس لیے؟ اس نے چونک کر اسے دیکھا جو پانی سے بھری آنکھیں لیے اسے دیکھ رہی تھی

میں بے بی کی حفاظت نہیں کر سکی تمہیں برا لگ رہا ہے ؟پلیز ناراض مت ہونا ۔۔ ایم سوری

نہیں ایسی بات نہیں ہے تم غلط سمجھ رہی ہو ۔

تو پھر مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے ہو اور نہ ہی میری طرف دیکھ رہے ہو

مجھے بہت گلٹی فیل ہو رہا ہے اس سب کا زمہ دار میں ہوں ۔میرے علم میں تھی یہ بات کہ وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے پھر بھی تمہاری حفاظت نہیں کی ۔ ایم رئیلی سوری ۔اس نے اس سے نظریں ملائے بغیر کہا تو امثال نے اسے دیکھا ۔وہ کیا سوچ رہا تھا اور وہ کیا سمجھ رہی تھی

“پہلے تو تم میری طرف دیکھ کر بات کرو۔ جانتے ہو نہ میں اپنے دونوں ہاتھ موو نہیں کر سکتی ۔ ورنہ خود ہی تمہارا رخ اپنی طرف موڑ لیتی ۔اور دوسری بات اس میں تمہاری غلطی نہیں تھی ۔

تمہارا پروفیشن ہی ایسا ہے ۔ کسی بھی وقت، کوئی کچھ بھی کر سکتا ہے اور میرے بارے میں ٹینشن نہ لو دیکھو میں بلکل ٹھیک ہوں ۔کچھ نہیں ہوا مجھے ۔اب تم دوبارہ یہ بات مت کرنا کہ تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔صیح ہے نہ۔”اس نے اس کا ہاتھ تھام کر ٹھہر ٹھہر کر کہا

“پتہ ہے ژلے میں بہت ڈر گیا تھا ۔اپنی زندگی میں کبھی اتنا خوف محسوس نہیں کیا ،جتنا کل رات کیا تھا ۔مجھے لگا کہ میں نے تمہیں کھو دیا ہے ۔ زندگی میں پہلی بار خود کو بےبس محسوس کیا ۔جب ڈاکٹر نے کہا کہ وہ کوئی امید نہیں دلا سکتے ۔پھر دریاب نے کہا کہ تمہیں اللہ سے مانگوں ۔اور خدا سے تمہیں مانگتے مانگتے میں رو پڑا تھا۔

ایک ایک لمحہ کئی دنوں پر محیط لگ رہا تھا ۔ دل چاہ رہا تھا ایک بار تمہیں دیکھوں مگر تمہیں اس طرح سے دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی ۔اپنی زندگی میں پہلی بار اللہ سے اتنی لمبی دعا مانگی اور دیکھو اللہ کو مجھ پر رحم آگیا اور اس نے تمہیں واپس لوٹا دیا ۔”آخر وہ مسکرایا

“اور جہاں تک رہی بے بی کی بات تو کوئی نہیں اللہ دوبارہ دے دے گا ۔میرے لیے تم سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے یہاں تک کہ میری سانسیں بھی نہیں۔”

“ایسے ہی پریشان ہوگئے تھے بھلا تمہیں چھوڑ کر کہیں جا سکتی ہوں ۔اب جلدی سے میری آنکھیں صاف کرو ۔خود میں کر نہیں سکتی اور تم نے مجھے رلا کر رکھ دیا ۔حد ہے یار۔” اس نے برا سا منہ بنایا تو وہ ہنس دیا

“سچ کہوں تو بہت کیوٹ ہو تم ۔”اس کی بھیگی آنکھیں صاف کرتے ہوئے عادل نے اس کی پیشانی چومی اور امثال ایک پرسکون سی سانس خارج کرتے ہوئے آنکھیں موندیں ۔اس کا چہرہ صاف کر کے وہ پیچھے ہٹا تو اس نے آنکھیں کھولیں

“پتا نہیں اس بیچاری کا کیا حال ہوگیا ہو گا ۔”اس نے اپنی پیشانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شرارت سے کہا تو وہ اس کے بینڈیج والی گال کو نرمی سے چھوتے ہوئے مسکرا دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سارا دن امثال کے ساتھ گزار کر نواز عالم کی خبر لینے تھانے پہنچا تو اسے خبر ملی کہ اسے وہاں سے لاتے ہوئے راستے میں ہی وہ فرار ہو گیا ہے ۔ سامنے کھڑے سپاہی کی زبان کی لڑکھڑاہٹ اور گھبراہٹ سے پل میں سمجھ گیا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کو اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ اپنے روم میں آیا۔

“دیکھو ریحان میں جانتا ہوں تم جھوٹ بول رہے ہو اصل بات بتاؤ ۔” اس نے بلا کی سی سختی سے کہا

“سس۔۔ سر اصل بات یہی ہے مجھے کیا پتہ۔ مجھے تو سر اور میڈم نے جیسے بتانے کو کہا میں نے بتا دیا ۔ “اس کے تیور دیکھتے ہوئے گھبراہٹ میں اس کے منہ سے نکلا۔ عادل مہبم سا مسکرایا

” یا تو تم میرے اختیارات نہیں جانتے یا پھر تمہیں اپنی جاب پیاری نہیں ہے جو یوں جھوٹ بول رہے ۔سچ سچ بتاؤ کیا

چھپا رہے ہو ورنہ ابھی کے ابھی جاب سے فارغ کروا دوں گا ۔”عادل نے اُسی لہجے میں کہا

Tum Jo Aye Zindagi Main novel Read online

Tum Jo Aye Zindagi Main novel Download Link

You may also like...

1 Comment

  1. […] Tum Jo Aye Zindagi Main Cousin Marriage Based Funny Novel By Shagufta Kanwal Season 02 […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *