Man Yaaram novel by Maha Gul
BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS, URDU NOVELS

Man Yaaram novel by Maha Gul (Download Complete Urdu Novels PDF)

Today, I am here to provide you Man Yaaram novel by Maha Gul. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.

Book Name: Man Yaaram
Author Name:  Maha Gul
Genre: Cousin marriage based novels, Horror Novels, Multiple Couples Based Novels, Suspense Based Novels.
Status: Completed

Man Yaaram novel by maha gul beautifully describes the intimacy of cousins love story which leads towards love marriage. This urdu novel pdf is written in a funny style that definitely engage the readers throughout the novel.

Maha Gul is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & real life stories. Maha Gul writes for young generation because she write according to the nerves of adults. Her writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.

Interesting Part Of Man Yaaram Novel By Maha Gul

آپریشن تھیٹر کا دروازا کھلنے کی آواز پر بالاج شاہ نے اپنی سرخ انگارا ہوتی آنکھوں کو اٹھائے باہر آتے ڈاکٹر کو دیکھا تھا—

“شاہ صاحب—گولی آپ کی بیوی کی کمر کو چھو کر گزری تھی—خون بہہ جانے اور شاک کی وجہ سے وہ بیہوش ہوگئی تھی—اب ان کی کنڈیشن پہلے سے بہتر ہے– انہیں ابھی روم میں شفٹ کر دیا جائے گا تو آپ ان سے مل سکتے ہیں—ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہتے قدم آگے بڑھائے تھے جبکہ صبغہ کے سہی سلامت ہونے کا سنتے بالاج کو اپنی روح میں سکوں اترتا محسوس ہوا تھا—

کچھ یاد آنے پر وہ سرعت سے پلٹا تھا—عائث حوریہ کو لے کر آیا تھا— اس کے سر پر چوٹ آئی تھی عائث بھی زخمی تھا اب صبغہ سے ملنے سے پہلے وہ عائث خان سے ملنے کی غرض سے اس ڈاکٹر کے آفس کے باہر آیا تھا جس نے عائث خان کو حوریہ کی کنڈیشن بتانے کے لیے بلایا تھا

کچھ دیر تو وہ عائث کے باہر آنے کا انتظار کرتا رہا مگر پھر خود ہی دروازا ناک کرتے اندر داخل ہوگیا

سامنے ڈاکٹرز کو رپورٹس دیکھتے اور عائث خان کو بے چینی سے ٹانگ جھلاتے دیکھ وہ عائث خان کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھتے عائث کی جانب متوجہ ہوا تھا

“ویسے جو حال تم نے میرے چہرے کا کیا تھا اس کے بعد تمہارا حال پوچھنا بنتا تو نہیں لیکن پھر بھی پوچھ رہا ہوں—زیادہ تو نہیں لگی—ٹھیک تو لگ رہے ہو لیکن پھر بھی ٹھیک ہو نا”—- کہنی کرسی کے بازو پر ٹکائے سر عائث خان کی جانب جھکائے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو عائث خان نے مٹھیاں بھنچتے—گھور کر بالاج شاہ کو دیکھا تھا—

“دیکھیں مسٹر عائث خان—آپ کی بیوی کو جو بھی اینجریز آئیں ہیں وہ ایکسٹرنل ہیں—ان کے جسم پر سر اور ماتھے کے علاؤہ کہی بھی انٹرنل یا ایکسٹرنل اور کوئی چوٹ کا نشان نہیں ہے—ماتھے پر لگنے والی چوٹ اتنی خطرناک نہیں ہے جتنی سر کے پچھلے حصے پر لگنے والی اور اوپر سے اتنی زیادہ بلیڈگ—

ہم نے ٹریٹمنٹ کردی ہے لیکن وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آرہی—کچھ ٹیسٹ بھی کروائیں ہیں—جن کی مطابق اگر وہ کچھ اور گھنٹے ہوش میں نا آئیں تو کومہ میں بھی جاسکتی ہیں—مس حوریہ کا دماغ ایک ہی جگہ سٹک ہوگیا ہے—وہ خود کو اس وقت سے شاید باہر نہیں نکال پارہی جب یہ حادثہ ہوا—

وہ منٹلی طور پر شاید کسی دباؤ شکار ہے—ان کا دماغ کوئی بھی امپروومنٹ شو نہیں کر رہا— ہم اپنی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ایک بار وہ ہوش میں اجائے تو انشاء اللّٰہ وہ بہت جلد ریکور کر جائیں گی”— فائنل بند کرتے پروفیشنل لہجے میں کہتا وہ عائث خان کے پیروں سے زمین کھینچ چکا تھا جبکہ بالاج شاہ سرخ پڑتی آنکھوں سے ڈاکٹر کی بات سنتے جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھتے آگے کو جھکا تھا—

“کیا مطلب ہے آپ کا—اگر وہ ہوش میں نا آئی تو کیا وہ ٹھیک نہیں ہوگی—ایسے کیسے وہ کومہ میں جا سکتی ہے—کس بات کے ڈاکٹر ہیں آپ کے ایک ایسے انسان کو بھی نہیں ٹھیک کر پارہے جسے صرف سر پر چوٹ لگی ہو—چوٹ گہری ہوگی زیادہ بلیڈگ ہوگئی تو ہم خون کا ارینج کر سکتے ہیں نا—

جتنا خون بہا ہے اس سے زیادہ اسے لگا دیں گے—چوٹ لگی ہے نا تو اچھے سے اسٹیچیز لگائے وہ سب کرے جو کرنا چاہئے لیکن اسے بچاؤ ڈاکٹر اگر تم خود بھی بچے رہنا چاہتے ہو—اگر وہ کومہ میں گئی تو میں تمہیں تمہاری ٹیم سمیت پتال میں بھیج دوں گا سمجھے تم”— سیاہ گہری آنکھوں میں آگ سی تپش لیے غرا کر کہتا وہ ڈاکٹر کے اوسان خطا کر چکا تھا—

“اور تم خان صدمے سے باہر آؤ – سن نہیں رہے کہ وہ منٹیلی طور پر کسی دباؤ کا شکار ہے – اس ڈاکٹر نہیں سنی کہ وہ ہوش میں نا آئی تو کومہ میں بھی جا سکتی ہے”— عائث خان کی جانب جھکتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہتے بالاج شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر ڈالے

“چلاؤ مت بالاج—میری بیوی ہے وہ—مجھ سے زیادہ اس کی تکلیف کو کوئی نہیں محسوس کر سکتا سمجھے تم “— کپکپاتے ہاتھوں کو ٹیبل کی سطح پر رکھتے—کھڑے ہوتے سپاٹ لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے خاموش نظروں سے عائث خان کی سرخ پڑتی نم آنکھوں کو دیکھا تھا—

ابھی عائث خان اپنی بات کہہ کر پلٹتا کہ بالاج شاہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اسے گلے سے لگا گیا تھا

“ٹینشن نا لو خان—کچھ نہیں ہوگا اسے—ٹھیک ہو جائے گی”— عائث خان کے ساتھ ساتھ بالاج شاہ بھی اپنی اس حرکت پر جی جان سے حیران ہوا تھا مگر سر جھٹکتے پیچھے ہوتا وہ ایک نظر عائث خان کو دیکھتے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—

_______

کمرے کا دروازا کھول کر وہ دبے قدموں سے اندر داخل ہوا تھا—نظریں ہوش و خرد سے بیگانہ لیٹی حوریہ شاہ کے وجود سے ٹکرائی تو عائث خان چھوٹے چھوٹے قدم لیتا بیڈ کے قریب جا کھڑا ہوا تھا—

خاموش نظروں سے حوریہ شاہ کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھتے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تھا—انگلیوں کے پوروں سے حوریہ کے چہرے کے نقوش کو چھوتے بیڈ پر ہی جگہ بناتے وہ بیٹھا تھا—

“میں جانتا ہوں تم کس ذہنی دباؤ کا شکار ہو—ساری غلطی میری ہے—مجھے ناراض ہو کر نہیں جانا چاہیے تھا—جانتا بھی تھا کہ تم کتنی سینسیٹیو ہو—لیکن پھر بھی چلا گیا تھا—لیکن میں کیا کرتا—

یہ بات میرے لیے ناقابل برداشت ہے حوریہ کے کوئی میری بیوی کے ماضی کو استعمال کر کہ میری نظروں میں گرانے کی کوشش کرے—تم سے کہا تھا کہ جو بھی ہے مجھ سے شئیر کرو مگر تم نے نہیں کیا—تم سے بہت محبت ہے— تھوڑا انسکیور ہوگیا تھا میں— تمہیں کھو دینے کا احساس رگ و پے میں سرایت کرنے لگا تھا—

ہر محبت ہر رشتہ مجھے ادھورا ملا تھا لیکن تمہیں تمہارے ساتھ کو مکمل چاہتا ہوں—مرد ہوں تو شاید تھوڑی آنا بھی آڑے آگئی کہ ناراض ہو کر گیا تو سہی کوئی کنٹیکٹ بھی نہیں کیا—لیکن یقین جانو تم پر شک نہیں کیا—تمہیں صرف چاہا ہے—

اور خود سے بڑھ کر چاہا ہے—غلطی ہوگئی ہے تو معافی بھی مانگ رہا ہوں—اگر کہو گی کہ ہاتھ جوڑ کر مانگوں یا کان پکڑ کر تو وہ بھی کر جاؤں گا—یا جو بھی تم کہو—لیکن پلیز ہوش میں آجاؤ—ایسے سزا دے کر مجھے میری نظروں میں نا گراؤ— میں نا خود سے نظریں ملا پاؤں گا نا پھوپھو سے –

میں کیسے ان کا سامنہ کروں گا کہ جنہوں نے اپنی اتنی نازو پلی بیٹی میرے حوالے کی وہ میری وجہ سے اس حال میں ہے—تم ہوش میں آکر جو سزا دو گی میں قبول کر لوں گا—لیکن پلیز ہوش میں آجاؤ”—ہاتھ حوریہ شاہ کے گال پر رکھے ماتھا حوریہ شاہ کے پٹی لگے ماتھے سے نرمی سے ٹکاتے نم لہجے میں سرگوشی نما لہجے میں کہتے نجانے کتنی دیر وہ بےاواز روتا رہا تھا—

مگر حوریہ شاہ کے وجود میں کوئی حرکت نا دیکھ عائث خان لب بھنچے پیچھے ہٹا تھا—نرمی سے ہونٹ حوریہ شاہ کے ماتھے پر رکھتے— گہری نظر حوریہ شاہ کے چہرے پر ڈالتے عائث خان وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—

________

ڈیڑھ ماہ بعد:-

انہیں بھولیں مت— لیکن اس بات کو قبول کر لیں لالا مر گئیں ہیں وہ—اب خوش ہو جائیں بدلہ—انتقام—دشمنی—نفرتوں کا یہ کھیل سب ختم ہو گیا— اب کوئی دشمنی نہیں رہی—اب ہم سب ساتھ ہیں”—ارمغان خان کے سمجھانے والے انداز پر ضرغام خان نے نیلی آنکھوں میں وحشت لیے اسے دیکھا تھا جسے دیکھتے ارمغان خان نے بے ساختہ تھوک نگلا تھا

نہیں—وہ مری نہیں– ،،مجھے مار گئی ہے وہ— اس خان کو ختم کر دیا ہے—

مجرم کو معاف کر کہ مجھے سزا سنا دی—مجھ سے میری روح چھین کر—سینے سے دل کو نوچ کر اپنے قدموں تلے روند ڈالا—ہر انتقام—ہر بدلہ— مجھ سے لیا ہے— یہ تنہا جینے کی سزا بھی میرا نصیب کر دی”—- سر جھکائے سرد لہجے میں کہتے ضرغام خان نے پلٹ کر دیوار پر اتنی زور سے ہاتھ مارا تھا—کہ ارمغان خان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب وہ معاملے کو کیسے سنبھالے

“سوچ لو خان—تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی—مرتے دم تک معاف نہیں کروں گی—تم پر سارے حق ہے اور تمہیں پر جتاوں گی—پھر چاہے جیسا بھی حق ہو—کیونکہ تم میرے—تم پر عشق و نفرت کے سارے حق میرے—انہیں کب کیسے استعمال کرنا یہ سب اختیارات بھی میرے”

“کروالو جتنا انتظار کروانا ہے—جب میں کرواؤں گی نا تب پتہ چلے گا خان کہ انتظار کرنا کتںا اذیت ناک ہوتا ہے”——کانوں میں جان لیوا سرگوشی نما عقیدت شاہ کی آواز گونجی تو حویلی کے سناٹوں میں ضرغام خان کا درد بھرا قہقہہ گونجا جیسے سنتے ساتھ کھڑے ارمغان خان نے کرب سے آنکھیں میچتے—گہری سانس فضا کہ سپرد کی-

وہ یہ جھوٹ ضرغام سے بولنے پر مجبور تھا کیونکہ اس کا سالا صاحب اس کی بیوی کو نجانے کہاں چھپائے بیٹھا تھا—کبھی تو ضرغام کی حالت دیکھتے اس کا دل کرتا کہ وہ اسے بتا دے کہ عقیدت زندہ ہے لیکن یہ بات اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتی کہ یہ سب عقیدت کے کہنے پر ہو رہا ہے

ڈیڑھ ماہ پہلے جب وہ لوگ گاڑی تک پہنچے تو وہ پوری طرح سے آگ کی لپیٹوں میں تھی—جسے دیکھتے یہ صاف اندازا لگایا جا سکتا تھا کہ گاڑی میں موجود کسی کا بھی بچنا نا ممکن ہے—

ضرغام خان ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتا زمین بوس ہوا تھا—جس پر وہ اسے ہاسپٹل لے آئے تھے—پیچھے پولیس نے کروائی کی تو گاڑی سے ایک لاش ہی برآمد ہوئی تھی جو کہ ویلیم کی تھی—عقیدت گاڑی میں نہیں تھی—وہ کہا تھی یہ ارمغان کو کسی نے نہیں بتایا—ضرغام کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا اسے پانچ دن بعد ہوش آیا تھا تو وہ خاموشی سے چھت کی دیواروں کو گھورتا رہتا تھا—وہ شاید مان چکا تھا کہ عقیدت مر چکی ہے—پھر باقی سب نے بھی اس کے سامنے ایسے ہی شو کیا تھا—

حوریہ کو دوسرے ہی دن ہوش آگیا تھا—لیکن پھر نجانے بہرام شاہ ان سب کو کہاں بھیج چکا تھا—نا حوریہ تھی نا صبغہ اور نا ہی سلوی—

“تمہیں لگتا ہے کہ میں بیوقوف ہوں”— ایک دم سے لہجے کی ٹون بدلی تھی— جس پر ارمغان خان نے چونک کر ضرغام خان کو دیکھا تھا—ضرغام خان کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے ارمغان خان نے ناسمجھی اسے دیکھا تھا—

“اگر ڈیڑھ مہینے سے میں تم لوگوں کا ڈرامہ دیکھ رہا ہوں تو صرف اور صرف اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ عزت سے میری بیوی میرے حوالے کر دو—اگر میں خود اس تک پہنچا تو تم سب کا حشر کر دوں گا چھوٹے خان”—دبے دبے لہجے میں چلا کر کہتا وہ ارمغان خان کی سانسیں خشک کر گیا تھا

“کک—کیا مطلب لالا—کونسا ڈرامہ—ہم آپ سے جھوٹ کیوں بولے گا”— ہیزل ہنی آنکھوں اور پٹھانی نقوش والے چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سجاتے جواب دیا تو ضرغام خان نے گھور کر اسے دیکھا تھا—

“میری بیوی مر گئی—تم لوگوں نے اسے دفنا بھی دیا—لیکن میرا انتظار نہیں کیا کہ میں اس کے جنازے میں شامل ہو جاؤ—اسے دفنا کر تم لوگ دوبارا اس کی قبر پر جانا بھی بھول گئے—اس پر جان چھڑکنے والا بھائی اپنی بہن کے مرنے کے کچھ دن بعد ہی ہاسپٹل جا کر بیٹھ گیا—

ایک بار بھی اپنی بہن کی قبر پر جانے کی توفیق نہیں ہوئی—چلو بھائی کو چھوڑو اس کی بہن اور ماں کا دل بھی نہیں کیا ہوگا—چلو مان لیا کہ مرنے والی تو مر گئی قبر پر جا کر کیا کرنا– اور میرے علاؤہ داجی کو بھی بتا دیتے کہ ان کی نواسی مر چکی ہے تا کہ وہ بھی جا کر اس کی قبر پر فاتحہ پڑھ آتے–

لیکن تم لوگوں کو میں اتنا بیوقوف لگتا ہوں—کیا میں نہیں جانتا کہ پولیس کو وہاں سے ایک ہی لاش ملی تھی— تم لوگوں کو کیا لگتا تم لوگ یہ بات نہیں بتاؤ گے تو میں جان نہیں سکوں گا – اور اب جاؤ اپنے سالے کے پاس اور اس سے کہو کہ ضرغام خان کہہ رہا ہے کہ میری بیوی جلد از جلد میرے حوالے کر دیں”—

صوفے سے اپنی اجرک اٹھا کر کندھوں پر ڈالتے سرد لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو ارمغان خان کا سر میکانکی انداز میں ہلا تھا دل میں خود کو دو کوستے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے—

_________

تم جانتے ہو نا عقیدت کون ہے—اور اپنے بہن بھائیوں کو لے کر کتنی جذباتی ہے تمہیں یہ جھوٹی خبر نہیں بھیجنی چاہیے تھی” -بہرام شاہ نے دونوں بازو ٹیبل کی سطح پر ٹکاتے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا تھا

“ایک باغی—شہید کی بیٹی—ایک مسیحا کی بہن—مجرموں کا زوال—دشمنی اور نفرت کے کھیل کا ایک اہم مہرہ—اپنے جانی دشمن کی محبوب بیوی—اپنے دشمنوں کو دھول چٹانے والی—گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے خوابوں کے جہان جانے والی—انصاف کی راہ میں مر مٹنے والی”—بالاج شاہ نے سر جھٹکتے ابھی بات ہی مکمل کی تھی—کہ دھاڑ کی آواز سے آفس کا دروازا کھلا

“جب اتنا کچھ جانتے ہو تو ہمت بھی کیسے کی ذلیل انسان میری بہن کو چھونے کی “— آفس کے روم میں عقیدت شاہ کی دھاڑ کے ساتھ گولی کی آواز گونجی تو سامنے بیٹھے شخص نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے بالاج شاہ کے بازو سے بھل بھل بہتے خون کو دیکھا

جبکہ اس اچانک نازل ہونے والی افتاد پر وہ حق دق سا کبھی اپنے جان سے عزیز بھائی کو بازو پکڑے درد سے کراہتے دیکھ رہا تھا اور کبھی چہرے پر خونخوار تاثرات سجائے کھڑی اپنی بچپن کی دوست—ہمراز عقیدت شاہ کو

جب کہ گولی چلنے کی آواز پر باہر افراتفری مچ چکی تھی

اب تک تو انہیں عادت ہو جانی چاہئے تھی کہ جب بھی یہ خان اور شاہ آمنے سامنے آتے تھے تو وہ آفس پھر آفس نہیں میدان جنگ بن جاتا تھا

مگر وہ بچارے بھی ہر بار ہونے والے نئے دھماکے پر بھونچکا رہ جاتے تھے

“یہ کیا کِیا ہے عقیدت—پاگل ہو کیا”—بالاج شاہ کی جانب بڑھتے بہرام شاہ نے غصے میں چلا کر کہا تو عقیدت نے خونخوار نظروں سے بالاج شاہ کے چہرے پر پھیلی شیطانی مسکراہٹ کو دیکھا تھا—

“کہا تھا نا کہ بالاج شاہ خود چل کر نہیں جاتا—لوگ اس تک خود آتے ہیں کیونکہ وہ انہیں خود تک آنے پر مجبور کرنا بہت اچھے سے جانتا ہے—تمہیں یہاں چچی کی برتھ ڈے کے لیے بلانا تھا – بس پھر یہ کام بالاج شاہ کے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا”—بازو پر بایاں ہاتھ سختی سے جمائے—شوخ لہجے میں کہا تو عقیدت کا دل کیا آگے بڑھ کر بالاج شاہ کا سر پھاڑ دے

“ہاں اب اپنے اس دائیں ہاتھ کی مرہم پٹی بھی کروالینا”— عقیدت کے دانت کچکچا کر کہتے پر بہرام شاہ نے تاسف سے ان دونوں کو دیکھا تھا—

“اب تم دونوں بس کرو—اور تم چلو میرے ساتھ ہاسپٹل—اور تم میرے آفس میں بیٹھو آرہا ہوں میں”— بہرام شاہ نے سخت لہجے میں بیک وقت دونوں سے مخاطب ہو کر کہا اور بالاج شاہ کو بازو سے تھامے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے

ائی پیڈ پر نظر آتی ان سب کی فیملی پکچر کو بند کرتے بالاج شاہ نے سر کرسی کی پشت سے ٹکایا تھا—

جب اسے پتہ چلا کہ جس گاڑی بری طرح جل چکی ہے اور عقیدت اس میں تھی تو بالاج شاہ کو تب احساس ہوا تھا کہ اس کے گرد موجود یہ رشتے کس قدر اہمیت رکھتے تھے اس کی زندگی میں

صرف وہی جانتا تھا کہ وہ اس وقت چاہے جتنے بھی حوصلہ کا مظاہرہ کر رہا تھا—جس قدر وہ خود کو نارمل ظاہر کر رہا تھا ویسا کچھ بھی نہیں تھا—ایک طوفان تھا جو بالاج شاہ کو اپنے سینے میں اٹھتا محسوس ہو رہا تھا—پہلے صبغہ پھر حوریہ اب عقیدت بالاج شاہ کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہو رہا تھا—

لیکن بعد میں جب پولیس نے کاروائی کی اور بتایا کہ وہاں صرف ایک ہی لاش تھی وہ بھی مرد کی تو انہیں کچھ سکوں ہوا تھا—

وہ ہاسپٹل ہی تھا جب بہرام نے عقیدت کے بارے میں اس بتا کر خاموش رہنے کا کہا تھا جس پر وہ بعد میں باز پرس کرنے کا سوچتے خاموشی اختیار کر گیا تھا–

_____________

آپ جانتے ہیں کیا لالا—دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے—چہرہ جھکائے—نظریں اپنی گود میں دھرے بائیں ہاتھ کی پشت پر لگی کینولا پر جمائے—خشک ہونٹوں کو تر کرتے زخمی لہجے میں کہا تو کمرے میں پھیلی تیر کی طرح چبھتی خاموشی میں ارتعاش پیدا ہوا

جبکہ حوریہ شاہ کے سوال پر حدائق شاہ نے گہری سانس بھرتے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے

“تم حوریہ شاہ کو—حدائق شاہ کی بہن—اس دنیا میں کوئی شخص اس قدر ضروری نہیں کہ تم اسے یقین دلاؤ”— حدائق شاہ کے سخت تنبیہہ کرتے لہجے پر حوریہ کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ رینگ گئی

“نا لالا—یقین ہی تو ضروری ہے—محبت ہو جائے تو یقین کا ہونا ہی تو ضروری ہے—

محبت میں تو دنیا کو فراموش کردیتا ہے انسان یہ تو میری اپنی ذات ہے کہ میں کون ہوں—میں صرف حوریہ شاہ ہی تو نہیں ہوں—دو لوگ محبت کر لیں تو ان پر یقین کرنا واجب ہو جاتا ہے—یقین نا ہو تو محبت میں مانگی گئی دعا بھی رد ہو جاتی ہے”—مدھم لہجے میں کہتے رک کر گہری سانس بھرتے جیسے آنسوؤں پر بند باندھنے کی کوشش کی

دنیا کا سب سے مشکل کام کسی یقین حاصل کرنا ہے—اس کا اپنی ذات پر بھروسہ حاصل کرنا ہے کہ آپ جو کہے وہ مان لے اور جو آپ نا کہہ سکے اسے جان لے—کتنا مشکل ہوتا ہے نا کسی کو اس بات کا یقین دلانا کہ ایسا کچھ نہیں تھا یا ہے—تم بہت قیمتی ہو یا کوئی اور رتی برابر بھی—

یا اس بات کا یقین دلانا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں چاہا تھا یا پھر کہ وہ سب ہوگیا جو میں نے چاہا نہیں تھا—اس بات کا یقین دلانا کہ نا دل میں کھوٹ تھی نا ہی نیت میں—اسے یہ کہنا کہ تم سے پہلے سب سیراب تھا—لیکن اس سیراب کا پیچھا نہیں کیا تھا—تم حقیقت ہو—اور حقیقت سے بڑھ کر کچھ نہیں—یا اسے یہ کہنا کہ”— سپاٹ نم لہجے میں روانی میں کہتے ہونٹ لرزے تو اپنے کمزور پڑنے پر بے بسی سے آنکھیں میچی تو گرم سیال آنکھوں سے بہتا چہرہ کو تر کر گیا

جبکہ سامنے صوفے پر بیٹھے حدائق شاہ نے غم و غصّے سے بری طرح پہلو بدلا تھا—اج ہی اسے ہوش آیا تھا اور اس نے رائے سے ملنے سے انکار کرتے حدائق شاہ کو بلایا تھا اور اب وہ ایسی باتیں کرتی حدائق شاہ کے دل کو تکلیف پہنچا رہی تھی–

سر اٹھا کر سرخ نیلی خون چھلکاتی آنکھوں سے حوریہ شاہ کے کپکپاتے وجود کو دیکھتے وہ جھٹکے سے اٹھتا دروازے کی جانب بڑھا کہ حوریہ کے اگلے لفظوں پر اپنی جگہ منجمد ہو گیا

“کہ وہ یقین نا کرے—لیکن کردار پر شک نا کریں—ہمیں بد”— اس سے پہلے حوریہ شاہ اپنی بات مکمل کرتی کہ حدائق شاہ آج عائث خان اور بالاج شاہ کو جان سے مار دینے کا ارادہ کرتا کہ ان دونوں کی وجہ سے اس کی بہن اتنی اذیت سے گزر رہی تھی— جھٹکے سے دروازا کھولتے—وہاں سے نکلتا کہ حوریہ شاہ کی آواز پر پلٹا تھا

“مجھے یہاں نہیں رہنا لالا—مجھے یہاں سے کہی بھیج دیں — میں فلحال ان سب سے چیزوں سے فرار چاہتی ہوں—آپ اگر عائث یا بالاج سے کچھ کہنے جا رہے تھے تو اس کی ضرورت نہیں—پہلے ہی سب بہت مشکل سے ٹھیک ہوا ہے— میں بس ابھی کسی کا سامنہ نہیں کرنا چاہتی”— کرسٹل گرے آنکھوں کو حدائق شاہ کے سرخ پڑتے چہرے پر ٹکائے جواب دیا تو حدائق شاہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا

______

بالاج شاہ اپنی شرٹ کے کف فولڈ کرتا تیزی سے سیڑھیاں اترتے لاونج میں آیا تھا کہ تبھی باہر سے حدائق اور عائث خان آتے ہوئے دکھائی دیے تھے

“بہرام سے بات منوانے کے اور ہزار راستے تھے—اس میں امتثال کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں تھی”—عائث میں نے بالاج شاہ کے سامنے آتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے کوفت سے کندھے آچکاتے گہری سانس لی تھی—

“وہ میرا بھائی ہے—اور میں اسے بہت اچھے سے جانتا ہوں ہم چاہے یہاں الٹے لیٹ کے اس ناگن ڈانس کر کہ بھی دکھا دے گا نا تب بھی وہ ہماری بات نہیں مانے گا—

میں تو یہ ڈائیلاگ بھی نہیں بول سکتا کہ منتیں تو کبھی میں نے اپنے باپ کی بھی نہیں کی کیونکہ اس کی نوبت ہی نہیں آئی اس سے پہلے ہی وہ(شوخ لہجے میں کہتے لہجہ یکلخت ہی دھیمی افسردہ ہوا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ اپنی ٹون میں آیا تھا)—لیکن میری حق حلال کی بیوی کو چھپایا ہوا ہے تو اب بالاج شاہ کا اتنا تو بنتا ہے اب اپنی بیوی واپس مانگنے کے لیے منتیں کروں”—

بالاج شاہ کی تمہید پر عائث اور حدائق نے دانت کچکچا کر اسے گھورتے قدم ڈائننگ روم کی جانب بڑھائے تھے جہاں بہرام شاہ کھانا کھا رہا تھا—

وہ تینوں آگے پیچھے ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے تو بہرام شاہ نے پلیٹ سے نظریں ہٹا کر انہیں دیکھا تھا—ان تینوں کو دیکھتے ایک نرم مسکراہٹ اچھالتے دوبارا کھانے کی جانب متوجہ ہوا تو حدائق شاہ نے گھور کر بہرام شاہ کو دیکھتے کرسی کھسکائی تھی—

“کھانا ماں نے بنایا ہے”— سالن کا ڈونگا اپنی جانب کھسکاتے سادہ سے لہجے میں استفسار کیا تو بالاج کی بے تکی بات پر بہرام شاہ نے تاسف سے سر ہلایا تھا—

“نہیں محلے والوں نے بھیجا ہے”—طنزیہ لہجے میں کہتے ٹشو سے ہاتھ صاف کیے تو بالاج شاہ نے ڈونگا پٹکنے کے انداز میں واپس رکھا تھا

“دیکھیں لالا—ہمیں ہماری بیویاں واپس چاہئے— آج ابھی اور اسی وقت”— تپے تپے لہجے میں چلا کر کہا تو بہرام شاہ نے آبرو آچکا کر اسے دیکھتے باقی دونوں کو بھی دیکھا تھا جو خاموش نظریں بہرام شاہ پر ٹکائے بیٹھے تھے

“بالاج کا تو بنتا ہے کہ صبغہ اسے چھوڑ جائے—لیکن میری بیوی کیوں چھوڑ کر گئی ہے مجھے— مجھ کس بات کی سزا دے رہو تم—جب کہ میں اپنی غلطی تک نہیں جانتا”— حدائق شاہ نے مٹھیاں بھنچتے استفسار کیا تو بہرام شاہ ان تینوں کو سنجیدہ نظروں سے دیکھتے پیچھے کو ہوتے کمر کرسی کی پشت سے ٹکا گیا

“صبغہ کا کہنا ہے کہ وہ بالاج کی شکل کچھ مہینوں تک نہیں دیکھنا چاہتی—کیونکہ اگر وہ مزید اس سڑے ہوئے بدمزاج شخص کے ساتھ رہی تو اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے گی—یہ تھے تمہاری بیوی کے الفاظ (انگلی سے بالاج شاہ کے جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے اپنی اتنی سرے عام تعریف پر مٹھیاں بھنچی تھی)—

اور ڈاکٹر صاحب آپ کی بیوی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب سے کہوں کہ دل لگا کر اپنی ڈاکٹری کا کام کریں—بیوی چاہے جائے بھاڑ میں—اگر آپ اپنے ہاسپٹل کو کسی دوسرے ڈاکٹرز کے حوالے کر کہ اپنی بیوی کے لیے وہاں پہنچ جاتے تو ضرور پیچھے ہاسپٹل میں قیامت آجانی تھی

—اس لیے وہ نہیں چاہتی کہ آپ جناب اپنے ہاسپٹل سے غفلت برتے—اور ہو سکے تو اپنے رہنے کا انتظام بھی وہی کر لے—تو شاید وہ واپس آنے کا کچھ سوچے—اور رہے آخر میں آپ خان صاحب تو آپ کی بیوی نے کوئی پیغام دینا بھی ضروری نہیں سمجھا”— اپنی بات کہہ کر ایک نظر تینوں کی شکلوں پر ڈالتے کرسی سے اٹھا تھا—

“یہ بھی بتا دیں کہ میری بیوی نے کیا پیغام دیا ہے”—ارمغان خان کی شکوہ کناں آواز پر بہرام سمیت ان تینوں نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا جو منہ پھلائے وہاں آتا کرسی گھیسٹ کر بیٹھا تھا—

“تمہاری بیوی کا کہنا ہے کہ تم شادی کے بعد اسے کہہ گھمانے نہیں لے کر گئے—اب اس کی بہنیں جا رہی ہے تو اس کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اس گرلز ٹائم کو اچھے سے انجوائے کرے”— بہرام شاہ کے کندھے آچکا کر کہنے پر بالاج شاہ نے گھور کر اسے دیکھا تھا

“اور اب آپ بھی شاہ صاحب اپنی بیوی کا پیغام سن لیں—ان کا کہنا ہے کہ جب تک آپ شرافت سے ہم سب کو ہماری بیویوں کے بارے میں بتا نہیں دیتے وہ بھی گھر واپس نہیں آنے والی— اب آپ اگر خان حویلی جائے گے انہیں لینے جہاں وہ صبح سے گئیں ہیں تو وہ آپ کو وہاں نہیں ملے گی— اور آپ اسے ڈھونڈ بھی نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنی مرضی سے چھپی ہے—

اور میری بہن تب تک سامنے نہیں آئیں گی جب تک آپ ہمیں حوریہ لوگوں کے بارے میں بتا نہیں دیتے کہ وہ کہاں ہیں”— عائث خان نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو بہرام شاہ نے ہونٹ بھنچتے اسے دیکھا تھا اور پھر گہری سانس بھرتے سر جھٹکا تھا

“میں اپنی بہنوں سے مشو”—اس سے پہلے بہرام اپنی بات مکمل کرتا کہ حدائق شاہ نے اس خاموش کروایا تھا—

“یہ کرنے کا سوچنا بھی نہیں—تم صرف ہمیں ایڈریس بتاؤ—باقی کیا کرنا ہے وہ ہمارا مسئلہ ہے”— دو ٹوک لہجے میں کہتے وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا اس کے پیچھے ہی عائث خان بھی

“ضرغام لالا کی بیوی کا بھی پیغام ہے تو بتا دے— پیغام چھوڑیں اب لوکیشن ہی بتا دیں—ورنہ امتثال ہم سے زیادہ ان کہ سگی ہے—باقی لالا آپ سمجھدار ہیں”— پلیٹ میں کھانا نکالتے کندھے آچکا کر کہا تو بہرام شاہ ماتھا مسلتے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے—

“تمہارے پاس نیٹ ہے تو ہاٹ سپاٹ دینا”—بالاج شاہ نے موبائل پر انگلیاں چلاتے سادہ سے لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے سر اثبات میں ہلایا تھا

“آگئے اوقات پر”— ارمغان خان کی بات پر بالاج شاہ کا پانی کے گلاس کی جانب بڑھتا ہاتھ ساکت ہوا تھا وہ ارمغان خان سے اس قدر بدتمیزی کی توقع نہیں کرسکتا تھا—

جبکہ بالاج شاہ کی نظریں محسوس کرتے ارمغان خان نے اس کی جانب دیکھا تھا اور پھر بات سمجھ آنے پر کھسیانی سی ہنسی ہنستے نفی میں ہلایا تھا—

“نہیں لالا جو آپ سمجھ رہے وہ نہیں – ڈیوائس کا نام ایسے سیو کیا”—ارمغان خان کی بات پر بالاج شاہ نے تاسف سے سر جھٹکا تھا

“پاسورڈ تو بتاؤں چھوٹے خان”—

“فضول لوگ دور رہیں”—بالاج شاہ کی جھنجھلائی آواز پر بریانی کا چمچ میں منہ رکھتے جواب دیا تو بالاج شاہ کو تو مانو دماغ ہی گھوم گیا تھا خود پر ضبط کرتے جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا—

“لالا یہ پاسورڈ تھا”—بالاج شاہ کو کھڑے ہوتے باہر کی جانب بڑھتے دیکھ پیچھے سے آواز لگاتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے پلٹ کر گھور کر ارمغان خان کو دیکھا تھا

“اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ چھوٹے خان – اور یہ فضول پاسورڈ اور ڈیوائس نیم چینج کرو”—سخت لہجے میں کہتے وہ باہر کی جانب بڑھا تھا-

دوسری جانب اپنے روم میں بیٹھے بہرام شاہ کو اگر پتہ ہوتا کہ اس کی بیوی داجی سے ملنے جانے کے بہانے یہ سب کرنے والی ہے تو وہ اسے روم سے بھی نا نکلنے دیتا لیکن خیر اپنی بیوی سے بعد میں نمٹنے کا سوچتے وہ موبائل نکالتے ان سب کو ایڈریس

سینڈ کرنے لگا تھا—

اپنے موبائلز پر ہوتی میسج کی رنگ پر ان سب نے سرعت سے بہرام شاہ کا میسج دیکھا تھا—اور وہاں لکھی لوکیشن کو دیکھتے ان سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی تھی—

Man Yaaram Novel By Maha Gul Read Online

Man Yaaram Novel By Maha Gul Download PDF

We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.

Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *