Ishq e Aatish novel By Sadia Rajpoot
BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS, URDU NOVELS

Ishq e Aatish novel By Sadia Rajpoot – Download PDF Or Read Online

In this post I am here to provide you Ishq e Aatish novel By Sadia Rajpoot novel romantic urdu novel. You can read online or download according to your choice.

Book Name: Ishq e Aatish
Author Name: Sadia Rajpoot
Genre: Suspense based, romantic based, love story based, rude hero based.
Status: Completed

Ishq Aatish novel by sadia rajpoot is one of the heart-touching Urdu novels that is a mixture of love, sacrifice and emotions.

Sadia Rajpoot is a famous urdu writer. She has written many interesting stories in the world of Urdu Adab.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels.

Interesting Part Of Ishq E Aatish Novel By Sadia Rajpoot

وقت اپنی دھیمی رفتار سے آگے بڑھتا رہا، یہ دیکھے بغیر کہ پیچھے کیا کچھ رہ گیا. ان گزرتے سالوں میں عبداللّٰہ گاؤں والوں کے لیے ہر دلعزیز ہوگیا تھا. حالانکہ گاؤں والوں کو اب بھی اسکا مجذوب کی سی حالت میں گاؤں آنا یاد تھا مگر اس یاد میں بھی تعظیم تھی.

اب مولویٰ صاحب تہجد کے لیے خود نہیں اٹھتے بلکہ عبداللّٰہ انہیں جگاتا تھا. پھر انکے ساتھ ہی تہجد کی نماز ادا کرتا. اسکے بعد مولویٰ صاحب جائے نماز پر بیٹھے ذکر کرتے رہتے اور جب فجر کی اذان دینے مسجد پہنچتے، عبداللّٰہ جھاڑو لگا کر دریاں بچھا چکا ہوتا. نماز کے بعد تلاوت عبداللّٰہ کا معمول تھی. وہ خوش الحافی سے تلاوت کرتا.

مولویٰ صاحب پاس بیٹھے جذب کے عالم میں سنتے جاتے. اسکی آواز میں بہت سوز تھا. جس کے کانوں میں بھی اسکی آواز جاتی، وہ رک جاتا. پھر جب تک وہ تلاوت ختم نہ کرلیتا، اپنی جگہ سے ہل نہیں پاتا. پھر وہ دونوں اپنی دنیاوی ذمہ داریوں کی طرف لوٹ جاتے مگر ان میں الجھ کر نماز سے غافل نہ ہوتے.

عصر کی نماز کے بعد عبداللّٰہ، حیدر لوہار کی دکان پر جانے کے بجائے گھر آ جاتا. کیونکہ گاؤں کے بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دینا اب مکمل طور پر اسکی ذمہ داری تھی. انہی بچوں کے درمیان وہ بچہ بھی بیٹھا فیض پایا کرتا، جسے اب عبداللّٰہ اپنا بیٹا کہتا تھا.

وہ اپنے بیٹے کی تربیت کے لیے بہت فکرمند رہا کرتا. بہت پیار اور بہت توجہ کے ساتھ ایک بہترین انسان کے ہاتھوں اسکی پرورش ہورہی تھی. عشاء کی نماز کے بعد عبداللّٰہ گاؤں والوں کی روزانہ بیٹھک میں بھی شامل ہوتا.مگر وہ اتنا کم سخن ہوگیا تھا کہ اسکی آواز اس بیٹھک میں کم کم ہی سنی گئی تھی.

پانچوں وقت کی نماز میں اسکا بیٹا بہت شوق سے اسکے ساتھ جماعت میں شامل ہوتا. مگر یہ بیٹھک اسے بور کر دیتی تھی اور آج اکثر بیٹھک کے دوران عبداللّٰہ کی گود میں لیٹ کر سوجاتا… لیکن ایک مخصوص ڈھب پر چل پڑی تھی. خوشی کا احساس تو ہمیشہ کے لیے مٹ چکا تھا مگر زندگی میں اب سکون تھا. اب دیوانگی کا سودا، عبداللّٰہ کو نڈھال نہیں کرتا تھا.

درد تو اب بھی ساتھ ساتھ تھا پر اس درد کے ساتھ جینا آگیا تھا. مگر کبھی کبھی یہ درد ضبط کو توڑنے لگتا جب وہ اچانک ہی سامنے آجاتی. مگر اسکے بعد وہ پھر سے پر سکون ہو جاتا.

وقت کے سیدھے راستے پر زندگی کی ہموار رفتار کو دیکھ کر عبداللّٰہ کو یقین ہونے لگا تھا کہ اب کوئی موڑ نہیں آئے گا. لیکن جب ہمیں لگتا ہے کہ زندگی میں کوئی موڑ نہیں آئے گا تو اگلے قدم پر ہی ایک موڑ ہمارا انتظار کررہا ہوتا ہے.

عبداللّٰہ معمول کے مطابق دکان پر آیا تو وہاں آج کافی ہلچل تھی. دو لڑکے مل کر لوہے کے بڑے سے گیٹ کو سوزوکی کے پچھلے حصے میں دلا رہے تھے. دکان کے اندر حیدر لوہار اسکا منتظر تھا جس کے بازوؤں کی طاقت عمر بڑھنے کے ساتھ گھٹ گئی تھی.

“آ جا پتر! تیرا ہی انتظار ہے.” وہ عبداللّٰہ کو دیکھ کر بولے. “چودھری نواز نے گیٹ اٹھانے کے لیے بندے بھیجے ہیں. تو انکے ساتھ جا اور گیٹ اپنے ہاتھوں سے لگا کر آنا. منور کے ہاتھ میں ہتھوڑی نہ دینا. وہ دیوار ہی توڑ دے گا.”

عبداللّٰہ مسکرا کر سر ہلاتا باہر آگیا. گیٹ لادا جاچکا تھا. وہ سوزوکی کے پچھلے حصے میں چڑھ کر بیٹھ گیا. سوزوکی چل پڑی تو منور خوشامدی لہجے میں بولا.

“ماسٹر جی! آج تو ابا ساتھ نہیں. گیٹ میں لگا لوں؟”

“نہیں.”

عبداللّٰہ کی بات پر وہ خفگی سے بولا. “یہ کیا ماسٹر جی!! کام کروں گا نہیں تو سیکھوں گا کیسے؟”

عبداللّٰہ نے مسکرا کر اسکا چہرہ دیکھا جو نو عمر لڑکے سے جوان مرد بن چکا تھا مگر اسکا لاابالی پن اب بھی وہی تھا. “تمہارے ابا نے کہا ہے کہ منور علی کے ہاتھ میں ہتھوڑی نہ دی جائے. اب اس میں، میں کیا کرسکتا ہوں؟”منور علی حسرت بھرا سانس کھینچ کر دوسری طرف دیکھنے لگا.

گیٹ چودھری نواز کی حویلی کے ساتھ خالی پلاٹ کی چاردیواری میں لگانا تھا جس پر کافی عرصے سے تنازع چل رہا تھا. سوزوکی پلاٹ کی حدود کے باہر جا رکی تو چودھری نواز کی جیپ کے ساتھ گن مین بھی باہر موجود تھے. اسکا مطلب چودھری نواز پلاٹ پر موجود تھا.

عبداللّٰہ کے ساتھ منور نے گیٹ سوزوکی سے اتروایا، پھر دونوں اسے اٹھائے اس جگہ پر لے آئے، جہاں گیٹ لگنا تھا اور کچھ دیر کے بعد اپنا کام شروع کردیا.

“میرا بیٹا شروع سے ہی شہر كے ہاسٹل میں رہا ہے. میرے کہنے پر وہ گاؤں آنے کو راضی ہوگیا مگر حویلی میں رہنے كے لیے تیار نہیں. کہتا ہے، اسے یہاں کا ماحول پسند نہیں، اپنے لیے شہری طرز کا بنگلہ بنوانا چاہتا ہے.

یہ زمین اسی كے لیے خریدی تھی. پر وہ حرام خور نمبردار، نقد رقم وہ بھی یکمشت لے کر مکر گیا كہ پیسہ تو دیکھا تک نہیں.”

“چھوڑئیے چودھری صاحب! اب تو عدالت نے آپکے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے اور یہ زمین بھی قانونی طور پر آپکی ہوئی. مگر اگلی بار لین دین کرتے وقت کاغذی کاروائی کا خیال رکھیئے گا. یہ آپکے قانونی تحفظ كے لیے ضروری ہے.”

“صحیح کہہ رہے ہیں وکیل صاحب! پکے کاغذ كے بغیر لین دین کرنا ہی نہیں چاھیے. حلق میں پھنس جاتا ہے. خیر ابھی تو میں نے پلاٹ كے گرد دیوار اٹھا کر پلاٹ بند کر دیا ہے. شہریار پڑھائی پوری کرکے آئیگا تو اپنی مرضی سے بنگلہ بنوا لے گا.”

عبد اللہ ہتھوڑی کی مدد سے گیٹ دیوار میں فٹ کر رہا تھا اور وہ لوگ باتیں کرتے اس کے پاس سے گزر گئے مگر ایک شخص سرجھکائے آہنی فریم کو دیوار میں ٹھونکتے عبداللہ کے چہرے کی ذرا سی جھلک پاکر ہی ساکت ہو گیا تھا ولا حیرت سے آنکھیں پھیلائے عبداللہ کو گھور رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر بے یقینی کی کیفیت تھی . پھر اس نے سرسراتی آواز میں ایک نام پکارا .

” وجدان!”

عبداللہ کا ہتھوڑی والا ہاتھ اٹھا کا اٹھا رہ گیا. اسے یہ نام جانا پہچانا سالگا تھا. سوچتے ہوئے اس نے ہاتھ نیچے کیا اور سراٹھا کر پکارنے والے کی طرف دیکھا. عبدالله کا چہرا اس کے سامنے تھا. بے یقینی،یقین میں بدلی تو آنکھوں میں کمی آ گئ.

برے جذباتی انداز میں اس نے بڑھ کر عبداللہ کا بازو تھامتے ہوئے اپنے مقابل کھڑا کیا اور اس سے لپٹ گیا. عبداللہ بت کی طرح اسکے حلقے میں کھڑا تھا نہ اس نے اس شخص کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کی نہ اس کے گرد اپنے بازو پھیلائے.

“کہاں کہاں تمہیں نہیں ڈھونڈا اور تم یہاں چھپے بیٹھے ہو.” وہ عبداللّٰہ کے گلے لگا کہہ رہا تھا. پھر الگ ہو کر اسکا چہرہ دیکھنے لگا. “پتہ ہے کتنا پریشان کیا تم نے…. اور تم یہاں آرام سے بیٹھے ہو.”

عبداللّٰہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا جو اسکا چہرہ ہاتھوں میں لئے شکایت کررہا تھا. اب اسے بھی عبداللّٰہ کی بے گانگی کا احساس ہوا. اسکے چہرے پر سے ہاتھ ہٹاتے اس نے گہری نظروں سے عبداللّٰہ کی طرف دیکھا.

پاس کھڑا منور علی حیرت سے باری باری ان دو لوگوں کو دیکھ رہا تھا، جو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے آمنے سامنے کھڑے ایک دوسرے کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے. پھر وہ شخص ایک دم سے حیران نظر آنے لگا.

“وجدان! تم نے مجھے پہچانا نہیں؟ میں آفاق ہوں. تمہارا دوست.”

منور علی کو دوست سے دوست کا اپنا تعارف کرانا عجیب لگا تھا.

“آفاق….” عبد اللہ نے اس طرح یہ نام لیا جیسے کوئی بھولی بات یاد آئی ہو پھر اسطرح سے پوچھا.

” کیسے ہو؟” جیسے کل کے بعد آج مل رہا ہو۔ ایک قدم پیچھے لے کر اسے سر سے پیر تک دیکھتے ہوئے آفاق کی آنکھوں میں الجھن تیرنے لگی پھر وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔

“اس سوال کا جواب دینے کے لیے بہت کچھ کہنا ہے اور بہت کچھ سننا ہے اس لیے فی الحال اس سوال کو رہنے دو، میں تمہیں پاپا سے ملاتا ہوں.” پھر اس نے کچھ دور چودھری نواز کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے منیر حسن کو آواز دی. “پاپا!!”

انہوں نے آفاق کی طرف دیکھا. وہ عبداللّٰہ کی پشت پر تھے، اس لیے وہ اسے دیکھ نہ پائے مگر انکے پوچھنے سے پہلے ہی اس نے دھیرے سے عبداللّٰہ کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اسے انکی طرف گھما دیا. انہیں وجدان کو پہچاننے میں بس ایک پل لگا تھا اور اگلے ہی پل وہ شاکڈ رہ گئے.

وہ تیزی سے آگے آئے اور وجدان کو گلے لگا لیا مگر فوراً ہی الگ ہو کر اس طرح اسے دیکھنے لگے جیسے یقین نہ آیا ہو کہ انہوں نے وجدان کو گلے لگایا ہے.

“آپ ماسٹر عبداللّٰہ کو جانتے ہیں؟” چودھری نواز نے انہیں جذباتی انداز میں عبداللّٰہ کے چہرے کو ہاتھ سے چھوتے دیکھ کر پوچھا. انکی آواز میں استفسار کے بجائے حیرت تھی. منیر حسن بولے.

“نہیں. مگر میں وجدان مصطفیٰ کو جانتا ہوں اور یہ ہے وجدان.” انہوں نے وجدان کے شانے پر بازو پھیلاتے ہوئے چودھرینواز سے کہا جو منور علی کی طرح اپنی حیرت کو چھپا نہ پائے تھے.ی

Ishq E Aatish Novel By Sadia Rajpoot Read Online

Ishq E Aatish Novel By Sadia Rajpoot Download PDF

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *