Today, I am here to provide you Humsafar Novel By Sidra Sheikh. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.
Book Name: HumsafarAuthor Name: Sidra SheikhGenre: After marriage based Novels, Forced Marriage Based Novels, romantic, Innocent heroin based novels.Status: Completed
Humsafar Novel By Sidra Sheikh beautifully describes the intimacy of cousins love story which leads towards love marriage. This urdu novel pdf is written in a funny style that definitely engage the readers throughout the novel.
Sidra Sheikh is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & real life stories. Zahra Binte Khalid writes for young generation because she write according to the nerves of adults. Her writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.
Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.
They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.
Interesting Part Of Humsafar Novel By Sidra Sheikh
“یہ میری خواہش ہے روز آنکھ کھلے اور تمہیں میری بانہوں میں سوتے ہوئے دیکھوں۔۔”
“آہم۔۔۔”
انوشہ کی نظریں فہاج کے ہونٹوں سے ہٹ کر کھلی آنکھوں پر جاپڑی تھیں اور اپنی پوزیشن کو دیکھ کر انہوں نے پیچھے ہٹنا چاہا جب فہاج کی گرفت اور مظبوط ہوئی انوشہ کی ویسٹ پر
“رات کو تمہیں ٹھنڈ لگ رہی تھی۔۔تو میں نے اے سی بند کردیا۔۔۔ تمہیں پھر بھی سردی لگ رہی تھی۔۔۔سو۔۔۔۔”
دوسرا ہاتھ سر کے نیچے رکھے وہ انوشہ کو دیکھ رہے تھے جو انکے سینے پر خود کو بار بار اٹھانے کی کوشش میں تھیں
“اور اس میں غلطی کس کی ہے۔۔؟ کون بارش میں بھگا رہا تھا مجھے۔۔؟؟”
انوشہ نے آہستہ سے سر اٹھا کر فہاج کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“احساس تیرے اور میرے تو۔۔۔اک دوجے سے جُر رہے۔۔
اک تیری طلب مجھے ایسی لگی۔۔۔ میرے ہوش بھی اُڑنے لگے۔۔”
۔
“آہاں۔۔۔؟؟ کل رات تمہاری سردی ختم ہوگئی تھی میری بانہوں میں آکر انوشہ۔۔۔
تو اب شکایت کرنے کے بجائے شکریہ کریں ڈاکٹر انوشہ۔۔۔”
انوشہ کی تھوڑی پر انگلی رکھے چہرے کو اپنی اوڑھ کیا تھا فہاج نے۔۔۔
“مجھے ملتا سکون تیری بانہوں میں۔۔۔
جنت جیسی اک راحت ہے۔۔۔”
۔
“آپ کو جانا نہیں ہے یونیورسٹی۔۔؟؟”
اس نے پھر سے خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔اور پھر فہاج کو دیکھا تھا
“اوکے اوکے۔۔۔”
فہاج نے ہاتھ جیسے ہی ہٹایا تھا انوشہ نے جلدی سے خود کو اٹھایا تھا۔۔۔ مگر پھر ایک جھٹکے سے واپس فہاج پر آگری تھی۔۔۔
“تمہارا دوپٹہ بھی نہیں چاہتا کہ تم اٹھ کر جاؤ۔۔۔”
فہاج نے کچھ ہی پل میں انوشہ کی ویسٹ پر دوبارا ہاتھ رکھے بیڈ کی دوسری طرف کرکے ان پر جھکے تھے۔۔۔
انوشہ کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں فہاج جیسے ہی جھکے تھے ان پر۔۔۔
“یہ رہی وہ رکاوٹ۔۔۔”
اپنے نیچے سے وہ دوپٹہ ہٹا کر انہوں نے انوشہ کے گلے پر ڈال دیا تھا اور پھر سے جھک کر ماتھے کو چوما تھا۔۔۔
“میں سچ میں لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔ٹیچرز میٹنگ ہے آج ایک۔۔۔”
وہ یہ کہہ پیچے ہٹے تھے انوشہ کی ویسٹ سے اپنے ہاتھ کو جیسے ہی پیچھے ہٹایا تھا انوشہ کی بند آنکھیں کھل گئی تھی۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے کپڑے نکالے فہاج واش روم میں چلے گئے تھے اور انوشہ وہیں انہیں جاتے دیکھ دیکھتی رہ گئی تھی تھی
“میں نے ساری رات یہاں فہاج کی بانہوں میں گزاری۔۔؟؟”
خود سے سوال کرنے پر انہوں نے پوری کمرے کو دیکھا تھا اور رات کا ہر لمحہ دہرایا تھا انکے دماغ نے۔۔۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ہمیں بات کرنی چاہیے صہیب پلیز میں چاہتا ہوں تم بات کرو ابیہا کے رشتے کی روحان سے۔۔۔”
” ہو دا ہیل آر یو۔۔؟؟ میری بیٹی کی زندگی کا فیصلہ اسکی شادی کا فیصلہ کرنے والے۔۔؟؟”
وہ جو پیچھے کھڑے احلام کی باتیں سن رہی تھی اسکے ضبط نے اب جواب دہ دیا تھا
“ایکسکئیوز مئ۔۔؟؟ میں باپ ہوں اس کا انوشہ۔۔ ہماری بیٹی بڑی ہوگئی ہے۔۔۔”
“ایگزیکٹلی وہ بڑی ہوگئی ہے احلام اس لیے انٹرفئیر کرنا بند کردیجئے باپ ہیں۔۔ کونسے فرض پورے کردئیے باپ ہونے کے۔۔؟؟”وہ کہتے ہوئے سامنے کھڑی ہوگئی تھی احلام کے
“تم نے کبھی مجھے یہ حق دیا بھی۔۔؟ آج تو مجھ سے یہ خوشی مت چھینو۔۔ وہ پسند کرتی ہے اس لڑکے کو۔۔۔اس پروفیسر کے بیٹے کو۔۔۔
نیہا اور صہیب کو بات کرنے دو۔۔۔”
“وائے۔۔؟ کیوں بات کرنے دوں۔۔؟؟ میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ رشتہ۔۔۔”
“تمہارا آفئیر چل رہا ہے اس سے۔۔؟؟ چکر کیا ہے۔۔؟ کیوں نہیں چاہتی تم اس پروفیسر کے بیٹے سے ہماری بیٹی کی شادی۔۔؟؟ کس بات کا ڈر ہے۔۔؟؟ تمہارا آفئیر ختم ہوجائے گا۔۔؟؟”
احلام کی بات سن کر عنبر بھی باقی سب کے ساتھ کھڑی ہوگئی تھی انوشہ کے کردار پر پہلی بار انگلی اٹھی تھی اور وہ بھی اس الزام کے ساتھ۔۔؟؟
مگر سب شاکڈ زیادہ تب ہوئے جب انوشہ کا ہاتھ اٹھا تھا احلام پر۔۔
“تم جیسا شخص جو ساری زندگی خود کرتا آیا وہی میرے لیے بھی سوچ رہے ہو۔۔؟؟
بھول گئے ہو اپنے ماضی کو۔۔؟ پیچھے چھپ چھپا کر ملنا چیٹ کرنا دھوکا دینا۔۔۔
یہ سب تمہیں آتا ہے مجھے نہیں۔۔۔ میں آفئیر نہیں چلاؤں گی احلام ڈائریکٹ نکاح کروں گی جس سے بھی کروں گی۔۔۔
میرے اور میری بیٹی کے معاملات سے دور رہو۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر اوپر کمرے میں چلی گئی تھی پیچھے سب کو شاکڈ چھوڑ کر۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔”
نیہا نے ایک دم سے کہا تھا۔۔۔ وہاں احلام کے پاس جانے کی کسی کی بھی ہمت نہیں ہوئی تھی وہ غصے سے وہاں سے چلے گئے تھے
Humsafar Novel By Sidra Sheikh Read Online
Humsafar Novel By Sidra Sheikh Download PDF
We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.
Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com
