Dayar E Wehshat By Zeenia Sharjeel Novel
URDU NOVELS, BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS

Dayar E Wehshat By Zeenia Sharjeel Novel PDF Or Read Online

In this post I am here to provide you Dayar E Wehshat By Zeenia Sharjeel novel romantic urdu novel. You can read online or download according to your choice.

Book Name: Dayar E Wehshat
Author Name: Zeenia Sharjeel
Genre: Suspense based, romantic based, love story based, rude hero based.
Status: Completed

Zeenia Sharjeel is a very famous urdu writer. She is a famous writer on social media as well as web. She wrote on social, moral issues and she also wrote romantic Urdu.

Novel Dayar E Wehshat By Zeenia Sharjeel novel is One Of The Most outstanding Urdu Novels Written By Zeenia Sharjeel. Dayar e Wehshat is a Suspense based, innocent heroin based, love story based, rude hero based, love at first sight urdu novels.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels.

Interesting Part Of Dayar E Wehshat By Zeenia Sharjeel Novel

جس دن شیر عباس کی بہنیں آرذو کو دیکھنے آئی تھی وہ نہ صرف آرذو کو دیکھنے کے بعد پسند کرکے چلی گئی تھیں بلکہ شادی کے لیے ان دونوں نے اگلے ماہ کی چار تاریخ بھی مقرر کردی تھی۔۔۔

صدیقی اور شہناس بےشک جلد سے جلد آرزو کے فرض سے سبکدوش ہونے کا ارادہ کیے بیٹھے تھے لیکن اس سے زیادہ جلدی شیر عباس کی بہنوں نے مچادی تھی یوں سرسوں کو ہتھیلی پر جمتا دیکھ کر شہناس تھوڑا بوکھلا ضرور گئی تھی

مگر اچھے خاصے رشتے کو ہاتھ سے جانے بھی نہیں دینا چاہتی تھی، شیر عباس سے شہناس اور صدیقی کی ایک چھوٹی سے ملاقات شیر عباس کی بہن ریشماں کے گھر پر ہوئی تھی اُس کی شخصیت دیکھ کر اور اسٹیٹس کے بارے میں جان کر وہ دونوں ہی آرزو کی قسمت پر رشک کررہے تھے

آج پورے ایک ماہ تین دن بعد آرذو کا مایوں تھا صدیقی کے گھر میں شیر عباس کی بہنوں کے علاوہ محلے کی چند خواتین بھی موجود تھیں، امامہ نے آفس سے دو سے تین دن کی چھٹی لی ہوئی تھی اور چھوٹی موٹی ذمہ داریوں کے ساتھ سارے کچن کو اُسی نے سنبھالا ہوا تھا

“شیر عباس کے آنے کے ساتھ ہی مایوں کی رسم شروع کردی جائے گی یہ سارے کام چھوڑو، جاکر دیکھو آرزو تیار ہوگئی تو اسے یہاں لے کر آؤ اور سنو اچھا بڑا سا گھونگھٹ نکال کر چہرہ چھپا دینا آرزو کو یہاں لانے سے پہلے”

شہناس ہیر کے پاس آکر عجلت بھرے انداز میں ہیر سے بولی۔۔۔ وہ مہندی رنگ کی کلیوں کی فراک میں خود بھی کوئی نازک سی کلی لگ رہی تھی، شہناس کی بات مانتی ہوئی وہ آرذو کے پاس کمرے میں جانے لگی

آج صبح سے ہی اُس کی طبیعت موسمی بخار کی وجہ سے ناساز تھی لیکن اس کے باوجود اسے آج آرزو کے ہونے والے شوہر کو دیکھنے کی الگ ہی ایکسائٹمنٹ تھی کیوکہ آرزو کے ساتھ ساتھ اس نے اور امامہ نے بھی ابھی تک شیر عباس کو نہیں دیکھا تھا

“آرزو کیا ہوا ایسے کیوں رو رہی ہو خدا کا واسطہ ہے کچھ بولو بھی”

ہیر کمرے میں آکر آرزو کو بری طرح روتا ہوا دیکھ کر پریشانی کے عالم میں اُس سے پوچھنے لگی

“تبریز نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے، اس کے گھر والے اُسے ہسپتال لے گئے ہیں اِس وقت کی حالت تشویشناک ہے اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ مر جائے گا میرے بغیر، ہیر اگر تبریز کو کچھ ہوا تو دیکھ لینا پھر میں بھی مر جاؤں گی”

آرذو مایوں کے پیلے رنگ کے لباس میں بےتحاشہ روتی ہوئی بولی

“اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو، آج کے دن ایسی باتیں کیوں کررہی ہو تبریز کو بھی کچھ نہیں ہوگا تم پریشان مت ہو دیکھو عباس بھائی کی بہنیں آچکی ہیں وہ خود بھی بس پہنچنے ہی والے ہیں پلیز اپنے آنسو صاف کرلو امی تمہیں باہر رسم کے لئے بلا رہی ہیں”

ہیر کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے نغمہ آرذو کے کمرے میں اس سے ملنے آئی تھی تبریز سے متعلق لازمی نغمہ نے ہی آرزو کو کچھ بتایا ہوگا کیوکہ نغمہ دو گلی چھوڑ کر ہی رہتی تھی، بےشک یہ ساری صورت حال پریشان کُن تھی لیکن ہیر کر بھی کیا سکتی تھی

“میں جب تک تبریز کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لوں گی تب تک چین نہیں آئے گا مجھے، پلیز میری خاطر مجھے پیچھے کے راستے سے تھوڑی دیر پہلے اسپتال تبریز کے پاس جانے دو، میں جلدی گھر لوٹ کر واپس آجاؤ گی پلیز انکار مت کرنا ہیر”

آرزو کی بات سن کر ہیر شاکڈ میں آگئی، تھوڑی دیر کے لئے اُس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا

“تم ہوش میں تو ہو آرزو، یہ تم کیا بول رہی ہو تم جانتی ہوں آج تمہارا مایوں ہے کل تمہاری شادی۔۔۔ اور تم تبریز کے پاس جانے کی بات کررہی ہو”

ہیر کو شبہ ہونے لگا جیسے آرزو کا دماغ کام نہیں کررہا تھا تبھی ہیر اس کو سمجھاتی ہوئی بول

“تم نہیں جانتی میں اس وقت کس قرب سے کس اذیت سے گزر رہی ہوں، ہیر تم میری بہن ہو میری تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کرو میں وعدہ کرتی ہوں جلد سے جلد واپس آجاؤ گی پلیز میری مدد کرو تھوڑی دیر کی بات ہے”

آرذو نے بولتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ ہیر کے سامنے جوڑ کر رونا شروع کردیا ہیر عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوکر آرزو کو دیکھنے لگی

***””””***

“ہیر تم بھی حد کرتی ہو قسم سے میں نے تم سے ایک گھنٹے پہلے آرذو کو ڈائننگ روم میں لانے کے لئے بولا تھا اور تم خود بھی یہاں آکر آرام سے بیٹھ گئی ہو 20 منٹ پہلے ہی شیر عباس آچکا ہے۔۔۔ اور یہ آرزو کہاں پر ہے نظر نہیں آرہی”

ایک گھنٹہ گزر چکا تھا آرزو کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا ہیر کمرے میں پریشان بیٹھی رو رہی تھی تبھی شہناس کمرے میں آکر چاروں طرف نظریں دوڑا کر ہیر سے آرذو کا پوچھنے لگی

“آرزو واش روم میں ہے امی میں اُس کو تیار کرکے ابھی باہر لےکر آتی ہوں”

اس سے پہلے ہیر کچھ بولتی امامہ کمرے میں آتی ہوئی شہناس بولی ہیر اپنے آنسو صاف کرکے امامہ کو دیکھنے لگی

“ٹھیک ہے اُسے جلدی سے لےکر آؤ اور تم کو کیا ہوگیا ہے ایسے کیوں رو رہی ہو”

شہناس امامہ سے بولنے کے ساتھ ہیر کی طرف متوجہ ہوکر اُس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر سوال کرنے لگی، اب کی بار بھی امامہ ہی شہناس بولی

“صبح سے دیکھ تو رہی ہیں آپ کتنا تیز بخار ہے اِسے ابھی ٹیبلٹ دی ہے تھوڑی دیر آرام کریں گی تو ٹھیک ہوجائے گی”

امامہ جلدی سے بولی تو شہناس اثبات میں سر ہلاکر کمرے سے چلی گئی

“اب کیا ہوگا آپی”

ہیر نے امامہ سے پوچھتے ہوۓ دوبارہ رونا شروع کردیا تھوڑی دیر پہلے وہ ساری صورتحال امامہ کو بتاچکی تھی جس پر امامہ کا دل چاہا وہ ہیر کو خوب سارے جوتے لگائے

“رونے کا وقت نہیں ہے جاؤ، آرذو کا مایوں والا ڈریس پہن کر جلدی سے باہر آؤ”

امامہ ہیر سے بولی تو ہیر ناسمجھی کے عالم میں آرزو کو دیکھنے لگی

“مگر آپی۔۔۔”

ہیر پریشان ہوکر امامہ سے بولی تو امامہ نے اُس کی بات کاٹ دی

“اگر مگر مت کرو میرے سامنے، جو میں بول رہی ہو ویسے ہی کرو”

امامہ اب کی بار سخت لہجے میں بولی تو ہیر آرذو کا اتارا ہوا مایوں کا جوڑا لےکر واش روم چلی گئی

***””””***

“ایکسیوزمی ذرا مجھے بتائیے گا تبریز جعفری نام کا پیشنٹ کس روم میں ہے”

آرذو چادر میں منہ ڈھانپے گھبراتی ہوئی ریسیپشن پر موجود لڑکے سے پوچھنے لگی۔۔۔ اس لڑکے نے غور سے آرزو کو دیکھتے ہوئے روم کا نمبر بتایا تو آرذو تیز قدم اٹھاتی ہوئی اسپتال کے روم کی طرف جانے لگی

“ایسا نہیں ہے پیار تو مجھے آرزو سے ابھی بھی ہے لیکن اس کے بڈھے باپ نے جو طماچہ میرے گال پر مارا تھا اس کا بدلہ اگر آج کے دن نہیں لےسکا تو پھر کبھی بھی نہیں لے سکوں گا، مجھے پوری امید ہے جیسے ہی آرزو کو میرے بارے میں علم ہوگا کہ میں اسپتال میں زندگی اور موت کے بیچ جنگ لڑ رہا ہوں

وہ میری خاطر یہاں دوڑی چلی آئے گی شادی سے ایک دن پہلے بھاگی ہوئی لڑکی کے باپ کی کتنی بدنامی ہوتی ہے اچھا ہے وہ بڈھا صدمے سے ہی مر جائے تو میری زندگی کا سب سے بڑا کانٹا نکل جائے گا اور اس بدنامی کے بعد آرزو کے ماں باپ کے پاس کوئی آپشن نہیں بچے گا علاوہ اسکے کہ وہ آرزو شادی مجھ سے کردیں”

تبریز ہسپتال کے کمرے میں موجود موبائل پر اور بھی کچھ کہہ رہا تھا تبریز کی باتیں سن کر آرذو کا دماغ بری طرح ہل چکا تھا

وہ الٹے قدموں خاموشی سے اسپتال سے باہر نکل گئی اسے جلد سے جلد واپس اپنے گھر پہنچنا تھا تبریز کی باتیں یاد کرکے وہ روتی ہوئی سڑک پر چلی جارہی تھی، اپنے آس پاس کا ہوش اسے تبریز کی باتیں یاد کرکے جاتا رہا شاید کوئی گاڑی سامنے سے آرہی تھی وہ ڈرائیونگ کرتا شخص ہارن بھی دیئے جارہا تھا آرزو سن ہوتے دماغ سے گاڑی کو دیکھنے لگی اِس سے پہلے وہ اپنے حواس میں لوٹ کر سائیڈ پر ہوجاتی اچانک بےہوش ہوکر سڑک پر گر پڑی

ہاشم جو سامنے سے آتی لڑکی کو ڈرائیونگ کے دوران ہارن پر ہارن دے کر اسے الرٹ کررہا تھا اچانک وہ لڑکی اُس کی گاڑی کے قریب آکر بےہوش ہوچکی تھی چار و ناچار ہاشم کو گاڑی سے اتر کر اُس لڑکی کو دیکھنا پڑا۔ ہاشم آرزو کو دیکھتے ہی پہچان گیا تھا ناگوار تاثرات چہرے پر لائے وہ آرزو کو ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا

***””””***

آج اُس کا صدیقی کی بیٹی آرزو نامی لڑکی کے ساتھ مایوں تھا اس کے آنے پر صدیقی اور شہناس نے کافی اچھے طریقے سے اُس کا استقبال کیا۔۔۔

سامنے زرد کپڑوں میں ملبوس لڑکی جس کا گھونگھٹ نکال کر چہرہ کو پوری طرح چھپایا گیا تھا شیر عباس نے اُس لڑکی پر سرسری سی نگاہ ہی ڈالی تھی مگر اُس کے ساتھ آتی دوسری لڑکی جو مایوں کی دلہن بنی لڑکی کے ہمراہ چلتی ہوئی اسٹیج پر آرہی تھی شیر عباس اُس لڑکی (امامہ) کو دیکھ کر بری طرح چونکا

“یہ لڑکی کون ہے”

شیر عباس اپنے چہرے کے تاثرات پر فوراً قابو پاتا ہوا آپنے برابر میں بیٹھی مومنہ سے پوچھنے لگا

“یہ آرذو کی بڑی بہن ہے امامہ نام ہے اِس کا”

مومنہ کے بتانے پر وہ سوچو کہ تانے بانے جوڑنے لگا۔۔۔ اگر امامہ آرزو کی بڑی بہن ہے تو وہ لڑکی جو مظہر کی شادی میں امامہ کے ساتھ آئی تھی، کیا اسی کا نام آرذو ہے یا پھر وہ کوئی اور لڑکی ہے۔۔۔ کیوںکہ صدیقی کی تین بیٹیاں ہیں امامہ، آرزو اور تیسری؟؟؟؟

شیر عباس ابھی یہ باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ مایوں کی دلہن کو اُس کے برابر میں لاکر بٹھایا گیا گھونگھٹ کی وجہ سے شیر عباس اُس کا چہرہ تو نہیں دیکھ سکا مگر سفید اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دیکھنے لگا جیسے اِس وقت وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی بیٹھی ہو ناجانے کون کون اس کے منہ میں آکر مٹھائیاں ڈال رہا تھا اور دعائیں دے رہا تھا

شیر عباس کو عجیب الجھن ہونے لگی مگر جلد ہی شیر عباس کی توجہ اُس کے موبائل پر آنے والی کال نہیں لےلی فرغب بی کی اِس وقت کال آنا ضرور کوئی اہم بات تھی شیر عباس وہی بیٹھے بیٹھے کال ریسیو کرچکا تھا

“جی بولیے فرغب بی”

شیر عباس کی آواز ہیر کی سماعت سے ٹکرائی تو اُس کا دل دھڑک اٹھا

“کیا۔۔۔ کیسے، کب۔۔۔ آپ مجھے اب بتارہی ہیں۔۔۔ بھاڑ میں گئی یہ شادی، میں آرہا ہوں واپس”

ہیر نے بہت قریب سے غُصے بھری آواز سنی اُس کے بعد اُس نے اپنے برابر میں بیٹھے شخص کو صوفے سے اٹھتا ہوا محسوس کیا۔۔۔ پردے کی وجہ سے وہ صرف اتنا ہی منظر دیکھ سکتی تھی کہ سفید کُرتے شلوار میں موجود شخص جس کی پشت ہیر کی جانب تھی وہ اس کے ابو سے بات کرتا ہوا وہاں سے جارہا تھا

***””””***

وہ کہتے ہیں ناں نیکی کبھی کبھی گلے پڑ جاتی ہے آج اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا تھا اپنی گاڑی کے سامنے آئی بےہوش لڑکی کو دیکھ کر ہاشم کو اسے نظر انداز کرکے جانا اچھا نہیں لگا اُس کے دوست کا اپارٹمنٹ یہاں سے قریب تھا جو اتفاق سے اِس وقت خالی تھا ہاشم آرزو کو اٹھا کر وہی لے گیا

جب آرزو ہوش میں نہیں آئی تو ہاشم کو وہی پر ڈاکٹر کو بلانا پڑا جس سے اُس کو معلوم ہوا یہ لڑکی کسی گہرے

صدمے کے سبب بےہوش ہوچکی تھی وہ کب ہوش میں آتی یہ ہاشم کو کچھ معلوم نہ تھا

Dayar E Wehshat By Zeenia Sharjeel Novel Read Online

Dayar E Wehshat By Zeenia Sharjeel Novel PDF DOWNLOAD

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *