Dastan E Hayat novel by Zahra Binte Khalid
BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS, URDU NOVELS

Dastan E Hayat Novel by Zahra Binte Khalid (Romantic Love Based Urdu Novels PDF Download or Read Online)

Today, I am here to provide you Dastan E Hayat Novel By Zahra Binte Khalid, novel romantic urdu novels pdf. You can read online or download according to your choice.

Book Name: Dastan E Hayat
Author Name: Zahra Binte Khalid
Genre: Romantic Novel, Cousin Based, Love Based, Hasad, Lots of Fun with a little Sprinkle of Sadness
Status: Completed

Dastan E Hayat novel by Zahra Binte Khalid is written in a very romantic way of life that shows the real meaning of love life. The story revolves around two lovers that put too many efforts to be each other.

Zahra Binte Khalid is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & practical life issues and stories. Zahra Binte Khalid writes for young generation because she write according to the nerves of adults.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.

Interesting Part Of Dastan E Hayat Novel by Zahra Binte Khalid

برہان نے اسے بانہوں میں بھرا اور بیڈ پر لٹایا ، افيفا اور مشال بیگم جلدی سے اس کے قریب آئی تھیں۔

جبکہ بڑی امی بھی پریشان سے اس کے پاس آ بیٹھیں۔

“پانی لاؤ”

برہان نے باہر کھڑی ملازمہ کو مخاطب کیا تو وہ وہاں سے چلی گئی۔

“حیا کیا ہے اسے یوں اچانک ؟ “

بڑی امی نے فکرمندی سے پوچھا تو برہان نے خوں خوار نظروں سے ان اب کو دیکھا جو بہت ڈرے ہوئے تھے۔

“ہارر مووی دیکھی جا رہی تھی اس وقت یہاں ، وہ بھی لائٹس آف کر کے۔۔۔جانتے بھی ہیں یہ سب کہ قندیل کو کتنا ڈر لگتا ہے ان چیزوں سے۔۔۔کم از کم اسے تو مت دکھاتے”

برہان غصے سے بولا تو آفتاب چودھری نے بھی گھور کر ان سب کو دیکھا۔

“ڈاکٹر کو بلاؤں یا ہوش آ جائے گا اسے ؟”

سفیان نے سوال کیا تو بڑی امی نے نفی میں سر ہلایا۔

“نہیں آ جائے گا ہوش ڈاکٹر کو اس وقت مت بلاؤ”

انہوں نے سنجیدگی سے کہا ، تبھی ملازمہ پانی لے آئی۔

افرا بیگم نے اس کا سر اپنی گود میں رکھتے پانی کے کچھ قطرے اس کے چہرے پر چھڑکے تو وہ گڑبڑا کر اٹھی۔

برہان نے اسے آنکھیں کھولتے دیکھ گہرا سانس بھرا تھا۔

“اب ٹھیک ہو تم قندیل ؟”

مشال بیگم اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتی محبت سے بولیں تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور اٹھ بیٹھی۔

“تم لوگ نیچے جاؤ لاؤنج میں تم لوگوں سے ابھی آ کر نپٹتا ہوں میں”

برہان اُن کے لٹکے ہوئے چہرے دیکھ کر بولا تو وہ سب وہاں سے چلے گئے تھے۔

“ہوا کیا تھا تمہیں ؟”

افیفا بیگم اس کے بال سمیٹ کر بولیں جو اب نظریں برہان سے چرا رہی تھی۔

ہمت نہیں ہو رہی تھی اس کی جانب دیکھنے کی جو کھڑا اسے سخت نظروں سے گھور رہا تھا۔

“امی میں بس مووی دیکھ کر ڈر رہی تھی تبھی میرے سر پر کچھ ٹھنڈا سا گرا تھا اس لیے نے ڈر گئی”

اس نے غمزدہ ہو کر بتایا تھا ، آنکھیں دوبارہ بھیگ گئیں۔

“ضرور ان میں سے کسی کی شرارت ہو گی بچے ، اور تمہیں کتنی بار منع کیا ہے ان کے ساتھ ایسی چیزیں مت دیکھا کرو ، ہے بار ڈر جاتی ہو تم”

آفتاب صاحب نے پیار سے سمجھایا تو اس نے سر ہلایا۔

“دل کمزور ہے تمہارا مت دیکھا کرو یہ سب”

بڑی امی نے بھی کہا تو وہ خاموش ہو گئی۔

“اچھا اب سب کمروں میں چلو ، تم بھی سو جاؤ اب قندیل رات بہت ہو گئی ہے”

بڑی امی اٹھتی ہوئی بولیں تو باقی سب بھی اٹھے۔

“میں یہیں رک جاتی ہوں یہ دوبارہ نہ ڈر جائے”

مشال بیگم کی بات پر بڑی امی سر ہلاتیں کمرے سے نکل گئیں ، افيفا بیگم اور آفتاب صاحب بھی کمرے سے چلے گئے تو برہان اس کے قریب آیا۔

“آئندہ تم نے ایسی کوئی حرکت کی قندیل تو یقین مانو جان سے مار دوں گا میں تمہیں ، بچی نہیں ہو اب تم جو ایک ہی بات ہزار دفعہ سمجھائی جائے”

اس نے سختی سے کہا تو یہ آنکھیں میچ گئی۔

“اچھا بیٹا بس کرو آئندہ ایسا نہیں ہو گا”

مشال بیگم نے برہان سے کہا تو وہ جی کہتا کرنے اسے نکل گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کس کا پلین تھا یہ ؟”

برہان اب ان کی کلاس لے رہا تھا جو سب لاؤنج کے ایک لائن بنائے سر جھکا کر کھڑے تھے۔

“بھائی۔۔میں نے کہا تھا ان سب کو”

صبا نے آہستہ آواز میں بولا تو برہان نے اسے گھور کر دیکھا۔

“ہر دفعہ تم کے ہی کیوں انہیں کہا ہوتا ہے ؟”

برہان سنجیدگی سے بولا تو صبا نے ہونٹ چبائے مگر بولی کچھ نہیں ، کیا کہتی اب۔۔۔۔

“پچھلی دفعہ منع کیا تھا نہ میں نے ؟ اور خاص کر قندیل کو کیوں دکھائی مووی۔۔۔۔جانتے بھی ہو تم سب وہ ڈرتی ہے”

اس نے غصے سے پوچھا تو سب شرمندہ ہوئے۔

“بھائی ہم نے انہیں منع کیا تھا مگر انہوں نے کہا کہ وہ دیکھیں گی”

اذلان نے منمنا کر کہا تو اس نے گھور اور اسے دیکھا۔

“تو ظاہری بات ہے تم سب اگر کچھ دیکھی گے تو وہ بھی دیکھے گی ہی ، تم لوگوں کو اسے بتانا ہی نہیں چاہیے تھا اور اگر وہ دیکھنے کی ضد کر رہی تھی تو مجھے یا کسی بڑے کو بتاتے ہم اسے سمجھا دیتے”

برہان نے سخت لہجے میں کہا تو اذلان خاموش ہو گیا۔

“اگر ہم۔۔بتاتے۔۔تو آپ لوگ ۔ہمیں بھی نہ دیکھنے۔۔۔دیتے”

نینا نے پہلی بار اس کے سامنے زبان کھولی تھی۔

نہیں تو وہ حویلی کی وہ واحد لڑکی تھی جو برہان چودھری سے ہچکچاتی تھی۔

وجہ برہان کی نہ پسندیدگی تھی ، نینا کی ماں یعنی اُلفت بیگم کی خواہش تھی کہ برہان کا رشتا نینا سے ہو۔

اور اس چیز کا اظہار وہ حویلی میں کئی دفعہ کر بھی چکی تھیں ، بڑوں نے تو اس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں لیا تھا۔

مگر برہان چودھری کو قندیل سے عشق تھا وہ اس کے علاوہ کسی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

جب سے اس تک اُلفت بیگم کی باتیں پہنچی تھیں اسے اس معصوم سی لڑکی سے بھی الجھن ہونے لگی تھی۔

وہ اس سے کبھی مخاطب نہیں ہوا ، پہلے جو باقی کزنز کی طرح اس سے پیار تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔

اس لیے وہ بھی اس سے دور دور ہی رہی تھی۔

اب اس کی ہمت پر برہان کو مزید طیش آیا۔

“ہاں مووی نہیں تھی تم لوگوں نے تو نوافل ادا کرنے تھے ناں جو اگر ہم روک دیتے تو گناہ ہو جاتا ، کیا ہو جاتا اگر نہیں دیکھتے تو ہاں ؟”

وہ دھاڑا تو نینا بھی سر مزید جھکا گئی ، اس کی سخت نظریں وہ خود پر اچھے سے محسوس کر سکتی تھی۔

“آئندہ تم دونوں مجھے ان کے آس پاس نظر آئے تو ٹانگیں توڑ دوں گا میں تمہاری”

برہان چودھری دھاڑا تو اذلان اور مراد نے اس کی جانب دیکھا۔

“لیکن بھائی ہم نے کیا کیا ہے ؟”

اذلان نے بے یقینی سے سوال کیا جبکہ مراد شرمندگی سے سر جھکا چکا تھا۔

“اس کے بالوں میں ڈرنک کس نے ڈالی تھی تم دونوں میں سے ؟”

وہ دونوں کو سخت نظروں سے گھورتا بولا تو اذلان نے زبان دانتوں تلے دبائی۔

“بھائی ، وہ غلطی۔۔۔سے”

اس نے لڑکھڑا کر کہا تو برہان اس کے قریب آیا تھا اس نے اذلان کا کان پکڑ کے سختی سے کھینچا۔

“تمہاری تو ساری غلطیاں درست کرتا ہوں میں ، یہ پورا ہفتہ تم حویلی میں گزارو گے اذلان چودھری ، بغیر سیل فون اور تو وی کے استمال کے ، میری نظریں تمہی پر ہوں گئ اور اگر مجھے پتہ چلا کہ تم نے خلاف ورزی کی ہے تو پھر بتاؤں گا میں تمہیں”

اس نے سخت سزا سنائی تو اذلان نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔

جو اب اس کا کان چھوڑتا دونوں ہاتھ کمر پر باندھتا اسی کو گھور رہا تھا۔

بلاشبہ اس کہ بھائی بے حد ہینڈسم تھا۔

“لیکن بھائی میں اکیلا ہی کیوں ؟”

اس نے افسوس سے سوال کیا۔

“کِیُونکہ تم اکیلے کی وجہ سے ہی وہ اس حال تک پہنچی ہے”

اس نے سختی سے کہا تو وہ خاموش ہوا۔

“امید ہے سمجھ آ گئی ہو گی تک لوگوں کو میری ، آج کچھ نہیں کہہ رہا مگر اگلی دفعہ ایسا کچھ نہیں ہونا چائیے ، اور یاد رہے تم چاروں مجھے اذلان اور مراد کے قریب نظر آئیں تو کمروں سے نکلنا بند کروا دوں گا میں تم چاروں کا”

اس نے سنجیدگی سے کہا تو سب نے سر ہلائے۔

“اور خیال رکھا کرو تم سب بھی اب بڑی ہو گئی ہو”

اس نے لڑکیوں سے مخاطب ہو کر کہا تو وہ سر ہلا گئیں۔

“جاؤ اب سو جاؤ سب رات زیادہ ہو گئی ہے”

اس نے سنجیدگی سے کہا تو سب ہی گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہوئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“میں سوچ رہا ہوں کہ تم دونوں اب اپنی اپنی بیویاں لے ہی آؤ”

سیحان بیک وقت کبیر اور حائسم دونوں سے مخاطب ہوا تو دونوں نے ہی گھور کر اسے دیکھا۔

“اور تم ایسا کیوں سوچ رہے ہو ؟”

کبیر نے الجھن سے سوال کیا تھا۔

“کِیُونکہ میں جانتا ہوں تم صرف ڈرامے کرتے ہو کہ تم صرف ارمغان ملک کی وجہ سے پریہا سے رشتا جوڑے ہوئے ہو ، اگر بات صرف ارمغان ملک کی ہے تو پچھلے چھ سالوں سے اس لڑکی کے پل پل کی خبر کیوں رکھتے ہو تم ؟”

سیحان نے آئبرو اچکا کر کہا تو حائسم بھی اس کی چھوڑی پکڑی جانے پر دھیما سا مسکرایا۔

“تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ اپنے بندوں کو روک لو میری جاسوسی سے نہیں تو مجھے مجبوراً انہیں ٹھکانے لگانا پڑے گا”

کبیر جل کر بولا تو سیحان نے آنکھ دبائی۔

“اور تم بھی شاید انکل سے کیا وعدہ بھول رہے ہو حائسم ، اگست میں تم اٹھائیس کے ہو رہے ہو اور ستائیس کی عمر میں تمہارا ایک وارث ہونا ہے یہ وعدہ ہے تمہارا ، اور وارث تو دور کی بات تم ابھی تک اپنی منگیتر کو ڈھونڈ بھی نہیں پا رہے”

سیحان نے اسے سمجھایا تو اس نے سر ہلایا۔

“میں بھولا نہیں ہوں سیحان اور نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا ، اٹھائیس کا ہوں گا تو وارث بھی ہو گا میرا”

اس نے سنجیدگی سے کہا۔

“تو کسی اور سے شادی کرنے کا ارادہ ہے پھر ؟”

اس دفعہ سوال کبیر کی طرف سے آیا تھا ، جس پر اس نے گھور کر کبیر کو دیکھا۔

“ہرگز نہیں ، شادی کروں گا تو اپنی امانت اپنی محبت سے ہی کروں گا ، پتہ لگوا لیا ہے میں نے اس کا ، جیسے ہی تھوڑا وقت ملتا ہے جاؤں گا وہاں اور ان لوگوں سے بات کروں گا جہاں وہ رہتی ہے”

اس نے پرسکون لہجے میں کہا تو دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“کہاں رہتی ہے وہ ؟”

سیحان نے سوال کیا تھا۔

“گاؤں ہے ایک وہاں کے زمیندار لوگ ہیں ، اچھا گھرانہ ہے اور گاؤں کے سردار ہیں وہ لوگ”

اس نے سنجیدگی سے بتایا تو دونوں مطمئین ہوئے۔

“کب وقت ملے گا تمہیں ؟”

کبیر نے سوال کیا تھا۔

“ابھی شائنہ کہیں جانے نہیں دے رہی ، فلحآل کل کا دن اس کا ہے اس کے بعد کچھ چیزیں ایکسپورٹ کرانی ہیں پھر ایک اہم مشن ہے وہ کمپلیٹ کر کی سکون سے جاؤں گا “

اس نے سنجیدگی سے اپنے کاموں کی لسٹ بتائی تو ان دونوں بھائیوں نے اسے گھورا۔

“یہ سب بعد میں بھی ہو سکتا ہے حایسم”

سیحان نے تپ کر کہا تو اس نے سر ہلایا۔

“میں پہلے کرنا چاہتا ہوں ، تاکہ بعد میں کچھ ٹائم اس کے ساتھ گزار سکوں”

حائسم نے سنجیدگی سے کہا تھا۔

“یہ بھی تو ممکن ہے کہ تم وہاں جائے تو تمہیں پتہ چلے کہ اس کی شادی وغیرہ ہو چکی ہے ؟ پھر کیا کرو گے تم ، اب وہ بیس اکیس سال کی ہو گئی ہو گی حایسم وہ لوگ اسے ایسے ہی تھوڑی بیٹھائے رکھیں گے ، گاؤں کے لوگ تو ویسے بھی اس معاملے میں جلدی کرتے ہیں”

کبیر کو نہیں اندیشہ ہوا تھا۔

“ہممم۔۔۔ایسا ہونا تو نہیں چائیے لیکن ہوا تو بھی اسے میرا ہی ہونا ہے ، اس سے شوہر کے سامنے دو شرائط رکھوں موت یا طلاق”

حائسم نے اسپاٹ لہجے نے کہا تو ان دونوں کو اطمنان ہوا۔

ابھی وہ مزید کوئی بات کرتے کے سیحان کا سیل فون بج اٹھا ،کال امپورٹنٹ تھی تو اس نے فوراً پک کیا۔

“سوری گائز آئی ہیو ٹو گو ناو”

فون پر بات کرنے کے بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا تو کبیر اور حائسم نے سر ہلائے۔

“جب میں آؤں تو بھابھی مجھے یہاں خان مینشن میں ملنے چائییں برو”

وہ جاتے جاتے حایسم سے مخاطب ہوا تو اس نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دن بعد۔۔۔

“باغ چلیں کیریاں کھانے ؟”

وہ چاروں باہر لان میں گھاس پر بیٹھی باتیں بگاڑ رہی تھیں جب نینا نے مشورہ دیا۔

“ہاں بلکل ٹھیک کہا تم نے نینا ، چلو چلتے ہیں”

صبا نے فوراً عمل کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی ، افرا اور قندیل کے منہ میں بھی پانی آیا تو وہ بھی اٹھیں۔

“تمہارے کھڑوس بھائی تو نہیں ہیں دیرے پر ؟”

نینا نے منہ بنا کر صبا سے پوچھا تھا ، کِیُونکہ ان کے باغات دیرے کے ساتھ تھے ، تو وہاں جانے کے لیے دیرے کے سامنے سے گزرنا پڑتا تھا۔

“نہیں بھائی تو صبح بابا کے ساتھ شہر گئے ہیں ، وہاں کسی سیاست دان سے ملنا ہے انہیں شام تک ہی آئیں گے”

صبا نے مسکرا کر بتایا تھا۔

“تو ہم اذلان اور مراد کو بھی ساتھ لے لیتی ہیں ، اکیلے جانا مناسب نہیں ، باہر لڑکے بھی ہوں گے”

قندیل نے کہا تو صبا نے نفی میں سر ہلایا۔

“کوئی ضرورت نہیں ہے انہیں لے جانے کی ، ہم خود بھی جا سکتی ہیں”

صبا نے سنجیدگی سے کہا تو قندیل بھی خاموش ہوئی۔

وہ سب دوپٹے سر پر اوڑھتی دبے پاؤں حویلی پار کر آئیں ، مگر گیٹ پر موجود اسلم بابا نے انہیں روک لیا۔

“بیٹا سائیں منع کر کے گئے ہیں کہ بچوں کو باہر نہیں جانے دینا”

انہوں نے نرمی سے کا تو وہ سب چہرے پر بیچارگی سجا لائیں۔

Dastan E Hayat Novel by Zahra Binte Khalid Read Online

Dastan E Hayat Novel by Zahra Binte Khalid Download Urdu Novels PDF

We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.

Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *