Today, I am here to provide you Meharban Urdu Novel By Sanaya Khan. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.
Book Name: MeharbanAuthor Name: Sanaya KhanGenre: Cousin marriage based novels, Horror Novels, Multiple Couples Based Novels, Suspense Based Novels.Status: Completed
Meharban urdu novel by maha gul beautifully describes the intimacy of cousins love story which leads towards love marriage. This urdu novel pdf is written in a funny style that definitely engage the readers throughout the novel.
Sanaya Khan is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & real life stories. Sanaya Khan writes for young generation because she write according to the nerves of adults. Her writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.
Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.
They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.
Interesting Part Of Meharban Urdu Novel By Sanaya Khan
پہاڈی کے اوپر اوپن ریسٹورانٹ تھا جہاں سے سارے شہر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا آرین اُسے ڈنر کے لیے وہاں لایا تھا تاکہ اسے اچھا لگے دونوں ایک طرف والے ٹیبل پر بیٹھے تھے
شام کے خوبصورت موسم میں وہاں کا منظر بےحد خوبصورت تھا مہک اس منظر میں پوری طرح کھوئی تھی اور آرین اُسے خوش دیکھ کر خوش ہو رہا تھا مہک۔ نے ڈارک بلیو اور وہائٹ سوٹ پر وہائٹ جیکٹ پہنا تھا ہلکے میک اپ کے ساتھ بنا کسی جویلری کے بالوں کو خوبصورت سٹائل دیکر کھلا چھوڑا ہوا تھا
آرین نے وہائٹ شرٹ پر ڈارک بلیو جینز اور بلیو جیکٹ پہنا ہوا تھا بالوں کو سٹائل سے سیٹ کیے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بہت دلکش لگ رہا تھا
واؤ۔۔۔۔۔۔۔ کتنی خوبصورت جگہ ہے یہ ۔۔۔۔۔۔
اُسنے اطراف کا جائزہ لیکر مسکراتے ہوئے کہا
ہاں لیکن تم سے کم۔۔۔۔۔۔۔۔ یے سارے نظارے تمہارے آگے پھینکے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آرین اُسکے چہرے پر نظریں جمائے پیار سے بولا
بس بس۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے ہنستے ہوئے کہا
تمہیں میری باتیں بناوٹی لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہے نہ
وہ خفگی سے بولا
نہیں تو ۔۔۔۔۔مجھے آپکی باتیں بلکل ٹھیک لگتی ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ دا گریٹ آرین ملک ہے۔۔۔۔۔ آپ کی بات غلط ہو ہی نہیں سکتی
وہ معصومیت سے پلکیں جھپکا کر بولی
کیا ہوں میں۔۔۔۔۔۔
وہ تھوڑا سا اٹھ کر اُسکی جانب جھکا اور پوچھا
The great aaryan Malik
افف ۔۔۔۔۔۔مار ڈالا۔۔۔
وہ سینے پر ایک ہاتھ رکھے آنکھیں بند کرکےگرنے کے انداز میں کرسی پر بیٹھا مہک کی ہنسی چھوٹ گئی وہ بھی مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا
ایسے ہنستی رہا کرو یار۔۔۔۔۔۔ بہت اچھی لگتی ہو
وہ دھیمے پیار بھرے لہجے میں بولا مہک نے اُسکی نظروں سے اُلجھ کر پلکیں جھکائی اُسکی مسکراہٹ گہری ہو گئی
ہائے آرین۔۔۔۔۔
ایک لڑکی وہاں آئی اور آرین کو مخاطب کیا آرین بھی اسے دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے کرسی سے اٹھا
اوہ ہائے۔۔۔۔
وہ بھی ہنس کر اس سے گلے ملا
کیسی ہو
آرین نے مسکراتے ہوئے پوچھا
میں بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔تم کیسے ہو اور کب آئے یہاں۔۔۔۔
قیمتی بلیک اینڈ ریڈ ڈریس میں میک اپ اور کھلے بالوں میں خوبصورت وہ لگ بھگ آرین کی ہم عمر ہی تھی
میں بس کُچھ دن پہلے۔۔۔۔۔ پلیز سٹ یے میری وائف مہک
مہک۔۔۔۔۔۔ یے میری دوست نیہا ہے
اُسنے دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کرایا نیہا نے خوشدلی سے ہاتھ آگے بڑھایا مہک نے بھی مسکرا کر اس سے ہاتھ ملایا آرین نے اسے بھی اپنے ساتھ ڈنر کرنے کا آفر کیا پہلے اُسنے انکار کیا لیکن پھر قبول کر لیا دونوں آپس میں باتیں کرتے رہے مہک بس ہاں یہ نا میں کوئی جواب دے دیتی اسی دوران کھانا بھی آگیا دونوں کھانے کے درمیان بھی باتیں کرتے رہے مہک نے خاموشی سے کھانا ختم کیا اور باہر دیکھنے لگی من تو تھا اٹھ کر چلی جائے لیکن ایسا کر نہیں سکتی تھی
چلیں
نیہا کے جاتے ہی آرین نے اٹھ کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا مہک نے اُسکے ہاتھ کو دیکھا پھر اُسکے چہرے پر ایک سنجیدہ نظر ڈالی اور سائڈ سے نکل گئی
کیسا لگا ڈنر۔۔۔۔
وہ کافی دیر خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا پھر بولا
اچھا تھا
وہ بےنیاز ی سے کہہ کر باہر دیکھنے لگی آرین خوبصورتی سے مسکرایا
اور میری دوست۔۔۔۔
وہ سامنے نظریں جمائے ہنسی روک کر بولا مہک نے غصے سے اُسکی جانب دیکھا
وہ تو بہت ہی اچھی تھی ۔۔۔
اُسنے دانت پیس کر کہا اور سامنے دیکھنے لگی آرین خاموش رہا ہونٹوں پر مدھم ہنسی تھی
بیویاں جب جیلس ہوتی ہے تو کتنی کیوٹ لگتی ہے
وہ اُسکی جانب دیکھ کر بولا
میں جیلس نہیں ہو رہی
وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھ کر جتاتے ہوئے بولی
لیکن میں نے تو تمہارا کہا ہی نہیں
آرین نے اُسکی جانب جھکتے ہوئے کہا اور دھیرے سے ہنسا دوبارہ سامنے دیکھنے لگا
سچ میں کیوٹ لگ رہی ہو۔۔۔لیکن وہ بہت زیادہ کیوٹ ہے
وہ کچھ ڈر رک کر بولا
تو جایئے نا۔۔۔۔۔ اسی کے ساتھ رہیے۔۔۔۔۔ اسی کی تعریف کریں ۔۔۔۔۔۔اسی کو گھمائیں۔۔۔۔۔ مجھے کیو لے گئے
اُسنے غصے سے کہا
تم بیوی جو ہو۔۔۔۔۔ لیکن اب اپنی بیوی اگر ایسے دور دور رہیگی۔۔۔۔۔۔۔ تو بندہ دوسری جانب تو اٹریکٹ ہو گا ہی نہ
وہ اُسے تنگ کرنے کے لیے بولا مہک نے کُچھ دیر خاموشی سے اسے بغور دیکھا
سوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسنے اایکدم دھیمی آواز میں کہا آرین نے اُسکی جانب دیکھا تو وہ سر جھکائے اپنے آنسو صاف کر رہی تھی
افف۔۔۔۔۔۔ یار کیا چیز ہو تم ہر بات پر رونے لگتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔بندہ مذاق بھی نا کرے۔۔۔۔۔۔ ادھر دیکھو
آرین نے پریشان ہوکر کہا اور ہاتھ سے اُسکا چہرہ اپنی جانب کیا
میں جانتی ہُوں غلطی میری ہی ہے میں اچھی بیوی نہیں ہوں
وہ رونے کے درمیان بولی آرین نے گاڑی کو سائڈ پر لیکر بریک لگایا اور اُسکی جانب ہوا
بلکل صحیح کہا ۔۔۔۔۔۔۔ایسے رونے والی بیویاں اچھی نہیں ہوتی بہت بری ہوتی ہے
مہک کے رونے میں اضافہ ہو گیا آرین نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا
اب اگر چپ نہیں ہوئی نا تو آگے جو ہوگا اُسکی ذمےدار تم خود ہوگی سمجھ ائی
وہ اُسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا پھر ایک ہاتھ سے اُسکی آنسو صاف کیے
میں صرف مذاق کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے پوچھو تو میرے لیے یہی کسی معجزے سے کم نہیں کے تم میرے ساتھ ہو ۔۔۔۔۔میری ہو۔۔۔۔۔۔۔ تم اگر میری لائف میں نہیں ہوتی تو میں کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ میری زندگی کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔۔۔۔۔۔۔ تم سے میری ہر خوشی ہے تمہاری جگہ کبھی بھی کوئی بھی نہیں لے سکتا کیونکہ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں تمہیں ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تم چاہے جتنا وقت لے لو میرے لیے اتنا کافی ہے کہ تم میرے ساتھ ہو اور یے ساتھ کبھی نہیں چھوٹے گا
وہ ایک ہاتھ اُسکے چہرے پر رکھے بولا پھر اسے مسکرانے کا اشارہ کیا مہک ہلکا سا مسکرائی وہ دوبارہ گاڑی سٹارٹ کرنے لگا
لیکن اسکا یے مطلب نہیں ہے کہ تم مجھ سے یونہی دور بھاگتی رہو ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے غصّہ آیا نہ تو میں زبردستی بھی کر سکتا ہو۔۔۔۔۔۔۔ تم جانتی نہیں مجھے
وہ دھمکانے والے انداز میں بولا اور سامنے دیکھنے لگا مہک پھر سے اُسکے چہرے کو بغور دیکھتی رہی اُسکی ہر بات ہر انداز میں اچھائی تھی اُسکے دلکش چہرے پر نظر آرہا تھا کہ اُسکی ہر بات سچ ہے آرین نے اُسکی نظریں محسوس کی تو مسکرا کر اسے دیکھا
اب ایسے مت دیکھو ورنہ سارا صبر ابھی ٹوٹ جائیگا اور آرین ملک کو اپنی زبان سے پلٹنا پڑےگا
وہ شرارت سے بولا مہک نے گھبرا کر رخ پھر لیا
**********************
کیسی ہو مہک
وہ بالکنی میں کھڑی تھی مدیحہ کی کال ائی تو مسکرا کر فون کان سے لگایا
میں بلکل ٹھیک ہُوں۔۔۔۔۔۔ تم بتاؤ سب کیسے ہے
مہک نے پوچھا
یہاں سب ٹھیک ہے
پھوپھو سے بات ہوئی۔۔۔
اُسنے دھیمے سے پوچھا
نہیں۔۔۔۔ بڑے پاپا بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہے ہانیہ نے بات کی تو پتہ چلا کہ۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رک گئی
کیا پتہ چلا۔۔۔۔۔۔
مہک نے بیتابی سے پوچھا
کچھ نہیں مہک جانے دو یے ساری باتیں ان میں کچھ نہیں رکھا
مدیحہ بتاؤ کیا ہوا کیا بات ہوئی
اُسنے سختی سے پوچھا
آرین بھائی نے جھوٹ بولا تھا۔۔
اسنے جھجھکتے ہوئے کہا
کیا جھوٹ بولا تھا۔۔۔
اُسنے حیرانی سے پوچھا
یہی کے انکا نکاح کسی اور سے ہو چکا ہے۔۔ انھونے صرف شادی سے انکار کرنے کے لیے ایسا کہا تھا۔۔۔۔۔ پھوپھو کو بھی یے بات بعد میں بتائی
کیا ۔۔لیکن کیوں کیو کیا ایسا
اُسنے بمشکل اپنے آنسو روک کر پوچھا
پتہ نہیں یے بات کسی کو بھی نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔ پھوپھو بہت پریشان ہے کیونکہ بڑے پاپا کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ سب کو منع کیا ہوا ہے کہ کوئی تعلق نا رکھے
پاپا کی طبیعت کیسی ہے
لاکھ کوشش کے باوجود اُسکی آنکھیں بھر آئیں
کافی بہتر ہے
مدیحہ نے جواب دیا
اچھا میں رکھتی ہُوں
وہ اس سے زیادہ بات نہیں کر سکتی تھی
مہک یے سب باتیں بھول جاؤ اب صرف اپنی موجودہ اور آنے والی لائف کے بارے میں سوچو آرین بھائی کے بارے میں سوچو ٹھیک ہے
مدیحہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
ہاں ۔۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔خدا حافظ
اُسنے کال کاٹی اور سامنے دیکھنے لگی
مہک ۔۔۔۔۔۔۔
آرین اُسے پکارتے ہوئے وہاں آیا اُسنے فوراً اپنے آنسو صاف کیے لیکن وہ دیکھ چکا تھا
کیا ہوا
اُسنے پوچھا
کچھ نہیں
وہ نظریں چُرائے بمشکل مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی
اِدھر دیکھو کیا ہوا
آرین نے اُسکا چہرہ اوپر کرکے پوچھا وہ دوبارہ روتے ہوئے اُسکے سینے سے لگ گئی اور روتے ہوئے اُسے ساری بات بتائی
اس نے ایسا کیو کیا ۔۔۔۔۔میں نے کیا کیا تھا جو اُسنے ایسا کیا آرین
وہ رونے کے درمیان بولی
کچھ نہیں تم نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ اوکے
وہ اسے خود سے الگ کرکے اُسکے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا اور اُسکے ماتھے پر پیار کیا
ٹھیک ہو تم۔۔۔۔
اُسنے دھیرے سے پوچھا مہک نے اثبات میں سر ہلا دیا
ایک بات پوچھوں۔۔۔
وہ اُسکے چہرے کو جانچتے ہوئے بولا مہک نے سر ہلا کر اجازت دی
کیا تم اس سے محبت کرتی تھی
اُسنے پوچھا مہک نے ایک پل اُسے دیکھا پھر بولی
پتہ نہیں۔۔۔۔
مجھے تمہارا اُسکے لیے یوں رونا بہت تکلیف دیتا ہے آئے نو کے اتنے سال تک کسی ریلیشن شپ میں رہنا پھر ایکدم سے سب کچھ پلٹ جائے تو جذباتوں کو چوٹ پہنچتی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رک گیا
۔۔خیر چھوڑو چلو کہیں باہر چلتے ہے موڑ ٹھیک ہو جائیگا
وہ اُسکا ہاتھ تھام کر بولا
نہیں آرین پلیز۔۔۔۔
اُسنے انکار کرنا چاہا آرین نے اُسکے لبوں پر انگلی رکھی اور آنکھیں دکھائی
چلو۔۔۔۔۔۔
Meharban Urdu Novel By Sanaya Khan Read Online
Meharban Urdu Novel By Sanaya Khan Download PDF
We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.
Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com
