Siyah Raat novel by Mirha Kanwal
URDU NOVELS, BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS

Siyah Raat Novel By Mirha Kanwal (Download Complete Urdu Novels PDF)

Today, I am here to provide you Siyah Raat novel by Mirha Kanwal. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.

Book Name: Siyah Raat
Author Name:  Mirha Kanwal
Genre: Cousin marriage based novels, Horror Novels, Multiple Couples Based Novels, Suspense Based Novels.
Status: Completed

Siyah Raat novel by maha gul beautifully describes the intimacy of cousins love story which leads towards love marriage. This urdu novel pdf is written in a funny style that definitely engage the readers throughout the novel.

Mirha Kanwal is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & real life stories. Mirha Kanwal writes for young generation because she write according to the nerves of adults. Her writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.

Interesting Part Of Siyah Raat Novel By Mirha Kanwal

کیا ہوا کیا کہا اس نے،،، عنائزہ جیسے ہی واپس کیفے میں آئی تو لیلہ نے پوچھا

چلو ابھی اٹھو یہاں سے،،، عنائزہ نے چئیر سے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کہا

ارے لیکن ہوا کیا ہے یہ تو بتاؤ،،، وہ بھی اپنا بیگ سمبھالے اس کے ساتھ چلنے لگی

کسی جگہ بیٹھ کر بتاتی ہوں صبر تو رکھو،،، وہ دونوں ایک بینچ پر بیٹھیں لیلہ سننے کو بے چین تھی کہ ایڈورڈ نے اسے کیا کہا

تم ایڈورڈ کے بارے میں کتنا جانتی ہو،،، عنائزہ نے پوچھا

یہی کہ اس کے ڈیڈ یونی کے پرنسپل ہیں اور وہ نیو یارک کا رہائشی ہے اور لڑکیوں کے ساتھ ٹائم پاس کرتا ہے،،،

ڈفر اتنا تو میں بھی جانتی ہوں کچھ ایسا جو تم نے پہلے مجھے نہ بتایا ہو،،،

نہیں ایسا تو کچھ نہیں،،، لیلہ نے سوچتے ہوئے کہا

اوکے اس کا مطلب مجھے اس کے بارے میں انفارمیشن لینی ہو گی،،، عنائزہ نے کہا تو لیلہ کو حیرت ہوئی

کیوں ایسا کیا ہے جو تم جاننا چاہتی ہو،،، لیلہ کو تجسس ہوا

اس نے آج میرے ساتھ اردو میں بات کی ہے،،،

واٹ،،، یہ کیسے ہو سکتا ہے اسے اردو کیسے آسکتی ہے انپاسبل،،، لیلہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا

اسی لیے تو میں تم سے پوچھ رہی تھی کہ تم اس کے بارے میں اور کیا کیا جانتی ہو کیوں کہ وہ اردو بول بھی رہا تھا اور میں جو کہتی تھی وہ سمجھ بھی رہا تھا،،،

لیکن یار وہ تو یہاں پیدا ہوا یہاں بڑا ہوا پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اسے اردو آتی ہو اور تم نے اسے کچھ کہا نہیں،،،

میں نے پوچھا تھا لیکن اس نے بتایا نہیں،،،

ویسے عنائزہ میں نے تم سے ایک بات چھپائی ہے اس کے بارے میں،،، لیلہ نظریں چراتے ہوئے بولی

کیا۔۔۔ کیا چھپایا ہے تم نے،،،

وہ یہ کہ اسے پاکستانی بلکل بھی نہیں پسند اور اسی وجہ سے میں نے کبھی اس سے بات تک نہیں کہ کہیں وہ مجھے کچھ کہہ نہ دے۔۔۔ اور میں جانتی تھی وہ میرے ساتھ وہ کام نہیں کرے گا جو دوسری لڑکیوں کے ساتھ کرتا ہے کیوں کہ میں پاکستان سے ہوں۔۔۔

لیکن یار تم میں اس نے پتہ نہیں کیا دیکھا جو تمہاری پہلی جرأت کو بھی اگنور کر دیا اور اب یوں سب کے سامنے تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں لے گیا،،،

کیا اگر ایسا ہے تو واقع ہی وہ میرے پیچھے کیوں پڑا ہے کہیں وہ مجھ سے بدلا تو نہیں لینا چاہتا اس تھپڑ کا جو میں نے اسے مارا تھا،،، عنائزہ نے کہا

کوئی پتہ نہیں یار بس اس سے بچ کے رہو یہ سر پھرا کچھ بھی کر سکتا ہے،،،

تم پریشان مت ہو میں کوئی بزدل لڑکی نہیں جس کے ساتھ کوئی بھی لڑکا ہاتھ صاف کر جائے گا میرا نام بھی عنائزہ ہے تم دیکھنا میں اسے کیسا سبق سیکھاتی ہوں ابھی بس مجھے یہ پتہ لگانا ہے کہ اسے پاکستانی کیوں نہیں پسند،،،

میں تو کہتی ہوں کہ رہنے دو کیا کرنا اس کے بارے میں انفارمیشن لے کر دفع کرو یار،،، لیلہ پریشان ہونے لگی

تم اتنا ڈرتی کیوں ہو خود کو مظبوت کرو یہ زمانہ نہیں لڑکیوں کے ڈرنے کا،،، عنائزہ نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

بھئی میں تو یہاں پڑھنے آئی ہوں میں ہاسٹل میں رہتی ہوں میری فیملی پاکستان میں ہے ان سے اتنی دور میں یہاں جو کرنے آئی ہوں صرف اسی پر فوکس دوں گی،،،

اوکے بابا میں تمہیں نہیں کہتی ایڈورڈ کے بارے میں انفارمیشن لینے کو ٹینشن مت لو یہ کام میں خود ہی کروں گی،،،

لیکن عنائزہ میں چاہتی ہوں تم بھی ان چکروں میں مت پڑو،،،

افف یار اب چپ۔۔۔ بہت ڈرتی ہو تم

چلو اٹھو لیکچر کا ٹائم ہو گیا ہے اور ہمارے برگر تو وہیں رہ گئے،،، عنائزہ نے اٹھتے ہوئے کہا

ہاں بھوک تو میری بھی ختم نہیں ہوئی چلو کوئی بات نہیں صبح کھا لیں گے،،، لیلہ کہتی ہوئی اس کے ساتھ چلنے لگی

روحان روٹین وائیز ٹی۔وی پر رومانٹک موویز دیکھتا تھا،،،

اور اس نے جم کا سارا سامان گھر ڈیلیور کروا لیا تھا،،،

ایک روم میں وہ سارا سامان فٹ کروا کے رکھا اور روز جم کرتا پھر اس روم کو لاک لگا دیتا تا کہ عنائزہ نہ دیکھ سکے،،،

وقت کے ساتھ ساتھ اس کا جسم مظبوط ہونے لگا تھا،،،

آج مووی دیکھ کر پھر معمول سے زیادہ وقت تین گھنٹے تک جم کرنے کے بعد وہ تھک کر کمرے میں آیا اور فریش ہونے کے لیے واش روم چلا گیا،،،

عنائزہ گھر واپس آئی اور روحان کو بستر پہ لیٹے پایا،،،

آج کیا ہو گیا جو بستر پر لیٹے ہو،،، وہ بیگ رکھتی ہوئی اس کے سینے پہ سر رکھے پاؤں بیڈ سے لٹکا کر لیٹ گئی،،،

آ گئی تم،،، روحان نے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا

نہیں میری روح آئی ہے،،، وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولی

مذاق نہیں کرو،،، روحان معصوم سا منہ بنا کر بولا

ہائے یہ معصومیت،،، وہ اس کے رخسار کو کھینچتی ہوئی بولی

آئی کیا کر رہی ہو جنگلی بلیوں جیسی حرکتیں کر رہی ہو،،، روحان درد ہونے پر چلّا اٹھا

ہاہاہا ابھی تو تم شکر کرو میں نے جب سے یونی سٹارٹ کی ہے تمہیں بخشا ہوا ہے ورنہ تمہیں میرا پتہ ہے نا،،، اس نے سیدھا ہو کر چہرہ روحان کے چہرے کے مقابل کیا

ورنہ کیا،،، روحان نے پوچھا

عنائزہ ابھی اسے دیکھ ہی رہی تھی جب روحان نے اس کی گردن میں بازو ڈال کر اسے خود پر جھکایا اور اس کے ہونٹوں کو گرفت میں لیا،،،

عنائزہ آنکھیں پھاڑے ہوئے سکتے کی حالت میں چلی گئی اس نے ہرگز بھی نہیں سوچا تھا کہ روحان کا یہ ردِعمل ہو گا،،،

وہ اس سے الگ ہونے لگی تو روحان نے دوسرا ہاتھ اس کی کمر میں ڈال لیا، عنائزہ منہ سے دبی دبی آوازیں نکالتے ہوئے اسے کہنا چاہ رہی تھی کہ چھوڑو مجھے،،،

کچھ دیر بعد روحان نے اسے چھوڑا تو وہ لمبے لمبے سانس لیتی ہوئی حیران اور پریشان نظروں سے روحان کو دیکھنے لگی،،،

روحان نہایت سکون سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا جب عنائزہ کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے،،،

عنائزہ کا یہ روپ دیکھ کر روحان کے ہونٹ کا تل مسکرایا،،،

ت۔۔تم ہوش میں تو ہو پی وی تو نہیں لی،،، عنائزہ کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ کچھ دیر پہلے جو ہوا ہے روحان نے کہا ہے

پھر سے بتاؤں ہوش میں ہوں کہ نہیں،،، وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا کہ وہ فوراً اٹھ کر بیٹھی

اس خلافِ توقع عمل پر عنائزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے اور کیا نہ کہے،،،

فریش ہو جاؤ پھر لنچ کریں گے،،، روحان نے کہا اور عنائزہ حیرت زدہ سی اٹھ کر واش روم چلی گئی

روحان نے دیکھا کہ وہ کپڑے لینا بھول رہی ہے لیکن چپ کر کے بیٹھا رہا کہ خود ہی اسے آواز لگائے گی،،،

فریش ہونے کے بعد جب عنائزہ کپڑے پہننے لگی تو آگے کچھ تھا ہی نہیں پھر اسے یاد آیا کہ وہ جب سکتے کی حالت میں واش روم آئی تو کپڑے لینا بھول گئی،،،

روحان نے آج اچانک جو کیا تھا وہ تو اس کے ہوش اڑا گیا تھا پہلے وہ جانتی تھی کہ وہ شرما جاتا ہے کچھ نہیں کرے گا اس لیے اسے ہر وقت رومانس کے ٹاپک پر تنگ کرتی رہتی تھی،،،

اففف روحان سے ہی کہنا پڑے گا اور تو کوئی آپشن نہیں ہے،،، وہ خود کلامی کرتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی

روحان،،،

وہ جو صوفے پر بیٹھا اس کی پکار کا انتظار کر رہا تھا فوراً بولا،،،

ہاں کیا ہوا،،،

وہ میں اپنے کپڑے لینا بھول گئی ہوں تم وارڈ ڈروب سے نکال کے دے دو گے،،، وہ یہ کہتی ہوئی ہچکچا رہی تھی کیوں نے آج اس نے روحان کا نیا روپ جو دیکھا تھا

وہ اٹھا وارڈ ڈروب کی طرف چل کر بنا کپڑے نکالے واپس آیا،،،

یہ لو کپڑے،،،

عنائزہ نے جیسے ہی دروازہ کھول کر ہاتھ آگے بڑھایا وہ دروازہ دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا،،،

عنائزہ کے پیروں تلے زمین نکلی اور سر پر ساتوں آسمان آ گرے اسے لگا وہ ابھی بے ہوش ہو کر زمین بوس ہو جائے گی،،،

روحان کھڑا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہا تھا جب اگلے پل ہوش آنے پر واش سے کمرہ اور کمرے سے باہر تک عنائزہ کی چینخوں نے شور مچایا،،،

وہ آنکھیں بند کیے مسلسل چلّا رہی تھی کہ روحان نے فوراً آگے بڑھ کر اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا،،،

آج عنائزہ کو اس کا نرم ہاتھ سخت سا محسوس ہوا جو کہ یقیناً جم کا اثر تھا،،،

عنائزہ کا دل باہر سینے سے باہر نکلنے کو تھا وہ ایسی حالت میں روحان کے سامنے تھی جو کہ یقیناً اس کے لیے ڈھیروں شرم کا باعث تھی،،،

روحان نے دوسرے ہاتھ سے ٹاول پکڑا اور اس کے ارد گرد لپیٹ اسے باہوں میں اٹھا لیا،،،

آج پہلی بار روحان کے سامنے اس کی بولتی بند ہوئی تھی یا شاید اس کی بولتی بولنا ہی بھول گئی تھی،،،

چینخوں کی آواز سن کر عقیلہ ان کے کمرے کی طرف بھاگی اس نے ڈور ناک کیا،،،

کون ہے،،، روحان نے اسے بیڈ پر لیٹاتے ہوئے پوچھا

روحان بابا خیر تو ہے نا بیگم صاحبہ چلّا رہی تھیں،،،

ہاں سب خیر ہے،،، اس نے کہا تو عقیلہ اچھا کہتی ہوئی واپس مڑ گئی

اس نے پھر سے اپنا رخ اس کی طرف کیا جو شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی روحان یہ منظر دیکھ کر بہت لطف اندوز ہو رہا تھا جیسے کہ کبھی عنائزہ ہوا کرتی تھی،،،

تو کروں پھر بڑوں والے کام،،، روحان اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا

ت۔۔تم کیا کرتے ہو میرے بعد ا۔۔تنی ہمت کہاں ہے آئی،،، وہ آنکھیں پھیلائے پوچھ رہی تھی

تمہیں ہمت سے کیا مطلب تمہیں تو کام سے غرض ہونی چاہیے،،، روحان اسے آنکھ مار کر بولا

اس کے ایسا کرنے پر عنائزہ نے تین سے چار بار پلکیں جھپکائیں اس کی یہ ادا روحان کے دل کو بہت بھائی،،،

ہ۔۔ہٹو پیچھے مجھے کپڑے پہننے ہیں،،، وہ اسے کندھے سے پیچھے دھکیلتی ہوئی بولی

کہو تو میں پہنا دوں،،،

روحان کی بات سن کر عنائزہ نے شرم سے لب بھینچے،،،

نہیں میں خود پہنوں گی،،،

اوکے میں پہناتا ہوں،،، وہ کہتا ہوا وارڈ ڈروب کی جانب گیا اور گرین کلر کا سوٹ نکالے واپس آیا

د۔۔دو میں خود پہنوں گی،،، روحان کے بدلے تیور دیکھ کر اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی

ششش۔۔۔۔ اس نے عنائزہ کے ہونٹوں پر انگلی رکھی

میں خود پہناؤں گا،،،

بلکل نہیں ہٹو پیچھے بے شرم،،، وہ اسے دھکا دیتے ہوئے اٹھی اور اس کے ہاتھ سے کپڑے چھین کر واش روم بھاگ گئی،،،

آج رات تمہیں سونے نہیں دوں گا،،، عنائزہ دروازہ بند کرنے لگی تو روحان کی آواز اس کی سماعت میں پڑی،،،

اففف یہ کیا ہو گیا ہے روحان کو اتنا بے شرم وہ بھی اتنا اچانک یہ کیسے ہو سکتا ہے اوہ کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی،،،

آؤچ۔۔۔۔اس نے خود کو چٹکی کاٹی

یہ تو حقیقت ہی ہے لیکن مجھے یقین کیوں نہیں آرہا،،، وہ مرر کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو دیکھنے لگی

کیوں عنائزہ کدھر گئی تمہاری بے شرمی اور بے حیائی، تم ہی تنگ کرتی تھی نا اس کو، بڑوں والے کام کرنے کا کہتی تھی کبھی بچے پیدا کرنے کا کہتی تھی اب تمہارا کیا ہو گا وہ تو واقع ہی بڑا ہو گیا اور سچ میں جیسے اس کے ارادے لگ رہے ہیں چار پانچ بچے تو پیدا کروا کے ہی چھوڑے گا،،،

اووووہ اب میں کیا کروں،،، وہ سر پکڑتے ہوئے نیچے بیٹھی

وہ فریش ہو کر نکلی تو روحان کمرے میں نہیں تھا اس نے شکر ادا کیا اور بال ڈرائے کرنے کے بعد نیچے چلی گئی،،،

وہ ٹیبل کے پاس بیٹھا اس کا ویٹ کر رہا تھا عقیلہ نے لنچ ٹیبل پر لگایا ہوا تھا،،،

عنائزہ نے روحان کی طرف دیکھنے کی جراًت نہیں کی تھی وہ آرام سے کھانا کھانے لگی،،،

کھانا ختم کرنے کے بعد وہ سٹڈی روم میں چلی گئی اور شام تک سٹڈی کرتی رہی،،،

جیسے ہی شام ہوئی عنائزہ کو روحان کی بات بار بار یاد آنے لگی “آج رات تمہیں سونے نہیں دوں گا”،،،

وہ ماتھا تھام کر بیٹھ گئی،،،

روحان جان بوجھ کر دوبارہ عنائزہ کے پاس نہیں گیا تھا تا کہ اسے ٹائم دے سکے ذہن کو ریلیکس کرنے کا،،،

ڈنر تیار ہونے پر اس نے عقیلہ سے کہہ کر عنائزہ کو بلوایا،،،

عقیلہ عنائزہ کو کہنے آئی اور عنائزہ اپنے کندھے دباتی ہوئی اٹھی جو کہ کچھ گھنٹے مسلسل سٹڈی کی وجہ سے درد کر رہے تھے،،،

وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو کچن کے ایریے میں ٹیبل کے پاس بیٹھے روحان پر نظر پڑی،،،

کچھ دیر تک دونوں نے خاموشی سے ڈنر کیا،،،

عقیلہ نے عنائزہ کو نوٹ کیا اور سوچنے لگی کہ کہاں بیگم صاحبہ اتنا بولتی تھی باتیں کرتی تھی اور آج خاموش بیٹھی ہے،،، خیر اس نے پوچھنا مناسب نہ سمجھا

کھانا ختم ہونے کے بعد روحان کمرے کی طرف چل دیا اور عنائزہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پیچھے چلنے لگی،،،

اس کا دل یہ سوچ سوچ کر تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا کہ کیا روحان واقع ہی آج کچھ کرنے والا ہے،،،

Siyah Raat Novel By Mirha Kanwal Read Online

Siyah Raat Novel By Mirha Kanwal Download PDF

We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.

Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *