Today, I am here to provide you Tum Zeest Ka Hasil Ho novel by Areej Shah. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.
Book Name: Tum Zeest Ka Hasil HoAuthor Name: Areej ShahGenre: Cousin marriage based novels, Horror Novels, Multiple Couples Based Novels, Suspense Based Novels.Status: Completed
Tum Zeest Ka Hasil Ho novel by Areej Shah beautifully describes the intimacy of cousins love story which leads towards love marriage. This urdu novel pdf is written in a funny style that definitely engage the readers throughout the novel.
Areej Shah is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & real life stories. Zahra Binte Khalid writes for young generation because she write according to the nerves of adults. Her writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.
Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.
They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.
Interesting Part Of Tum Zeest Ka Hasil Ho novel by Areej Shah
بھائی آپ گھر جائیں بھابی آپ سے بہت ناراض ہوں گی
ہاں جانتا ہوں ناراض تو وہ ضرور ہوگی الفاظ اب بھی غصے میں تھا
بھائی آپ کو بھابی کو میرے بارے میں بتا دینا چاہیے تھا
بھائی آپ نے ان سے چھپا کر بہت بڑی غلطی کی ہے نویرہ نےسمجھانے کی کوشش کی
نہیں نویرہ اگر اسے تمہارے بارے میں بتاتا تو اسے عالیہ کے بارے میں بھی سب کچھ پتہ چل جاتا
اور اب میں نور کو ک کسی قیمت پر نہیں کھو سکتا
اگر میں نے اسے تمہارے بارے میں کچھ بھی بتایا تو ماما اسے عالیہ کے بارے میں سب کچھ بتا دیں گی
وہ کچھ ہی دن میں واپس آجائیں گی انہیں پتہ چل جائے گا کہ میں نے سب کچھ تمہارے نام کر دیا ہے
نور کو اپنے آپ سب کچھ پتہ چل جائے گا
لیکن بھائی یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ بھابھی آپ پر یقین کریں
یقین …الفاظ ہنسا
تم نے دیکھا نہیں نویرہ نور کس طریقے سے تمہیں دیکھ رہی تھی کتنی نفرت تھی اس کی آنکھوں میں تمہیں لگتا ہے
وہ بھی تب جب وہ مجھے بچپن سے جانتی ہے کہ میری کوئی بہن ہے ہی نہیں
اگر میں اسے یہ کہتا کہ تم میری بہن ہو وہ کبھی میری بات کا یقین نہیں کرتی
اور تم ماما کو نہیں جانتی نویرا وہ عورت کیا سے کیا کر جائے گی
بھائی لیکن میرے منع کرنے کے بعد آپ نے یہ ساری جائیداد میرے نام کیوں کی
بھائی میں نے آپ سے کہا تھا نہ ….مجھے آپ کے سوا کچھ نہیں چاہئے تو بتایں یہ آپ نے میرے سر پر اتنا بوجھ کیوں رکھا نویرا کو غصہ آ رہا تھا
کیونکہ اس سب پر تمہارا حق ہے نویرا یہ سب کچھ تمہارا ہے
اور میرا حق بنتا ہے کہ جن خوشیوں کے لئے تم بچپن سے ترسی ہو وہ میں تمھیں دوں
میں نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے نویرہ
میں اپنے نانا اور ماں کی محنت کو اس طرح کسی اور کے نام نہیں لکھ سکتا
لیکن بھائی مجھے یہ سب کچھ نہیں چاہئے آپ سب کچھ صدف انٹی کو دیے دیں اس سے ان کا منہ بھی ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا وہ بھابی کو کچھ نہیں بتائیں گی
نہیں نویرہ نور کا فیصلہ میں نے اپنے خدا پر چھوڑ دیا ہے
اگر نور میری قسمت میں ہوگی تو وہ مجھے ضرور ملے گی لیکن تمہارا حق میں تمہیں ضرور دوں گا
°°°°°°°
وہ گھر آیا تو نور اپنے کپڑے پیک کر رہی تھی
روشانے اور آرزو بھی اس کے کمرے میں نور کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی
الفاظ کو کمرے میں آتے دیکھ وہ دونوں کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ نور اپنے کام میں مصروف رہی
یہ سب کچھ کیا ہے نور کہاں جا رہی ہو تم یہ سامان کیوں پیک کر رہی ہو
جہنم میں نور غصے سے چلائی اور پھر اپنا کام جاری رکھا
الفاظ اس وقت بہت غصے میں تھا نور کی حالت دیکھ کر اس کا دل کٹ رہا تھا
بکھرے بال سوجی آنکھیں سرخ چہرہ الفاظ کو بہت کچھ بیان کر گیا تھا
مجھے بھی ساتھ لے چلو میں یہاں رہ کر کیا کروں گا الفاظ نے اسے منانے
کی کوشش کی
نور بنا کچھ بولے اپنے کام میں مصروف رہی
پوچھو گی نہیں کہ وہ لڑکی کون تھی الفاظ نے کہا اور ساتھ کپڑے چھین کر بیٹھ پر پھینک دیے
ریسٹورنٹ میں تھپڑ مار کہ مجھے بہت اچھے طریقے سے بتا چکے ہیں کہ وہ آپ کے لیے کون ہے
نور میری بات سمجھنے کی کوشش تو کرو
بہت ہوگیا بہت بنا لیا آپ نے مجھے بے وقوف اب میں آپ کا کبھی یقین نہیں کروں گی اور نہ ہی
یقین…..?
نورکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ الفاظ نے اس کی بات کاٹ دی یقین کیا کب ہے تم نے نور
یہ یقین ہے تمہارا نور ایک لڑکی کے ساتھ تم نے مجھے ریسٹورنٹ میں بیٹھے دیکھ کر خود ہی اندازہ لگالیا کہ میرا افیئر چل رہا ہے
یہ ہے تمہارا یقین یہ یقین کیا ہے تم نے مجھ پر تو سن لو نور بی بی وہ لڑکی میری گرل فرینڈ نہیں میری سگی بہن ہے
اب تم جاننا چاہو گی کہ وہ میری بہن کیسے ہوئی ہے نا تو بتاتا ہوں
بیٹھو الفاظ غصے سےدھاڑتے ہوئے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
اس کی بات پر وہ اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی میں نے کہا بیٹھو الفاظ پھر چلایا
وہ سب سمجھ چکا تھا کہ نور کے چھوٹے سے ذہن میں نرمی سے کوئی بھی بات نہیں آئی گی
آرام اور سکون سے میری بات سنو میرے بابا نے دو شادیاں کی تھیں
پہلی شادی انہوں نے اپنی مرضی سے صدف سے کی تھی
جبکہ دوسری شادی دولت کے لالچ میں میری ماں سمیرا سے کی تھی
پہلی شادی میں ان کی چار اولادیں ہیں ان میں ایک شہریار عمیر آنا تین سال کی عمر میں
جبکہ دوسری بیٹی پیدا ہوتے ہی مر گئی
جب کہ میری ماں سمیرا میں سے ان کی دو اولادیں ہیں میں اور میری بہن
اپنے مقصد میں کامیاب ہو کہ بابا نے ماما کو طلاق دے دی تھی یہ جانے بغیر کہ وہ ان کے بچے کی ماں بننے والی ہیں
اور مجھے لا کر صدف بیگم کے حوالے کردیا
جب ان کے خاندانی ڈاکٹر کے ذریعے انہیں پتہ چلا کہ ماما ماں بننے والی ہیں تو بابا نے ماما کو ہر جگہ ڈھونڈا
لیکن اس وقت ناجانے ماما کہاں جا چکی تھی
تم سے شادی میری خواہش تھی میں تم سے محبت کرتا ہوں حد سے زیادہ
تمہارے بغیر جینا میرے لیے آسان نہ تھا اس لیے تمہیں پانے کے لیے میں ہر حد کراس کرنے کے لئے تیار تھا
نور اگرمیں دل تھا تو تم اس دل کی دھڑکن بن چکی تھی تمہارے بغیر میرا گزارا
نا ممکن ہو گیا تھا
الفاظ نے اپنی محبت کا اظہار کیا تو نور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی
میری ماما نے جانے سے پہلے اپنی ساری جائیداد میرے نام کر دی
لیکن صدف کے لیے یہ ایک بہت بڑی شکست تھی
جس نے دولت کے لیے اپنا شوہر تک بانٹ لیا تھا میں جانتا ہوں نور میری بات پر یقین کرنا تمہارے لیے آسان نہیں
ہاں نور تمہاری پھوپھو جنہیں تم اپنی ماں سے بھرکر مانتی ہوں وہ تمہارا بھی استعمال کر رہی تھی
جب انھیں پتہ چلا کہ میں تمہیں چاہتا ہوں تو انہوں نے تمھیں اپنے قریب کر لیا
تاکہ تم مجھ سے دور ہو جاؤ
ماما نے ہر وہ ممکن کوشش کی جس سے یہ جائیداد ان کے نام ہو سکے
لیکن یہ سب کچھ میرے 18 سال کے ہونے سے پہلے ممکن نہ تھا
بابا کتنے سال سے اپنی کی گئی غلطی کے لئے پچھتا رہے تھے انہوں نے مجھے 17 سال کی عمر میں لندن بھیج دیا
اس بات پر ماما بابا کی بہت لڑائیاں ہوئی
لیکن بابا اپنی بات سے پیچھے نہ ہٹے
الفاظ بولے جا رہا تھا جبکہ نور روئے جارہی تھی
نور اس معاملے میں بہت امیر تھی آنسوؤں کی اسے کبھی کمی نہیں ہوئی تھی
لندن جاکر وہاں میں بابا کے ایک فلیٹ میں رہتا تھا
نور جہاں مجھ سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی
جس میں میری کوئی غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی میں برے طریقے سے پھنس گیا
وہاں سے واپس آیا تو ماما نے ایک بار پھر سے پیپر میرے سامنے رکھے
لندن سے واپس آنے کے بعد نور مجھے تمہاری ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی
میں تم سے محبت کرتا تھا نور تم سے الگ کیسے رہتا میں نے ماما کے سامنے پرانی شرط واپس رکھ دی
میں نے ماما کو کہہ دیا کہ انہیں میری شادی تم سے کروانی ہوگی اسی صورت میں میں ساری جائیداد ان کے نام کروں گا
ماما اس بات کے لئے اپنے بھائی کو نہیں منا پائی لیکن انہوں نے تمہیں منا لیا
تم ان کے ساتھ رہنا چاہتی تھی ان کے پاس آنا چاہتی تھی اس لیے تم نے مجھ سے شادی کے لئے ہاں کر دی
نور میں جانتا ہوں تمہاری ماما سے محبت بھی بےلوث ہے بےغرض ہے
لیکن نور محبت اس شخص سے کرنی چاہیے جو آپ کی محبت کے قابل ہو اورصدف تمہاری محبت کے قابل نہیں ہے
آپ کیا کہہ رہے ہیں الفاظ نور روتے ہوئے کچھ بول بھی نہیں پا رہی تھی الفاظ نے اسے چپ کروا دیا
میری بات سنو لو ابھی میری بات مکمل نہیں ہے
میں ہماری شادی پر بہت خوش تھا نور بہت خوش تھا مجھے میری منزل مل رہی ہے
میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہونے جارہی تھی جس دن ہمارا نکاح ہوا میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی
نکاح والے دن ولید کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا
جب مجھے یہ خبر ملی تو میں سید ھا سپیٹل پہنچا
کوئی عورت تھی
میرے پہنچنے کے کچھ دیر بعد وہاں ایک لڑکی پہنچی جس کی آنکھیں بالکل میرے جیسی تھی
تمہیں پتہ ہے نور وہ عورت بار بار کیا کہہ رہی تھی
وہ کہہ رہی تھی کہ بس ایک بار اسے اس کے بیٹے سے ملادو
میں نے اس لڑکی کو کہا کہ اس عورت کے بیٹے کو بلائیں اس سے ملائیں
تاکہ یہ عورت بہتر ہو سکے
عورت کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا
اس کا کینسر لسٹ سٹیج پر تھا
وہ ایک پاگل عورت تھی
اس عورت کو پاگل کہتے ہوئے الفاظ کی آنکھوں سے آنسو گرے
جن کو صاف کر کے الفاظ نے پھر بولنا شروع کیا اور نیم بےہوشی میں بار بار اپنے بیٹے کو پکارتی تھی
جانتی ہو نور اس کے بیٹے کا نام سکندر تھا
لڑکی کو کہا کہ کہیں سے بھی عورت کا بیٹا لا کر دو مجھے اس سے ہمدردی ہو رہی تھی نور
اس عورت کی بے سکونی دیکھ کر میں بھی بے سکون تھا
اس کی بے چینی دیکھ کر مجھے بھی بے چینی ہو رہی تھی
لیکن اس لڑکی نے مجھے بتایا کہ اس کے پیدائش سے پہلے اس کی ماں اور باپ کا طلاق ہو گیا
اور وہ شخص اپنا بیٹا اپنے ساتھ لے گیا
لیکن میں اس عورت کی آخری خواہش پوری کرنا چاہتا تھا میں اسے اس کے بیٹے سے ملوا نا چاہتا تھا
میں نے اس لڑکی سے اس کے باپ کا نام پوچھا تھا
تو جانتی ہواس نے کیا جواب دیا ندیم احمد
میں بچپن سے اپنی ماں کا نام جانتا تھا بابا نے بتایا تھا
نور میں نے سوچا کہ اس دنیا میں بہت سارے ندیم احمد اور سمیرا ہوتے ہوں گےضروری تھوڑی ہے کہ وہ میرے ماں باپ ہوں
میں اس عورت کو نہیں پہچان پایا نور میں نہیں پہچان پایاکہ وہ عورت میری ماں ہے
لیکن جب اس عورت کو ہوش آیا تو اس نے مجھے پہچان لیا
اس نے کہا کہ میرا چہرہ بالکل میرے باپ کے جیسا ہے
میں بچپن سے اپنی ماں کے لمس کے لئے ترسا ہوااس عورت کی گود میں جا کر لیٹ گیا
میں گھر آیا تو شادی کی تیاریاں چل رہی تھی میں سیدھا بابا کے کمرے میں چلا گیا
میں نے ان سے پوچھا کیا میری ماں زندہ ہے
Tum Zeest Ka Hasil Ho novel by Areej Shah Read Online
Tum Zeest Ka Hasil Ho novel by Areej Shah Download PDF
We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.
Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com
