Aks Novel By Khanzadi
BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS, URDU NOVELS

Aks Novel By Khanzadi Complete (Download Urdu Novels PDF)

Today, I am here to provide you Aks Novel By Khanzadi. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.

Book Name: Aks
Author Name:  Khanzadi
Genre: Cousin marriage based novels, Horror Novels, Multiple Couples Based Novels, Suspense Based Novels.
Status: Completed

Aks Novel By Khanzadi beautifully describes the intimacy of cousins love story which leads towards love marriage. This urdu novel pdf is written in a funny style that definitely engage the readers throughout the novel.

Khanzadi is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & real life stories. Zahra Binte Khalid writes for young generation because she write according to the nerves of adults. Her writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.

Interesting Part Of Aks Novel By Khanzadi

اگلی صبح مہک کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے بیڈ پر تھی۔۔۔تیزی سے چونک کر اٹھی اور شیشے کی طرف بھاگی۔

گردن پر ہاتھ لگا کر دیکھا۔۔۔زخم تو دور کی بات ہے خراش کے نشان تک نہیں تھے۔

گہری سانس لیتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔جان لینے کی بات بھی کرتا ہے اور جان لیتا بھی نہی ہے۔

سمجھ میں نہیں آ رہا آخر میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے٫کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں۔۔۔ایک ڈراؤنا خواب۔

وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی کہ کمرے کا دروازہ نوک ہوا اور اس کی امی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ابھی تک سو رہی ہو تم؟

ٹائم دیکھو کیا ہو رہا ہے،تمہارے بابا اور بھائی تمہارا انتظار کر کر کے جا چکے ہیں اور تم اب اٹھ رہی ہو۔

مہک نے گھڑی کی طرف دیکھا تو پریشانی سے سر تھام لیا۔۔۔نو بج رہے تھے اور اس کی کالج سے چھٹی ہو چکی تھی۔

الارم نہیں لگایا تھا؟

نہی امی۔۔۔رات کو سر میں زرا درد تھا پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی۔

کیا ہوا سر کو دکھاؤ زرا۔۔۔وہ آگے بڑھی اور مہک کے ماتھے کو ہاتھ لگایا۔

بخار ہے تمہیں آنکھ کیسے کھلے گی۔۔۔کیا کرتی رہتی ہو؟

زرا خیال نہیں رکھتی اپنا۔۔منہ ہاتھ دھو کر نیچے آو ناشتہ کرو اور دوائی کھاو۔

سر میں درد تھا تو بتا دیتی رات کو مجھے،دیکھو ناں اب سر درد بخار بن گیا ہے۔

آو نیچے جلدی۔۔۔وہ پریشان سی کمرے سے باہر نکل گئی اور مہک شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔

امی بھی ناں کچھ زیادہ ہی فکر کرتی ہیں آجکل میری،اب انہیں کیا پتہ یہ بخار نہیں کچھ اور ہے۔

یہ بخار نہیں بلکہ ایک خوف ہے۔۔۔ایک ایسا خوف جو میں اپنے لیے خود چن رہی ہوں۔

مجھے اس کی عادت ہو گئی ہے۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ میرا نہیں ہو سکتا اور ناں ہی میں اس کی۔

پھر بھی پتہ نہیں کیوں اس کے دور جانے کے خوف نے مجھے خوفزدہ کر دیا ہے۔

“کاش وہ انسان ہوتا”۔۔۔اگر ایسا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔۔۔اپنے خیال پر خود ہی مسکرا دی۔

یہ زندگی بھی ناں۔۔۔کبھی کبھی ہمیں ایسے چوراہے پر لا کر چھوڑ دیتی جہاں سے کوئی منزل مل ہی نہی سکتی۔

ایک تھا خاور جو مجھ سے محبت کے بہت دعوے کرتا تھا لیکن جب نبھانے کی باری آئی تو اس نے محبت کے نام پر میرے منہ پر ایسا تمانچہ مارا کہ میں آج تک محبت کے نام سے ڈرتی ہوں۔

اور دوسرا وہ جس کے بارے میں میں نے کبھی سوچا تک نہیں تھا۔۔۔دائم کو زبردستی بڑوں کے فیصلے پر میری زندگی میں شامل کر دیا گیا یہاں تک کہ کسی نے مجھ سے میری مرضی جاننا بھی ضروری نہیں سمجھا۔

وہ اپنی زمہ داریاں بہت اچھی طرح پوری کر رہا ہے لیکن دل میں “شایان” نام کی ایک خلش ہمیشہ رہتی ہے۔

“شایان۔۔۔ایک ایسا نام جو کسی سایے کی طرح میری زندگی میں آیا اور میرے وجود کا حصہ بن گیا۔”

میرے لیے وہ سب سے تنہا لڑا اور پھر میرے لیے ہی مجھ سے دور ہو گیا۔۔۔اگر اس کا ملنا میرے نصیب میں نہیں تھا تو پھر وہ میری زندگی میں آیا ہی کیوں؟

اسے مجھ سے محبت ہے لیکن مجھے اس کی عادت ہو چکی ہے۔۔۔اب اگر وہ مجھے چھوڑ کر جائے گا تو میں سوچ کر ہی کانپ جاتی ہوں۔۔۔اس کی دوری کیسے برداشت کروں گی۔

میں دائم کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتی کیونکہ اس نے ہر طرح کے حالات میں ہمیشہ مجھے تحفظ دیا ہے لیکن شایان کا کیا؟

اس نے مجھ سے بہت محبت کی ہے۔۔۔کیا وہ اپنی محبت کو کسی اور کے آسرے پر چھوڑ کر چلا گیا؟

کیا واقعی اس نے مجھے دائم کے ساتھ قبول کر لیا یا پھر قسمت کے سامنے ہار مان چکا ہے؟

کیا محبت اتنی کمزور چیز کا نام ہے؟

نا جانے کتنی ہی دیر شیشے کے سامنے کھڑی خود سے ہی سوال کرتی رہی یہاں تک اس کی امی دوبارہ کمرے میں داخل ہوئی۔

ابھی تک یہی کھڑی ہو مہک؟

کیا کرو گی تم مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی۔۔۔جاو جلدی میں نیچے انتظار کر رہی ہوں تمہارا۔

ماں کو دیکھ کر کر مسکرا دی۔۔۔امی آپ چلیں میں آتی ہوں۔

جلدی آ جاؤ پتہ نہیں کن سوچوں میں گم کھڑی ہو۔۔۔وہ بے بسی میں سر کو نفی میں ہلاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔

_________________________

خاور بہت سکون سے سو رہا تھا کہ اچانک کسی نے اس کے سر پر پانی کا جگ الٹ دیا۔

ہڑبڑاتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔کون ہے؟

کیا بدتمیزی ہے یہ؟

آنکھوں سے پانی صاف کرتے ہوئے دیکھا تو سامنے شمع کھڑی تھی۔

دماغ ٹھیک ہے۔۔۔پاگل تو نہیں ہو گئی؟

شمع نے پانی کا جگ میز پر رکھا اور غصے میں خاور کی طرف بڑھی۔۔۔میرا دماغ بلکل ٹھیک ہے لیکن تمہارا دماغ مجھے ٹھیک نہی لگ رہا خاور۔

کیا مطلب ہے آپ کا آپی؟

اب میں نے کیا کر دیا؟

خاور حیران تھا کہ آخر شمع کو ہوا کیا ہے۔

اتنے بھولے ہو نہیں تم جتنے بننے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔میری ایک بات آج تم کان کھول کر سن لو۔

میں نے پہلے بھی سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن تم نہیں سمجھے۔۔۔آج آخری بار سمجھا رہی ہوں اور اس کے بعد میں سمجھاؤں گی نہیں بلکہ بابا کو تمہارے سارے کرتوت بتاؤں گی۔

پھر وہ تمہارے ساتھ کیا کرتے ہیں یہ تم جانو اور وہ جانیں۔

What’s wrong with you?

ہوا کیا ہے کچھ بتائیں گی؟

صبح صبح تماشہ کیوں لگا رہی ہیں؟

جب دیکھو تب دھمکیاں لگاتی رہتی ہیں اور کوئی کام ہی نہی ہے آپ کو۔

بکواس بند کرو سمجھ آئی۔۔۔زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے زبان کھینچ لوں گی میں تمہاری۔

اپنے کرتوت سہی کر لو ابھی بھی وقت ہے۔۔۔یہ کیا کھچڑی پک رہی تھی رات کو تائی امی کے ساتھ؟

اوہ۔۔۔تو یہ بات ہے،میں نے کہا پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے جو آپ طوفان کی طرح میرے کمرے میں آ گئی۔

شادی کر دی ہے آپ کی جائیں اپنے گھر اور اپنے سسرال والوں کی خدمتیں کر کے تمغات حاصل کریں۔

میری زندگی ہے میرا جیسے دل چاہے گا ویسے ہی گزاروں گا۔۔۔آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔

اچھا۔۔۔اب تم مجھے میرے گھر سے نکلنے کا بولو گے؟

کونسا گھر بہن؟

شادی کے بعد لڑکی کا اصل گھر اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے۔۔۔اور خود ہی کہتی رہتی ہیں میرا گھر میرا گھر تو اب ایکسیپٹ کریں اپنے گھر کو۔

صبح صبح دماغ خراب کر رہی ہیں۔

تمہارا دماغ میں نہیں تائی امی خراب کر رہی ہیں۔ابھی بھی وقت ہے خاور سدھر جاو۔

کہی ایسا نا ہو بعد میں تمہارے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے۔

تائی امی تمہیں استعمال کر رہی ہیں۔وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئیں تو تمہیں چائے میں گری مکھی کی طرح اٹھا کر پھینک دیں گی۔

خود سوچو وہ یہ کام خود بھی تو کر سکتی تھی،انہوں نے تمہیں کیوں چنا اس کام کے لیے؟

میں بتاتی ہوں۔۔۔وہ چاہتی ہیں کہ تم یہ کام کرو تا کہ اگر کل کو سب کے سامنے یہ بات کھلتی بھی ہے تو وہ سارا الزام تم پر ڈال دیں اور خود بیٹے کی نظروں میں اچھی بن جائیں۔

وہ پھنسا رہی ہیں تمہیں اپنی چال میں اور تم بے وقوف بنتے چلے جا رہے ہو۔

پتہ نہیں کب عقل آئے گی تمہیں۔۔۔میری بات پر غور کرو اور خود فیصلہ کرو۔

وہ فائل ان کو واپس کر دو اور دور ہٹ جاؤ اس معاملے سے۔۔۔قسمت کے آگے کسی کا زور نہیں چلتا اور ویسے بھی تم نے اپنی قسمت خود لکھی ہے۔

اب جو ہے اسے قبول کرو۔۔۔شازیہ کے ساتھ وقت گزارا کرو،تمہیں پتہ ہے وہ اس وقت کہاں ہے؟

کہاں ہے؟

شمع کی بات پر خاور حیرت زدہ سا بولا۔

ہاسپٹل میں ہے رات سے اس کی طبیعت خراب ہے،تمہیں زرا سا بھی احساس نہیں ہے اس کا۔

ایسے ہوتے ہیں شوہر؟

نکاح تو کر لیا تم نے لیکن اپنی زمہ داریوں سے کب تک جان چھڑاتے رہو گے؟

کافی دن سے بخار تھا طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو پھوپھو ہاسپٹل لے گئی.

پھوپھو کیوں لے کر گئی ہیں گھر میں اور کوئی نہیں تھا؟

کیا بات ہے تمہاری۔۔۔گھر میں کوئی اور نہیں تھا۔۔۔ساحل اُدھر ہی تھا صبح آفس چلا گیا اور کس نے رکنا تھا وہاں؟

تمہیں تو مہک سے ہی فرصت نہیں ہے۔

میں دیکھتا ہوں۔۔۔آپ ناشتہ بنا دیں میرے لیے میں فریش ہو کر آتا ہوں۔

ٹھیک ہے۔۔۔شمع مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔

ناشتہ کرنے کے بعد خاور فوراً ہاسپٹل کے لیے نکل گیا۔۔۔راستے سے شازیہ کے لیے گلاب کے پھولوں والا ایک گلدستہ خریدا اور ساحل سے ایڈریس پوچھ کر ہاسپٹل پہنچا۔

اسے سامنے دیکھ کر شازیہ چونک گئی اور اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہو گئی۔

لیٹی رہو۔۔۔اٹھنے کی ضروت نہیں ہے۔۔۔خاور تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور گلدستہ اس کی طرف بڑھایا۔

“کیسی طبیعت ہے اب؟”

شازیہ نے اس کے ہاتھ سے گلدستہ پکڑا اور تکیے پر رکھتے ہوئے بے یقینی سے اسے دیکھتی رہ گئی۔

میں نے پوچھا طبیعت کیسی ہے اب؟

خاور نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تو ہوش میں آئی اور سر اثبات میں ہلایا۔۔۔پہلے سے بہتر ہوں۔

پھوپھو آپ گھر چلی جائیں میں ہوں یہاں اس کے پاس،آرام کریں آپ تھوڑا۔

ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔وہ آگے بڑھی اور باری باری دونوں کے سر پے ہاتھ رکھتی ہوئی نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئی اپنا بیگ اٹھائے کمرے سے باہر نکل گئیں۔

“ہاں جی”۔۔۔اب بتاؤ کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی؟

ان کے جاتے ہی خاور شازیہ کے پاس بیٹھ گیا اور اس کے چہرے پے نظریں جمائے سنجیدگی میں سوال کیا۔

مجھے نہی پتہ۔۔۔بس بخار ہو گیا ہے تھوڑا سا۔۔۔شازیہ نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔

یہ تھوڑا سا بخار ہے؟

نہی۔۔۔شازیہ نے سر نفی میں ہلایا۔

“تو پھر،کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟”

کچھ نہی۔۔۔شازیہ نے سر نفی میں ہلایا اور چہرہ دیوار کی طرف موڑ لیا۔

خاور نے گہری سانس لی اور ہاتھ آگے بڑھاتے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔۔۔میری طرف دیکھ کر بات کرو۔

شازیہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔۔خاور اسے حیران پر حیران کیے جا رہا تھا۔

“ناراض ہو؟”

شازیہ نے سر نفی میں ہلایا اور رونا شروع ہو گئی۔

میں نے رونے کو تو نہی کہا تم سے۔۔۔اگر رونا ہے تو میں چلا جاتا ہوں یہاں سے۔

جاؤں؟

نہی۔۔۔شازیہ نے اس کا بازو تھام لیا۔

خاور نے اپنے بازو پر موجود اس کے ہاتھ کو دیکھا اور مسکرا دیا۔۔۔کچھ بھی ہو جائے لیکن وہ اپنے لیے اس کی محبت کو نہی جھٹلا سکتا تھا۔

“کچھ کھاؤ گی؟”

نہی۔۔۔شازیہ نے سر نفی میں ہلایا۔

“کہی باہر چلیں؟”

اس کے سوال پر شازیہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔میری حالت خراب ہے اور تمہیں باہر جانے کی پڑی ہے۔

ہاں مجھے بھی پتہ ہے تمہاری حالت خراب ہے لیکن کم ازکم اسی بہانے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ تو نظر آئی۔

بہت بدصورت لگ رہی ہو۔۔۔خاور اس کی ناک کھینچتے ہوئے بولا۔

اور تم ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہے ہو۔۔۔شازیہ بھیگی آنکھوں سے مسکراتی ہوئی بولی۔

“ہمیشہ کی طرح”۔۔۔مطلب کافی دیر سے نظر تھی تمہاری مجھ پر؟

ہاں بہت دیر سے۔۔۔شازیہ نے فوراً جواب دیا۔

“کتنی دیر سے؟”

Kindly Explain me…

شازیہ نے شرماتے ہوئے آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔

شرما تو ایسے رہی ہو جیسی ہماری شادی کی رات ہے۔۔۔خاور کچھ زیادہ ہی بے تکلف ہو رہا تھا۔

شازیہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور اس کے کندھے پر مکا مارا۔۔۔بولنے سے پہلے سوچ تو لیا کرو کیا بولنا ہے۔

“اب بیوی کے سامنے بھی سوچ کر بولوں میں؟”

خاور کے منہ سے اپنے لیے بیوی کا لقب سن کر شازیہ نے بھنویں سکوڑتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔جلدی خیال نہیں آ گیا تمہیں بیوی کا؟

دیر سے سہی خیال آ تو گیا نا۔۔۔اب زیادہ سوال نا کرو،آرام کرو۔۔۔میں ڈاکٹر سے مل کر آتا ہوں۔

پیار سے شازیہ کا گال تھپکتے ہوئے مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

کچھ دیر بعد واپس آیا اور پھر سے شازیہ کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔ڈاکٹر کے مطابق اب ٹھیک ہو تم بس بخار زرا دیر سے اترے گا اور آرام کی ضرورت ہے۔

گھر جا کر آرام کرو یا یہاں رکنے کا ارادہ ہے؟

اگر تم میرے پاس رہنے کا وعدہ کرو تو میں پوری زندگی یہاں گزار سکتی ہوں۔

خاور نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا اور مسکرا دیا۔

Dont be Romantic…I am Serious

زیادہ فلمی ڈائیلاگز مارے تو یہی چھوڑ جاؤں گا۔۔۔چپ چاپ گھر چلو،سانس گھٹ رہا ہے میرا یہاں اور جہاں تک بات ہے میرے پاس رہنے کی تو میں ہمیشہ تمہارے پاس ہوں میری چڑیل۔

ٹھیک ہو جاؤ جلدی سے پھر ایک ڈنر پلان کریں گے۔۔۔پتہ نہی کیوں خاور نا چاہتے ہوئے بھی اسے یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ زندگی بھر اس کے ساتھ ہے۔

وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔اسے شازیہ کی قربت میں بہت سکون مل رہا تھا۔

دراصل یہ سکون ان کے درمیان نکاح کے پاک رشتے کی وجہ سے تھا لیکن فی الحال دونوں ہی اس راز سے انجان تھے۔

کچھ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد آخر کار خاور اسے ساتھ لیے گھر آ گیا۔

Aks Novel By Khanzadi Read Online

Aks Novel By Khanzadi Download PDF

We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.

Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *