Today, I am here to provide you Mera Harjai Novel By Sidra Sheikh. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.
Book Name: Mera HarjaiAuthor Name: Sidra SheikhGenre: After marriage based Novels, Forced Marriage Based Novels, romantic, Innocent heroin based novels.Status: Completed
Mera Harjai Novel By Sidra Sheikh beautifully describes the intimacy of cousins love story which leads towards love marriage. This urdu novel pdf is written in a funny style that definitely engage the readers throughout the novel.
Sidra Sheikh is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & real life stories. Zahra Binte Khalid writes for young generation because she write according to the nerves of adults. Her writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.
Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.
They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.
Interesting Part Of Mera Harjai Novel By Sidra Sheikh
۔
“میری بیٹی سے دور رہو۔۔ اگر تمہارے ارادے برے ہیں تو یاد رکھنا میں تمہیں پوری طرح برباد کردوں گا۔۔”
“آپ اس پوزیشن پر نہیں ہیں مسٹر نجیب ۔۔ لک سر آپ کی یہاں ویلیو وہ نہیں ہے کہ آپ مجھے آرڈر دہ سکیں۔۔ حورب کے لیے تو آپ نام کے باپ ہیں ۔۔
آپ کی کسی بات سے میرے اور اسکے رشتے پر۔۔”
“ہاؤ ڈیرھ یو۔۔۔ میرے پاپا سے اس طرح بات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی شہاب۔۔”
شہاب کو دو قدم دور کردیا تھا نجیب سے۔۔ شاید اتنے غصے میں پہلی بار دیکھا تھا اسے کسی نے بھی
“حورب میں تو وہی کہہ رہا جو میں نے سنا۔۔ انکیشہا کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔”
“جتنی میری ماں کی اہمیت میری زندگی میں ہے اتنی ہی میرے ڈیڈ کی بھی ہے سنا تم نے۔۔
اگر انہوں نے تمہیں ناپسند کردیا تو سمجھ لو میں نے کردیا۔۔اب کل جاؤ یہاں سے۔۔ آؤٹ۔۔”
شہاب کو بازو سے پکڑ کر وہ دروازے کے باہر چھوڑ کر آئی اور دروازہ جونہی اسکے منہ پر بند
کیا تو سامنے نسواء کھڑی تھی جس کے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس تھا۔۔۔
“نجیب کو روم میں لے جاؤ۔۔۔”
“چلیں ڈیڈ۔۔۔”
حورب نسواء کو درگزر کرکے جیسے ہی نجیب کو سٹیرز کی طرف لے جانے لگی تھی نسواء نے پھر اسے پکارا تھا
“تمہارا روم اس طرف ہے حورب بیٹا۔۔”
“میں ڈیڈ کو آپ کے بیڈروم میں لیکر جارہی ہوں موم۔۔۔ پلیز۔۔ میں نہیں چاہتی کوئی بھی باہر والا منہ اٹھا کر ٹکے ٹکے کی باتیں کریں میرے ماں باپ ے رشتے پر۔۔۔”
پہلی بار نجیب نے آنکھیں اٹھا نسواء کی آنکھوں میں دیکھا تھا جو نظریں چرا کر کچن میں چلی گئی تھی
۔
کچن میں جاتے ہی دونوں ہاتھ کاؤنٹر پر رکھ کر سر جھکا لیا تھا
“کیوں آج میں قصوروار ہورہی ہوں حورب کی نظروں میں۔۔ اور وہ شخص جس نے میری جوانی میری شادی میرا سب کچھ چھین لیا وہ اچھا ہوگیا۔۔
کیونکہ ایک معافی مانگ لی تھی بس اب بیوی پر فرض ہوگیا ہے معاف کرنا۔۔؟”
آنکھوں سے آنسو صاف کئیے وہ پانی کی بوتل فریج سے نکالے گیسٹ روم میں چلی گئی تھی
۔
وہ اس شخص پر غصہ تھی غصہ اسے اپنی بیٹی پر بھی تھا۔۔
اور ان حالات پر بھی جن میں زندگی اسے لے آئی تھی۔۔
نہ وہ اس سے نفرت کرپارہی تھی نہ ہی اسے معاف کرپارہی تھی۔۔
پر آج جو کچھ نجیب نے اسکے لیے اسکی بیٹی کے لیے کیا کچھ تو بدل گیا تھا۔۔
گیسٹ روم میں آدھا گھنٹہ چکر کاٹنے کے بعد وہ فائننلی واپس کچن میں چلی گئی تھی۔۔
ملازمہ سے کھانے کی ٹرے میں فروٹس لیکر واپس روم میں لے گئی تھی پر اس بار اپنے بیڈروم میں گئی تھی۔۔۔
“موم ۔۔ڈیڈ کویہ میڈیسن ابھی دہ دیں اور یہ۔۔”
“صبح ہاسپٹل نہیں جانا۔۔؟؟ جاؤ روم میں۔۔ سو جاؤ۔۔ میں کرلوں گی مینیج۔۔”
اس کی بات نے حورب کو شاک کردیا تھا۔۔۔
“اٹس اوکے بیٹا میں جانے لگا ہوں گھرمیں سب پریشان ہورہے ہوں گے۔۔”
“بیوی کے پریشان ہونے کا بہت احساس ہورہا ہے مسٹر نجیب۔۔؟؟ میں بھی دیکھتی ہوں کیسے جاکر دیکھاتے ہیں۔۔”
ٹرے کو نجیب کر سامنے زور سے رکھا تھا جس پر باپ بیٹی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا
“میں ۔۔۔ میں جارہی ہوں گڈ نائٹ۔۔۔”
حورب جلدی جلدی سے دروازے تک ہی گئی تھی جب والد کی آواز نے اسے روک دیا
“میں اسے طلاق دہ چکا ہوں نسواء۔۔ وہ آخری عورت ہوگی جس کی فکر مجھے ہوگی۔۔
یہ آپ بھی جانتی ہیں۔۔ میں یہاں رک کر آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتا جبکہ میں جان چکا ہوں آپ ڈائیورس لے کر حزیفہ سے شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ۔۔ آپ کی یہی آدھی ادھورہی جانکاری اپنی فکر اپنے آپ کا آگے رکھنا باقی جائیں بھاڑ میں انہیں باتوں نے زندگی عذاب بنا کر رکھ دی میری۔۔۔”
“موم آہستہ ڈیڈ کو چوٹ۔۔”
“یو۔۔۔ڈاکٹر حورب۔۔ ابھی ایک سیکنڈ میں اپنے روم میں جاؤ۔۔اور۔۔”
حورب نے دونوں کان پکڑ کر نجیب کو دیکھا تھا اور جلدی سے چلی گئی تھی روم سے۔۔
۔
“اینڈ یو۔۔ختم کریں یہ۔۔”
“نسواء۔۔۔اگر خیال کرنا ہے تو ٹھیک سے کریں۔۔ میرے بازو میں درد ہے میں ٹھیک سے نہیں کھا سکتا۔۔ سو۔۔۔”
نجیب معصوم سی شکل بنا کر بیٹھا تو نسواء بھی پاس بیٹھ گئی تھی خاموشی سے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“منیشہ۔۔۔ منیشہ۔۔۔منشیہ۔۔۔”
وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تھا اپنے روم کی طرف گیا تھا
“ماہیر بیٹا۔۔۔ کیا ہوا ایسے ہانپتے ہوئے کیوں آرہے ہو۔۔؟”
“ابھی کوئی سوال نہ پوچھیں منیشہ کہاں ہے وہ کب آئی۔۔؟وہ۔۔ چھوڑیں میں خود دیکھتا ہوں۔۔ منیشہ۔۔”
ایک ساتھ دو تین سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اپور تک پہنچا تھا
“یہ کیا تماشا لگایا ہوا ہے باپ بیٹے نے۔۔؟؟ ایک نے بیوی کو طلاق دہ کر گھر سے نکال دیا
اور بیٹا بیوی کے ساتھ گھر گیا تھا اب اکیلا آکر گھر والوں سےپوچھ رہا۔۔”
آفندی صاح﷽ کی گونجتی ہوئی آواز نے ماہیر پر ایک قیامت گرا دی تھی
۔
“منیشہ۔۔۔؟؟ وہ گھر نہیں آئی۔۔؟؟ اور موم۔۔۔وہ۔۔۔”
ایک جھٹکے سے وہ پیچھے گرا تھا۔۔ آنکھوں سے پانی کے قطرے نم کر گئے تھے اسکے چہرے کو۔۔
“منیشہ کہاں گئی اگر گھر نہیں آئی تو۔۔؟؟ ڈیڈ کہاں ہیں۔۔وہ۔۔ میں جانتا ہوں وہ کہاں ہوگی۔۔۔”
ماہیر چہرہ صاف کرکے اٹھا تھا جیسے ہی دروازے کی طرف جانے لگا تھا دادی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“منیشہ تمہارے ساتھ گئی تھی۔۔ تم اکیلے آئے ہو اس حالت میں۔۔ وہ بچی کہاں ہے۔۔؟
کیا لڑائی ہوئی تم دونوں میں۔۔؟؟”
“دادی۔۔مجھ سے۔۔۔ گناہ ہوگیا ہے۔۔ میں۔۔ منیشہ کے بغیر ایک پل بھی زندہ نہیں رہ سکتا میں۔۔مجھے جانا ہوگا۔۔”
ہاتھ چھڑا کر وہ وہاں سے سیدھا منیشہ کے اپارٹمنٹ کی طرف گیا تھا۔۔۔
جہاں اسے سوائے مایوسی کے اور کچھ نہ ملا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
دوائی کھا لیں۔۔ پھر آرام بھی کرنا ہے۔۔آپ۔۔”
“نسواء۔۔یہاں میرے پاس بیٹھ جائیں۔۔”
“نجیب۔۔۔”
“شاید یہ آخری بار ہو۔۔ میں بہت تھک چکا ہوں اس بھاگ دوڑ سے۔۔”
“اتنی جلدی تھک گئے۔۔؟؟ اتنے سال سے جس اذیت سے میں گزر رہی اس سے آپ چند دن چند ماہ نہ گزار سکے۔۔؟”
“یہاں بیٹھیں نسواء۔۔۔”
نجیب کی آواز سخت ہوئی تو نسواء کے تیور بھی بدل گئے اب کے وہ کمرہ چھوڑ کر جانے والی تھی جب بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور نسواء بیڈ پر بیٹھنے کے بجائے نجیب کے اوپر آگری تھی۔۔
“نجیب۔۔۔”
“شش۔۔۔یہ تو دیکھ لیا کہ کچھ دن اذیت برداشت کی پر یہ نہیں دیکھا کہ آپ کے جانے کے بعد کب اور کہاں اذیت میں نہیں رہا میں۔۔؟؟”
۔
“نجیب آپ۔۔۔”
“نسواء۔۔ میں گناہ گار ہوں جانتا ہوں میں نے دوسری شادی کرکے اپنی بیوی کی محبت ہی نہیں اسکےسارے خواب سارے ارمان مار ڈالے۔۔ اور میں جانتا ہوں معافی سے کچھ زیادہ نہیں ہوگا۔۔
ساری زندگی تو چلی گئی اب کیا رہ گیا۔۔؟؟ پر جو رہ گیا ہے میرے لیے وہی کافی ہے۔۔
میں جانتا ہوں حورب کے رویے نے آپ کو تکلیف پہنچائی۔۔ پر خدا جانتا ہے میں یہ سب نہیں چاہتا تھا۔۔آپ۔۔”
“نجیب۔۔ ابھی آرام کریں۔۔۔”
“میرے پاس لیٹ جائیں مجھے سکون کی نیند آجائے گی۔۔”
“نجیب۔۔۔”
نسواء کی ویسٹ پر انکی پکڑ مضبوط ہوئی تھی۔۔
“مجھے جانا ہے رات بہت ہوگئی ہے نجیب۔۔”
“کہاں جانا ہ۔۔؟؟ روم تو یہی ہے نہ۔۔؟؟”
نسواء کے پاس کوئی بہانہ باقی نہ رہا تھا جب نجیب نے اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر خود کو پیچھے کرکے نسواء کے لیے بیڈ پر جگہ بنا دی تھی
“نجیب۔۔۔”
“گڈ نائٹ۔۔۔”
وہ کروٹ لیکر دیوار کی طرف منہ کرکے آنکھیں بند کرچکی تھی۔۔
“سب باتیں بتا دی کیا یہ بتایا تھا کہ آپ کے جانے کے بعد ایک رات بھی سکون کی نہیں سویا تھا میں۔۔؟؟”
کندھے سے بالوں کو پیچھے کئیے نسواء کی گردن میں منہ چھپائے سرگوشی کی تھی نجیب نے۔۔
“مجھے یقین نہیں رہا نجیب سب باتوں پر۔۔”
“ہمم یہ تو ہے۔۔۔ میں یقین کے قابل نہیں ایسا مرد کیسے یقین کے قابل ہوسکتا جو بیوی کے ہوتے ہوئے آفئیر چلائے جو محبت کے باوجود ایک دوسری عورت لے آئے۔۔
یقین آنا بھی نہیں طاہیے نسواء۔۔ پر میں نے صرف آپ سے محبت کی تھی۔۔۔اور کرتا رہوں گا۔۔”
اس بار نسواء نے پلٹ کر نجیب کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“محبت کرنے والے اتنے ظالم کیوں ہوتے ہیں نجیب۔۔؟؟ محبت بھی کرتے ہیں اور درد بھی دیتے ہیں۔۔؟؟
محبت کرنے والے دغا کیوں کرتے ہیں نجیب۔۔؟”
نجیب کے چہرے پر جیسے ہی ہاتھ رکھے تھے نجیب کی انگلیوں نے اسکی آنکھوں کے آنسو صاف کئیے تھے
چہرے کے درمیان وہ تھوڑا سا فاصلہ بھی نجیب نے کم کردیا تھا
“جو محبت میں دغا کرتے ہیں ان کا انجام بھی تو مجھ جیسا ہوتا ہے نہ۔۔؟؟
تنہا ئی اکیلا پن نہ بیوی نہ محبت نہ اولاد۔۔میں۔۔۔ کچھ بھی نہیں رہا نسواء۔۔ شاید ہی طلاق تک سروائیو کرپاؤں۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ طلاق سے پہلے بیوہ ہو۔۔”
نسواء نے بےتحاشہ تلخ بولتے ہوئے ان ہونٹوں کو خاموش کردیا تھا اپنے لبوں سے۔۔
پھر اس کمرے میں کافی دیر تک انکی سانسوں کی سرگوشیاں گونجتی رہی تھی۔۔۔
وہ جو گمراہی کے بعد ایک ہوئے تھے۔۔۔ وہ جو آج جدائیوں کے بعد ملے تھے۔۔
۔
نسواء کے آنسوؤں نے نجیب کی سرگوشیاں نے روم ٹمپریچر کو اور ہائی کردیا تھا ۔۔۔
۔
ان خوبصورت لمحات کی خاموشی نے انہیں آنے والے طوفان کا واضح پیغام پہنچا دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔
۔
۔
“ماہیر آفندی باہر نکل گھٹیا شخص باہر آ۔۔۔”
دروازہ اتنی زور سے کھلا تھا کہ دور پڑے ٹیبل کے گلدان نیچے گر گئے تھے
“مننان تم یہاں اتنی صبح۔۔ تم تو میٹنگ پر گئے تھے لندن۔۔”
شزا کے ہاتھ کرپیچھے جھٹکے وہ ہر کسی کو اگنور کرکے ماہیر ک روم کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
“نجیب کو بلاؤ فورا۔۔ سیکیورٹی بلائیں۔۔۔”
آفندی صاحب ک کہنے پر نجیب کے روم کی طرف گئی تھی فضا۔۔ اور اتنی ہی دیر لگی تھی مننان کو جو ماہیر کو مکے مارتے ہوئے اوپر سیڑھیوں سے نیچے پھینک چکا تھا
“ماہیر۔۔۔ یا اللہ۔۔ ماہیر بیٹا۔۔۔ اے لڑکے وہیں رک جا ورنہ پولیس کو بلا لوں گا۔۔”
“بلائیں پولیس کو۔۔۔ اسے میں جان سے مار کر جاؤں گا۔۔”
ماہیر کو گریبان سے پکڑ کر اس نے پھر شیشے کے ٹیبل پر پھینکا تھا
اسکے سر سے چہرے سے خون نکلنا شرو ہوچکا تھا۔۔
“مننان۔۔ مننان بیٹا۔۔۔”
“مننان پلیز رک جاؤ۔۔۔”
منان نے لیزا کو دھکا دیا تھا۔۔۔ جو نیچے گرنے ہی لگی تھی جب نجیب نے اپنی بھانجی کو سہارا دیا۔۔ اور غصے سے مننان کو دیکھا۔۔
“مننان یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔ ماہیر۔۔”
اس سے کیا پوچھ رہیں ہیں مسٹر نجیب پوچھیں اس نے کیا غل کھلائیں ہیں کیا گناہ کرکے آیا ہے۔۔
آج اسکی وجہ سے منیشہ زندگی اور موت کی کشمکش میں جونچ رہی ہے اس بےغیرت کی وجہ سے۔۔”
“منیشہ۔۔۔ منیشہ کہاں ہے پلیز مجھے اسکے پاس لے چلو۔۔”
منہ سے آتے خون کو زمین پر تھوکتے ہوئے وہ مننان کے سمانے کھڑے ہونے کی کوشش کرتا ہے جس ایک اور مکا مار کر وہی گرا دیتا ہے۔۔
“تجھے میں منیشہ سے بہت دور بھیجنے لگا ہوں۔۔ تو چاہ کر بھی واپس نہیں آسکے گا۔۔”
“اپنی گن نکال کر جیسے ہی تانی تھی نجیب صاحب اپنے بیٹے کے سامنے تھے
“مننان تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔ بتاؤ بات کیا۔۔اور یہ گن نیچے کرو۔۔”
“آفکورس۔ بیٹے کو ہی بچائے گے۔۔ مگر سوچا ہے وہ جو ہسپتال میں ہے وہ بھی خون ہے آپ کا۔۔
یا عادت ہوگئی ہے پیدا کرکے پھینکنے کی۔۔؟؟ بچوں کے نام پر ناجائز لیبل۔۔”
نجیب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔
“بس کر جاؤ مننان میں پچھلے کچھ ماہ سے تمہاری ہر زیادتی ہر بدلہ برداشت کررہا ہوں۔۔
یہاں میں اس بیٹے کو نہیں تمہیں بچا رہا ہوں۔۔ تمہاری بیوی جسے تم دھکے دیتے پھر رہے ہو وہ ماں بننے والی ہے زرا سی لاپروائی تم سے تمہارا بچہ چھین سکتی ہے۔۔
اور یہ جو گن تان کرکھڑے ہو سوچا بھی ہے ان سب کا انجام کیا ہوگا۔۔”
“انجام جو بھی ہو آپ کے اس بیٹے کو مار دوں گا۔۔ اس نے جو منیشہ کے ساتھ کیا۔۔
اس کا قصور کیا تھا۔۔؟؟ بے قصور تھی وہ یو باسٹرڈ۔۔ جھوٹ بولا تھا میں نے۔”
۔
“جتنا میں ذمہ دار ہوں اتنا تم بھی ہو۔۔ میں منیشہ کو سب بتا دوں گا۔۔ پر میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔ تم نے۔۔ مجھے جیتے جی مار دیا۔۔ میرے ہاتھوں ہی میری بیوی میرا گھر تباہ کروا دیا۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ بہت جلدی سمجھ آئی۔ اب پتہ چلا میری ماں کی تکلیف کا۔۔؟؟ ویل مسٹر ماہیر یہ شروعات۔۔”
ماہیر نے ایک مکا مننان کو مارا تھا اور ان دونوں کی لڑائی پھر سے شروع ہوگئی تھی۔۔۔
فضا نے ایک کال نسواء کو بھی ملا دی تھی جو مننان کو زبردستی وہاں سے لے گئی تھی۔۔
۔
“ماہیر اب بتاؤ گے یہ سب۔۔”
“ابھی نہیں ڈیڈ۔۔۔ منیشہ سے ملنا ہے ایک بار بس۔۔”
۔
نجیب کے کندھے کو چھوڑ کر اس نےکزن لیزا کی طرف دیکھا تھا
“میں بس منیشہ کو منا لوں پھر ہم مل کر تمہارے اس مغرور شوہر کو سبق سیکھائیں گے
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماں ہاتھ چھوڑ دیں۔۔۔”
“نہیں چھوڑوں گی۔۔ تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔۔ تم نے شادی کرنی تھی تم نے کی تم نےاس لڑکی کا دل توڑنا تھا تم نے توڑ دیا۔۔۔ سب کچھ تو کرلیا۔۔ اب کیوں تماشا بنا رہے ہو میری تربیت کا۔۔؟ کیوں جگ ہنسائی کروا رہے ہو کہ اکیلی ماں بیٹے کی اچھی تربیت نہ کرسکی۔۔”
باہر جاتے ہی گاڑی کی طرف دھکا دیا تھا نسواء نے۔۔ مننان کے گارڈز الرٹ ہوئے تو نسواء کی ایک ہی نظر نے انہیں بیک ہونے پر مجبور کردیا تھا
“ماں آپ سمجھ نہیں رہی منیشہ۔۔ کے ساتھ اس نے۔۔۔”
“اس نے کیا منان منیشہ کہاں ہے۔۔؟؟ تمہارے پاس کیا کررہی ہے۔۔؟؟”
“آپ نہیں جانتی۔۔۔ اس نے۔۔”
مننان کے پاس الفاظ نہیں تھے ماں کو بیان کرنے کے لیے اور نسواء نے پیسنجر سیٹ کا دروازہ اسکے اوپن کردیا تھا وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے لگی تھی جب مننان نے وہ لفظ دہرائے تھے
“اس نے فورس کیا خود کو اس پر۔۔۔ ری۔۔۔ اس نے زیادتی کی ہے ماں۔۔”
“میاں بیوی ہیں دونوں۔۔ جب تم نے اسے ٹھکرا کر کسی اور کو اس پر ترجیح دہ دی تھی تو اب کیوں ان دونوں کے رشتے کو خراب کررہے ہو مننان۔۔؟”
“ماں۔۔؟؟ مجھے یقین نہیں آرہا۔۔ آپ ۔۔ آپ سمجھ نہیں رہی منیشہ نے سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ۔۔۔وہ مر۔۔”
“وہ مرسکتی تھی پر مری نہیں زندہ ہے۔۔ اور مجھے سمجھ نہیں آرہا تمہارا کنسرن کون ہے۔۔؟
تم اسے زند ہ رکھنا چاہتے ہو تاکہ پھر کوئی تماشا لگا سکو۔۔؟
مننان ‘بیٹا’ بخش دو اس بیچاری کو۔۔۔ پلیز۔۔ چلو یہاں سے۔۔”
مننان کو زبردستی گاڑی میں بٹھا دیا تھا نسواء نے جو ابھی بھی شاک تھا
اس طرح کی باتوں نے اسے اس قدر ہرٹ کردیا تھا۔۔
“ماں۔۔۔”
پر اس نے میوزک آن کرکے اپنے بیٹے کو اور نیا صدمہ دہ دیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“منیشہ۔۔۔ منیشہ۔۔ آنکھیں کھولو۔۔ پلیز۔۔”
سیکیورٹی کو کیسے دھوکا دہ کر ماہیر اندر روم میں داخل ہوا تھا اندر آتے ہیں لیب کوٹ اور منہ سے ماسک اتار کر دوسری طرف پھینک دیا تھا۔۔
۔
“منیشہ۔۔۔”
منیشہ کے ہاتھوں کو ہونٹوں سے لگائے وہ بےتحاشہ رو دیا تھا۔۔ اس بےجان وجود سے کوئی حرکت محسوس نہیں ہورہی تھی اسے سوائے ہارٹ بیٹ کے۔۔
“منیشہ۔۔ بس ایک بار معاف کردو۔۔ میں پھر کبھی تمہارے پاس نہیں آؤں گا سب ویسے ہی چلتا رہے گا جیسے چل رہا تھا۔۔ اس رات کو۔۔۔ منیشہ مجھے اس کی بات نہیں سننی چاہیے تھی میں نے بہت بڑی غلطی کردی۔۔
تم۔۔۔معاف کردو مجھے۔۔”
۔
“دور ہوجاؤ مجھے سے۔۔۔” مشین کی بیپ جیسے ہی تیز ہوئی منیشہ کی ٹوٹی ہوئی آواز نے ماہیر کو حیران کردیا تھا جس نے جلدی سے اپنا چہرہ صاف کرکے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔
“تم ٹھیک ہو۔۔ منیشہ۔۔ میں۔۔”
“دور ہوجاؤ۔۔۔”
وہ بہت کھانسی کرنا شروع ہوگئی تھی الارم بجنے پر ڈاکٹر اور نرس روم میں داخل ہوئے تھے
“کون ہیں آپ۔۔ ہم نے منع کیا تھا کسی کو بھی اندر انے کی اجازت نہ دی جائے۔۔”
ڈاکٹر نے نرس کو جیسے ہی ڈانٹا سیکیورٹی اندر آگئی تھی۔۔۔
“ماہیر سر۔۔ باہر چلیں۔۔”
شہریار نے باقی گارڈ کو پیچھے کیا تھا۔۔پر ماہیر تھا کہ منیشہ کی سائیڈ چھوڑنے کو تیار نہ تھا
“منیشہ۔۔ بس ایک بار میری بات سن لو۔۔ میں کبھی اپنا چہرہ نہیں دیکھاؤں گا۔۔بس ایک بار۔۔”
اسکا ہاتھ پکڑ اسے کھینچتے ہوئے باہر لے جایا جارہا تھا جب منیشہ نے ہاتھ کے اشارے سے ان سب کو منع کیا
۔
اور سب باہر چلے گئے تھے۔۔
“منیشہ۔۔۔”
“ماہیر۔۔ اگر تمہیں لگتا میں اس رات کے لیے تمہیں معاف کردوں گی تو تم غلط سوچ رہے ہو۔۔تم پر جتنا یقین کیا میں نے۔۔ تم نے سب کچھ ختم کردیا۔۔”
“منیشہ ایک بار میری بات۔۔”
“تم سب کا خون ایسا ہی ہے۔۔؟ ایک بھائی میرے دل میرے جذبات کے ساتھ کھیلا اور دوسرا میرے جسم کی لالچ۔۔۔
تم دونوں۔۔۔ میں اس زندگی میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔ میں واپس چلی جاؤں گی۔۔۔ تم جیسے گندے۔۔ گھٹیا لوگوں سے تم۔۔۔”
مشین پھر سے تیز ہوئی تھی اسکی سانسیں جیسے پھولنا شروع ہوئی تھی نرس جلدی سے اندر آئی تھی آکسیجن ماسک منیشہ کے منہ پر لگایا تھا۔۔
جس کی آنکھیں ماہیر کو دیکھتے ہوئے شاک سے بڑی ہوئی تھی جب ماہیر نے گن نکال کر خود پر پوائنٹ کی تھی۔۔۔
“میں نے تم سے بہت محبت کی منیشہ۔۔ میں سب چھوڑ چکا تھا۔۔میں نے یہ زندگی تمہارے ساتھ جینا تھی۔۔منیشہ۔۔ میں نے ہمارا گھر بننے کے لیے پیسے بھی جمع کئیے تھے۔۔ میں نے ایک جگہ نوکری کے لیے ایپلائی کیا تھا۔۔
میں نے دل سے دماغ سے مجھ میں جتنی ایمانداری باقی رہ گئی تھی منیشہ۔۔۔ میں نے تمہیں اور اس رشتے کو تسلیم کیا تھا۔۔
تم۔۔ اس رات کے لیے معاف نہیں کرسکتی۔۔ میں بھی کرسکتا خود کو معاف۔۔ میں نے تمہارا نہیں ہمارے اس رشتے کا پامال کیا۔۔۔ اس نشے نے ہی نہیں اس ‘شخص’ نے ہمارے رشتے پر گرہن لگا دیا۔۔۔ میں اسے معاف نہیں کروں گا۔۔۔
اس نے بھا۔۔۔”
اور ایک شوٹ کے بعد ہر طرف خاموشی ہوگئی تھی
۔
“ماہیر۔۔”
آنکھیں بند کرنے سے پہلے اس نے ایک بار بولا تھا منیشہ نے۔۔۔۔
۔
“ڈاکٹر۔۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔”
۔
روم میں ایک طرف وہ مشین کی بیپ تھی اور دوسری طرف ڈاکٹر کی آواز
“ہی از نو مور۔۔”
۔
“میں مرگیا ہوں نا، ،،
عشق بھی مر جائے گا”
Mera Harjai Novel By Sidra Sheikh Read Online
Mera Harjai Novel By Sidra Sheikh Download PDF
We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.
Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com
