Today, I am here to provide you Pir e kamil novel by umera ahmed. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.
Book Name: Pir e kamil Author Name: Umera AhmedGenre: islamic and religion based, love story based, romanctic urdu novelsStatus: Completed
Pir e kamil novel by umera ahmed shows the symbol of faith, courage and love. The main characters are imama hashim. She is very quite polite and simpe girls at start. Later on she knew about islam and culture then she became mature and courageous women.
Salar Sikandar whereas was the most immature and chill boy at start. Later on when he met imama, his life was completely changed. He become very religious and fell in love imama.
Umera Ahmed is a very polite and nice writer. She writes religious, romantic and real life stories.
Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.
They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.
Interesting Part Of Pir e kamil novel by umera ahmed
سالار ہمیشہ کی طرح اس دن ڈاکٹر صاحب کے پاس آیا ہوا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے ابھی اپنا لیکچر شروع نہیں کیا تھا جب ان کے پاس بیٹھے ایک ادھیڑ عمر آدمی نے کہا۔
“ڈاکٹر صاحب! آدمی کو پیر کامل مل جائے تو اس کی تقدیر بدل جاتی ہے۔”
سالار نے گردن موڑ کر اس شخص کو دیکھا ، وہ وہاں پچھلے چند دن سے آ رہا تھا۔
“اس کی نسلیں سنور جاتی ہیں۔میں جب سے آپ کے پاس آنے لگا ہوں ، مجھے لگتا ہے میں ہدایت پا گیا ہوں۔میرے الٹے کام سیدھے ہونے لگے ہیں۔میرا دل کہتا ہے مجھے پیر کامل مل گیا ہے۔میں۔۔۔۔۔میں آپ کے ہاتھوں پر بیعت کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ بڑی عقیدت مندی سے ڈاکٹر صاحب کا ہاتھ پکڑے ہوئے کہنے لگا۔کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے نرمی سے اس شخص کے ہاتھ پر تھپکی دیتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔
“تقی صاحب! میں نے زندگی میں آج تک کسی سے بیعت نہیں لی۔آپ کے منہ سے پیرِ کامل کا ذکر سنا۔۔۔۔۔پیرِ کامل کون ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔پیرِ کامل کس کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔وہ کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔؟اس کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟”
وہ بڑی سنجیدگی سے اس شخص سے پوچھ رہے تھے۔
“آپ پیرِ کامل ہیں۔”اس شخص نے کہا۔
“نہیں ، میں پیرِ کامل نہیں ہوں۔”ڈاکٹر سبط علی نے کہا۔
“آپ سے مجھے ہدایت ملتی ہے۔”اس شخص نے اصرار کیا۔
“ہدایت تو استاد بھی دیتا ہے ، ماں باپ بھی دیتے ہیں ، لیڈرز بھی دیتے ہیں ، دوست احباب بھی دیتے ہیں ، کیا وہ پیرِ کامل ہو جاتے ہیں؟”
“آپ۔۔۔۔۔آپ گناہ نہیں کرتے۔”وہ آدمی گڑبڑا گیا۔
“ہاں ، دانستہ طور پر نہیں کرتا ، اس لیے نہیں کرتا ، کیونکہ گناہ سے مجھے خوف آتا ہے۔یہاں پر بیٹھے بہت سے لوگ دانستہ طور پر گناہ نہیں کرتے ہوں گے ، کیونکہ میری طرح انہیں بھی گناہ سے خوف آتا ہو گا مگر نادانستگی میں مجھ سے کیا سر زد ہو جاتا ہے ، اسے میں نہیں جانتا۔ہو سکتا ہے نادانستگی میں مجھ سے بھی گناہ سر زد ہو جاتے ہوں۔”انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“آپ کی دعا قبول ہوتی ہے۔”وہ آدمی اپنے مؤقف سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں تھا۔
“دعا تو ماں باپ کی بھی قبول ہوتی ہے ، مجبور اور مظلوم کی بھی قبول ہوتی ہے اور بھی بہت سے لوگوں کی قبول ہوتی ہے۔”
“لیکن آپ کی تو ہر دعا قبول ہو جاتی ہے۔”اس نے اصرار کیا۔
ڈاکٹر سبط علی صاحب نے انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں ، ہر دعا تو قبول نہیں ہوتی۔میں کئی سالوں سے ہر روز مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی دعا کرتا ہوں ، ابھی تک تو قبول نہیں ہوئی۔ہر روز میری کی جانے والی کئی دعائیں قبول نہیں بھی ہوتیں۔”
“لیکن آپ کے پاس جو شخص دعا کروانے کے لیے آتا ہے ، اس کے لیے آپ کی دعا ضرور قبول ہو جاتی ہے۔”
ڈاکٹر صاحب کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
“آپ کے لیے کی جانے والی دعا قبول ہو گئی ہو گی ، یہاں بہت سے ایسے ہیں جن کے لیے میری دعا قبول نہیں ہوتی یا نہیں ہوئیں۔”
وہ اب کچھ بول نہیں سکا۔
“آپ میں سے اگر کوئی بتا سکے کہ پیرِ کامل کون ہوتا ہے؟”
وہاں موجود لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے پھر ایک نے کہا۔
“پیرِ کامل نیک شخص ہوتا ہے ، عبادت گزار شخص ، پارسا آدمی۔”
ڈاکٹر سبط علی نے سر ہلایا۔
“بہت سے لوگ نیک ہوتے ہیں ، عبادت گزار ہوتے ہیں ، پارسا ہوتے ہیں۔آپ کے ارد گرد ایسے بہت سارے لوگ ہوتے ہیں تو کیا وہ سب پیر کامل ہوتے ہیں؟”
“نہیں ، پیر کامل وہ آدمی ہوتا ہے جو دکھاوے کے لیے عبادت نہیں کرتا۔دل سے عبادت کرتا ہے ، صرف اللہ کے لیے۔اس کی نیکی اور پارسائی ڈھونگ نہیں ہوتی۔”ایک اور شخص نے اپنی رائے دی۔
“اپنے حلقہء احباب میں آپ میں سے ہر ایک کسی نہ کسی ایسے شخص کو ضرور جانتا ہو گا ، جس کی عبادت کے بارے میں اسے یہ شبہ نہیں ہوتا کہ وہ ڈھونگ ہے ، جس کی نیکی اور پارسائی کا بھی آپ کو یقین ہوتا ہے تو کیا وہ شخص پیر کامل ہے؟”
کچھ دیر خاموشی پھر ایک اور شخص نے کہا۔
“پیر کامل ایک ایسا شخص ہوتا ہے ، جس کے الفاظ میں تاثیر ہوتی ہے کہ وہ انسان کا دل بدل دیتے ہیں۔”
“تاثیر بھی بہت سے لوگوں کے الفاظ میں ہوتی ہے۔کچھ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ میں ، کچھ کے قلم سے نکلنے والے الفاظ میں ، تاثیر تو اسٹیج پر کھڑے ایک کمپئیر اور اخبار کا کالم لکھنے والے ایک جرنلسٹ کے الفاظ میں بھی ہوتی ہے تو کیا وہ پیر کامل ہوتے ہیں؟”
ایک اور شخص بولا۔”پیر کامل وہ ہوتا ہے جسے الہام اور وجدان ہو ، جو مستقبل کو بوجھ سکے۔”
“ہم میں سے بہت سارے لوگ ایسے خواب دیکھتے ہیں جن میں مستقبل میں درپیش آنے والے حالات سے ہمیں آگاہی ہو جاتی ہے۔کچھ لوگ استخارہ بھی کرتے ہیں اور چیزوں کے بارے میں کسی حد تک جان جاتے ہیں۔کچھ لوگوں کی چھٹی حِس بہت تیز ہوتی ہے ، وہ خطروں کو بھانپ جاتے ہیں۔”
“پیر کامل کون ہوتا ہے؟”ڈاکٹر صاحب کچھ دیر خاموش رہے ، انہوں نے پھر اپنا سوال دُہرایا۔
“پیر کامل کون ہو سکتا ہے؟”سالار اُلجھن آمیز انداز میں ڈاکٹر سبط علی کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
“کیا ڈاکٹر سبط علی کے علاوہ کوئی اور پیرِ کامل ہو سکتا تھا اور اگر وہ نہیں تھے تو پھر کون تھا اور کون ہو سکتا ہے؟”
وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کے دل و دماغ میں ایک ہی گونج تھی۔ڈاکٹر سبط علی ایک ایک کا چہرہ دیکھ رہے تھے ، پھر ان کے چہرے کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ معدوم ہو گئی۔
“پیرِ کامل میں کاملیت ہوتی ہے۔کاملیت ان تمام چیزوں کا مجموعہ ہوتی ہے جو آپ کہہ رہے تھے۔پیرِ کامل وہ شخص ہوتا ہے جو دل سے اللہ کی عبادت کرتا ہے ، نیک اور پارسا ہوتا ہے۔اس کی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔اس حد تک جس حد تک اللہ چاہے
۔اس کے الفاظ میں تاثیر بھی ہوتی ہے۔وہ لوگوں کو ہدایت بھی دیتا ہے مگر اسے الہام نہیں ہوتا ، اسے وجدان ہوتا ہے۔وحی اُترتی ہے اس پر اور وحی کسی عام انسان پر نہیں اترتی۔صرف پیغمبر پر اترتی ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے ہر پیغمبر کامل تھا مگر پیرِ کامل وہ ہے جس پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا جاتا ہے۔
ہر انسان کو زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی پیرِ کامل کی ضرورت ضرور پڑتی ہے۔کبھی نہ کبھی انسانی زندگی اس موڑ پر آ کر ضرور کھڑی ہو جاتی ہے جب یہ لگتا ہے کہ ہمارے لبوں اور دلوں سے نکلنے والی دعائیں بےاثر ہو گئی ہیں۔ہمارے سجدے اور ہمارے پھیلے ہوئے ہاتھ رحمتوں اور نعمتوں کو اپنی طرف موڑ نہیں پا رہے
۔یوں لگتا ہے جیسے کوئی تعلق تھا جو ٹوٹ گیا ہے پھر آدمی کا دل چاہتا ہے اب اس کے لیے کوئی اور ہاتھ اٹھائے ، کسی اور کے لب اس کی دعا اللہ تک پہنچائیں ، کوئی اور اللہ کے سامنے اس کے لیے گڑگڑائے ، کوئی ایسا شخص جس کی دعائیں قبول ہوتی ہوں ، جس کے لبوں سے نکلنے والی التجائیں اس کے اپنے لفظوں کی طرح واپس نہ موڑ دی جاتی ہوں پھر انسان پیرِ کامل کی تلاش شروع کرتا ہے ، بھاگتا پھرتا ہے ، دنیا میں کسی ایسے شخص کے لیے جو کاملیت کی کسی نہ کسی سیڑھی پر کھڑا ہو۔
پیرِ کامل کی یہ تلاش انسانی زندگی کے ارتقاء سے اب تک جاری ہے۔یہ تلاش وہ خواہش ہے جو اللہ خود انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے۔انسان کے دل میں یہ خواہش ، یہ تلاش نہ اتاری جاتی تو وہ پیغمبروں پر کبھی یقین نہ لاتا۔
کبھی ان کی پیروی اور اطاعت کرنے کی کوشش نہ کرتا۔پیرِ کامل کی یہ تلاش ہی انسان کو ہر زمانے میں اُتارے جانے والے پیغمبروں کی طرف لے جاتی رہی پھر پیغمبروں کی مبعوثیت کا یہ سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ختم کر دیا گیا۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اُمت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی اور پیرِ کامل کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔
کون ہے جسے اب یا آئندہ آنے والے زمانے میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی مقام دیا جائے؟
کون ہے جسے آج یا آئندہ آنے والے زمانے میں کسی شخص کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر کاملیت دے دی جائے؟
کون ہے جو آج یا آئندہ آنے والے زمانے میں کسی شخص کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر شفاعت کا دعویٰ کر سکے؟
جامد اور مستقل خاموشی کی صورت میں آنے والا نفی میں یہ جواب ہم سے صرف ایک سوال کرتا ہے۔
پیر کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر ہم دنیا میں اور کس وجود کو کھوجنے نکل کھڑے ہوئے ہیں؟ پیر کامل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیعت شدہ ہوتے ہوئے ہمیں دوسرے کس شخص کی بیعت کی ضرورت رہ گئی ہے؟
پیر کامل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راستے پر چلنے کی بجائے ہمیں دوسرا کون سا راستہ اپنی طرف کھینچ رہا ہے؟
کیا مسلمانوں کے لئے ایک اللہ ، ایک قرآن ، ایک رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کی سنت کافی نہیں؟
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اس کی کتاب کے علاوہ اور کون سا شخص، کون سا کلام ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کی تکلیفوں سے بچا سکے گا؟
جو ہماری دعاؤں کو قبولیت بخشے ، جو ہم پر نعمتیں اور رحمتیں نازل کر سکے؟
کوئی پیرِ کامل کا فرقہ بتا سکتا ہے؟نہیں بتا سکتا۔”
ڈاکٹر سبط علی کہہ رہے تھے۔
“وہ صرف مسلمان تھے ، وہ مسلمان جو یہ یقین رکھتے تھے کہ اگر وہ صراطِ مستقیم پر چلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے ، اس راستے سے ہٹیں گے تو اللہ کے عذاب کا نشانہ بنیں گے۔
اور صراطِ مستقیم وہ راستہ ہے جو اللہ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے قرآن پاک میں بتاتا ہے۔صاف ، دو ٹوک اور واضح الفاظ میں۔وہ کام کریں جس کا حکم اللہ اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے دیتا ہے اور اُس کام سے رک جائیں جس سے منع کیا جاتا ہے۔
اللہ ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن کسی بات میں کوئی ابہام نہیں رکھتے۔قرآن کو کھولئے ، اگر اس میں کہیں دو ٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں کسی دوسرے پیر کامل یا پیغمبر کا ذکر ملے تو اس کی تلاش کرتے رہئیے اور اگر ایسا کچھ نظر نہیں آتا تو پھر صرف خوف کھائیے کہ آپ اپنے پیروں کو کس دلدل میں لئے جا رہے ہیں۔
اپنی پچاس ساٹھ سالہ زندگی کو کس طرح اپنی ابدی زندگی کی تباہی کے لئے استعمال کر رہے ہیں کس طرح خسارے کا سودا کر رہے ہیں۔ہدایت کی تلاش ہے ، قرآن کھولئے۔کیا ہے جو وہ آپ کو نہیں بتا دیتا۔وہ آپ کو معصوم ، انجان اور بےخبر نہیں رہنے دیتا۔آپ کا اصل آپ کے منہ پر دے مارتا ہے۔کیا اللہ انسان کو نہیں جانتا ہو گا؟ اس مخلوق کو ، جو اس کی اربوں کھربوں تخلیقات میں سے ایک ہے۔
دعا قبول نہیں ہوتی تو آسرے اور وسیلے تلاش کرنے کی بجائے صرف ہاتھ اٹھا لیجئیے ، اللہ سے خود مانگیں۔دے دے تو شکر کریں ، نہ دے تو صبر ۔۔۔۔۔مگر ہاتھ آپ خود ہی اٹھائیں۔
زندگی کا قرینہ اور سلیقہ نہیں آ رہا تو اسوہء حسنہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف چلے جائیں ، سب کچھ مل جائے گا آپ کو۔
احترام ہر ایک کا کریں۔ہر ولی کا ، ہر مومن کا ، ہر بزرگ کا ، ہر شہید کا ، ہر صالح کا ، ہر پارسا کا۔۔۔۔۔۔
مگر اپنی زندگیوں میں ہدایت اور رہنمائی صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لیں کیونکہ انہوں نے آپ تک اپنے ذاتی احکامات نہیں پہنچائے جو کچھ بتایا وہ اللہ کا نازل کردہ ہے۔
ڈاکٹر سبط علی کون ہے ، کیا ہے ، کون جانتا ہے اسے؟آپ۔۔۔۔۔؟آپ کے علاوہ چند سو لوگ۔۔۔۔۔۔چند ہزار لوگ مگر جس پیرِ کامل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کر رہا ہوں انہیں تو ایک ارب کے قریب لوگ اپنا روحانی پیشوا مانتے ہیں۔میں تو وہی کچھ کہتا ، دہراتا پھر رہا ہوں ، جو چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما چکے ہیں۔کیا نئی بات کہی میں نے؟”
ڈاکٹر سبط علی خاموش ہو گئے۔کمرے میں موجود ہر شخص پہلے ہی خاموش تھا۔انہوں نے وہاں بیٹھے ہر شخص کو جیسے آئینہ دکھا دیا تھا اور آئینے میں نظر آنے والا عکس کسی کو ہولا رہا تھا ، کسی کو لرزا رہا تھا۔
وہاں سے باہر آ کر سالار بہت دیر تک اپنی گاڑی کی سیٹ پر چپ چاپ بیٹھا رہا۔اس کی آنکھوں پر بندھی آخری پٹی بھی آج کھول دی گئی تھی۔
کئی سال پہلے جب امامہ ہاشم سوچے سمجھے بغیر گھر سے نکل پڑی تھی تو وہ اس لگن کو سمجھ نہیں پایا تھا۔اس کے نزدیک وہ حماقت تھی۔بعد میں اس نے اپنے خیالات میں ترمیم کر لی تھی۔اسے یقین آ گیا تھا کہ کوئی بھی واقعی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت میں اس حد تک گرفتار ہو سکتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ دے۔
اس نے اسلام کے بارے میں جاننا شروع کیا تو اسے پتا چلا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی اسی طرح کی قربانیاں دیا کرتے تھے۔حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک ان گنت لوگ تھے اور ہر زمانے میں تھے اور سالار سکندر نے اقرار کر لیا تھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت میں اتنی طاقت تھی کہ وہ کسی کو بھی چھوڑنے پر مجبور کر دیتی۔اس نے کبھی اس محبت کا تجزیہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔وہ آج وہاں بیٹھا پہلی بار یہ کام کر رہا تھا۔
یہ صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت نہیں تھی ، جس نے امامہ ہاشم کو گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ کر اس طرف چلی گئی تھی۔اس صراطِ مستقیم کی طرف جسے وہ کسی زمانے میں اندھوں کی طرح ڈھونڈتا پھرتا تھا۔وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی صراطِ مستقیم کی طرف جاتے تھے۔
امامہ ہاشم نے کئی سال پہلے پیر کامل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پا لیا تھا۔وہ بےخوفی اسی ہدایت اور رہنمائی کی عطا کردہ تھی جو اسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت سے ملی تھی۔وہ آج تک پیرِ کامل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خود شناخت نہیں کر پایا تھا اور امامہ ہاشم نے ہر کام خود کیا تھا۔شناخت سے اطاعت تک۔۔۔۔۔اس کو سالار سکندر کی طرح دوسروں کے کندھوں کی ضرورت نہیں پڑی۔
سالار سکندر نے پچھلے آٹھ سالوں میں امامہ ہاشم کے لئے ہر جذبہ محسوس کیا تھا۔حقارت ، تضحیک ، پچھتاوا ، نفرت ، محبت ، سب کچھ ۔۔۔۔۔مگر آج وہاں بیٹھے پہلی بار اسے امامہ ہاشم سے حسد ہو رہا تھا۔تھی کیا وہ۔۔۔۔۔؟ایک عورت۔۔۔۔۔ذرا سی عورت ۔۔۔۔۔آسمان کی حور نہیں تھی۔۔۔۔۔سالار سکندر جیسے آدمی کے سامنے کیا اوقات تھی اس کی۔
Pir e kamil novel by umera ahmed Read Online
Pir e kamil novel by umera ahmed Download PDF
We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.
Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com
