Rakhail Novel By Riaz Aqib Kohler
BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS, URDU NOVELS

Rakhail Novel By Riaz Aqib Kohler (Download Complete Urdu Novels PDF)

Today, I am here to provide you Rakhail Novel By Riaz Aqib Kohler. You can read online or download urdu novels pdf according to your choice.

Book Name: Rakhail 
Author Name: Riaz Aqib Kohler
Genre: contract marriage based, age difference based, Love Story, Romantic Novel.
Status: Completed

Rakhail novel is based on contract marriage and age difference. By the words of Riaz aqib kohler, the brave girl who fought for herself against a gangster. Later on they fell in love with each other.

Riaz Aqib Kohler a very famous urdu novels pdf writer. He writes urdu novels on social moral & real life stories. Riaz aqib kohler write for young generation because he write according to the nerves of adults. His writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.

Interesting Part Of Rakhail Novel By Riaz Aqib Kohler

”اسے کہتے ہیں ایک تیر سے کئی شکار کرنا ،سانپ کو مار کر لاٹھی نہ ٹوٹنے دینا ، آم کھا کر گھٹلیوں کے دام کھرے کرنااور لاٹھی والے کو بندوق دکھا کر بھینس چھین لینا ۔“اخلاق حسین نے مختلف کہاوتوں کو اپنی چال بازی کے ساتھ جوڑتے ہوئے قہقہہ لگایا۔

”کوئی شک نہیں شاہ جی کہ آپ تمام گینگز کے سربراہ بننے کے لائق ہیں ۔“نوشاد آفریدی نے اسے سراہا۔

”میں اکیلا نہیں خان صاحب ،تم میرا دایاں ہاتھ ہو ۔سچ کہوں تو تمھارے بن میں ادھورا ہی ہوں ۔“

”میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ تم کبیر دادا پر ایس پی کے قتل کا الزام کیسے دھرو گے ۔ یقین مانوایسی کہانی جوڑی ہے کہ کبیر دادا خود بھی اپنی ذات پر شک کرنا شروع کر دے گا ۔“

”اب بس شمیشر دادا کی آمدکا انتظار ہے ،دیکھنا کیسے اس کے دماغ میں کبیر دادا کی رکھیل کے بارے غلط فہمی بھرتا ہوں ۔اور کبیر دادا بھی اسی صورت میں اس کے مقابل ہو گا کہ شمشیر دادا اس کی رکھیل پر ہاتھ ڈالے ورنہ تو وہ ہر سزا قبول کر لے گا ۔“

نوشاد نے پوچھا ۔”شمشیر دادا کس وقت تک پہنچ جائے گا ؟“

”سمندری راستے سے آرہا ہے ،مزید گھنٹا ڈیڑھ لگے گا ۔“

”استقبال کے لیے چلنا ہے کہ نہیں ۔“

اخلاق حسین نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ،شہاب قصوری کو سب کچھ سنبھالنے دو ۔ہم بعد میں ملاقات کر لیں گے ۔“

نوشاد ندیدے پن سے بولا۔”آج کی رات تو سپنوں کی تکمیل کی رات ہے ۔امید ہے کل تک وہ رکھیل اپنے بستر تک پہنچ جائے گی ۔“

”ویسے مجھے لگتا ہے پہلے نمبر کے حصول کی کوشش میں اپنے درمیان بھی جھگڑا ہونے والا ہے ۔“اخلاق حسین نے مکروہ لہجے میںہنسا ۔

”قرعہ اندازی شاہ جی ،پر چی ڈالیں گے ۔“نوشاد نے فوراََ جھگڑے کا حل پیش کیا ۔

”اس بارے تو تمھارا دماغ خوب کام کرتا ہے ۔“

”صحیح کہا ،اس اپسرا کے خواب جانے کب سے دیکھ رہا ہوں ۔“

”ویسے کبیر دادا کی موت پر بے چاری دکھی تو ہو گی ،پھر شمشیر دادا بھی تو اسے ادھ موا کر کے ہی چھوڑے گا ۔“اخلاق حسین نے دماغ میں بھری غلاظت اگلی ۔

نوشاد فخریہ لہجے میں بولا ۔”ایک بار خان کی محبت چکھ لی ،پھر کسی کبیر دادا کی یاد اس کے دل میں باقی نہیں رہے گی ۔اور جہاں تک شمشیر دادا کا تعلق ہے تو اتنی دور سے آرہا ہے ایسا انعام اس کا حق بنتا ہے ۔“

اخلاق حسین ہنسا ۔”کبیر دادا بھی تو خان ہی ہے ۔“

”کل تک ”ہے نہیں“۔” تھا “ہو جائے گا ۔“نوشاد نے دانت پیسے ۔

اخلاق حسین نے زوردار قہقہے کے ساتھ اس کی تائید کی تھی ۔

”ایک خوف میرے دماغ میں ا ب تک بقایا ہے ۔کہیںوہ بے غیرت ،شمشیر دادا کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دے اور اپنی رکھیل ایک رات کے لیے اس کے حوالے نہ کردے ۔“نوشاد نے اندیشہ ظاہر کیا ۔

اخلاق حسین اسے تسلی دیتا ہوا بولا ۔”یقینا تم کبیر دادا کی فطرت سے ناواقفیت کی بنا پر ایسا کہہ رہے ہو ۔ہزار مخالفت کے باوجود میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کبیر دادا ایک غیرت مند شخص ہے ۔اور سب سے بڑھ کر وہ اس لڑکی کی محبت میں سرتاپا ڈوبا ہوا ہے۔اس لیے یہ خیال تو دل سے نکال دو کہ وہ شمشیر دادا کے ڈر کی وجہ سے اپنی چھمک چھلو اس کے حوالے کرنے پر تیار ہو گا ۔“

”کبیردادا کی موت ،اس کی چھمک چھلو کا اپنے قبضے میں آنا اور اگلے چند ماہ کے اندر تمام گینگز کی سرابراہی پر پیشگی مبارک باد۔“نوشاد آفریدی نے شراب کا جام ہوا میں بلند کر کے اخلاق حسین کی طرف بڑھا یا ۔سامنے سے اخلاق حسین نے بھی اپنا جام اس کے جام سے ٹکرا کر۔”خیر مبارک کہا ۔“اور دونوں نے گلاس کو ہونٹوں سے لگا لیا ۔

گلاس سے ایک لمبا گھونٹ لیتے ہوئے اخلاق حسین نے کہا ۔”ایک خاص بات کا خیال ضرورکرنا ۔“

”کیا ؟“نوشاد آفریدی نے سوالیہ نظریں اس کی جانب گھمائیں ۔اور اخلاق حسین اسے نئی ہدایات دینے لگا ۔نوشاد اس سے اتفاق کرنے کے انداز میں سر ہلاتا رہا ۔

٭٭٭

ساری رات وہ گپیں ہانکتے رہے ،تناوش کی بھولی بھالی معصوم باتیں ،شوخی بھری شرارتیں نازو ادا اور نخرے کبیر دادااس کی باتوں سے سیر ہی نہیں ہورہا تھا۔جانے کہاں کہاں کے قصے ،کیسے واقعات اسے یاد آرہے تھے ۔ صبح کی آذان سن کر وہ وضو کرنے غسل خانے کی طرف بڑھی ۔مگر جاتے ہوئے ۔”میری واپسی تک سونا نہیں ۔“کہہ کر گئی تھی ۔

نماز پڑھ کر وہ پھر اس کے قریب آگئی ۔

”ایک بات کہوں ،خفا تو نہیں ہوں گے ۔“ٹھنڈا ہاتھ اس کے گالوں پر پھیرتے ہوئے وہ پوچھنے لگی ۔

کبیر دادا نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”ہو بھی گیا تو تم نے کون سا خفا رہنے دینا ہے مس مصیبت کہیں کی ۔“

مترنم قہقہے سے کبیر دادا کی سماعتوں میں رس گھولتے ہوئے وہ مزید قریب ہوئی اور جھجکتے ہوئے کہنے لگی ۔

”اگر میں کہوں آپ نماز پڑھا کریں ۔“

”داڑھی رکھا کر کسی مسجد کی امامت سنبھالنے کے بارے تم کب کہنے والی ہو ۔“ مسکراہٹ کبیر دادا کے ہونٹوں کا ساتھ چھوڑ چکی تھی ۔

”خفا ہو گئے نا ۔“وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔

”میرے اعمال کے بارے جانتی ہو نا ۔میں ایک گینگسٹر ہوں ،شرابی قاتل اور پتا نہیں کیا کیا ۔“

”نماز پھربھی معاف تو نہیں ہو جاتی کیوں کہ مسلمان بھی تو ہو۔“وہ بحث پر اتر آئی تھی۔

”تو جب آدمی جرم نہیں چھوڑ سکتا تو نماز کا فائدہ ۔“

”نماز پڑھنا ایک مستقل حکم ہے اورجرم ایک علاحدہ مسئلہ ۔کیا کسی عالم سے یہ سنا ہے کہ مجرم کی نماز قبول نہیں کی جاتی ۔زیادہ سے زیادہ نماز پر پہنچنے والا ثواب نہیں ملے گا فرض تو ذمہ سے ساقط ہو جائے گا نا ۔“

”کیا مجھے سونے کی اجازت دو گی یا میں دوسرے کمرے میں چلا جاﺅں ۔“اس نے ناگواری کے اظہار میں بخل سے کام نہیں لیا تھا ۔

”اچھا اس بارے سوچنا ضرور ۔باقی آپ کو سلانے کے لیے کنیز موجود ہے نا ۔“ مطمئن انداز میں کہتے ہوئے وہ دھیمی انداز میں گنگناتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔وہ پتھر پر پہلی چوٹ لگا چکی تھی اب یہ پتھر کی سختی پر منحصر تھا کہ وہ کتنی چوٹیں سہ پاتا ہے ۔

٭٭٭

وہ کافی دیر سے جاگے تھے دوپہر کے کھانے کا وقت تھا مگر اس کے باوجود اس نے ناشتے کے لوازمات ہی منگوائے تھے ۔ان کے ناشتا کرنے دوران ہی پاشا دستک دے کر اندر آیا۔

”آئیں بھیا ناشتا کریں ۔“اسے دیکھتے ہی تناوش نے دعوت دی ۔

”ناشتاکیامیں کھانا بھی کھا چکا ہوں ،صرف چاے لوں گا۔“نشست سنبھالتے ہوئے اس نے تھرماس سے اپنے لیے چاے انڈیلی اور کبیردادا کی طرف متوجہ ہوا ۔”کافی دیر سے آپ کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا ۔“

”مجھے رات ہی کو پتا چل گیا تھا ۔“پاشا کے انداز ہی سے اس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ وہ ایس پی کی موت کا بتانے لگا ہے ۔

”رات کو آپ کافی دیر سے لوٹے تھے ۔“

Rakhail Novel By Riaz Aqib Kohler Read Online

Rakhail Novel By Riaz Aqib Kohler Download PDF

We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.

Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *