Today, I am here to provide you Tum Jo Aye Zindagi Main Novel By Shagufta Kanwal, romantic urdu novels pdf. You can read online or download according to your choice.
Book Name: Tum Jo Aye Zindagi Main Season 02Author Name: Shagufta KanwalGenre: Cousin Marriage-Based, Funny Novel, Love Story, Romantic NovelStatus: Completed
Tum Jo Aye Zindagi Main season 2 novel beautifully describes the intimacy of cousins love story which leads towards love marriage. This urdu novel pdf is written in a funny style that definitely engage the readers throughout the novel.
Shagufta Kanwal is a very famous urdu novels pdf writer. She writes urdu novels on social moral & real life stories. Zahra Binte Khalid writes for young generation because she write according to the nerves of adults. Her writing style is very good that the reader will definately enjoy the novel.
Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.
They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.
Interesting Part Of Tum Jo Aye Zindagi Main Season 02 By Shagufta Kanwal
وہ چھت پر کھڑا سوچوں میں گم تھا ۔ نواز عالم کی ، کی گئی باتوں پر اسے ایک پرسنٹ بھی یقین نہیں تھا ۔اس کے نزدیک اس کے امثال پر لگائے گے الزامات محض پچگانہ تھے ۔چاہے وہ منہ سے بول کر نہ بھی بتائے تب بھی وہ جانتا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے اور اسے چیٹ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔ایک بات جو اسے رہ رہ کر ستا رہی تھی کہ وہ جس سے اسے بچانے کے لیے اتنی کوششیں کر رہا تھا۔
وہ اسی کے ساتھ گھومتی رہی اور اس دوران اگر عافین اسے کوئی نقصان پہنچا دیتا تو وہ کیا کر لیتا ۔ امثال اسے ڈھونڈتے ہوئے اوپر آئی تو اس کے خطرناک حد تک سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر اس کا دل رک کر دھڑکا تھا ۔ اس کے سخت تاثرات دیکھتے ہوئے ایک بار تو اس نے سوچا کہ واپس پلٹ جائے مگر پھر یہ سوچ کے بات تو کرنی ہی ہے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی
“تم مجھ سے ناراض ہو ؟” امثال نے ڈرتے ڈرتےعادل کا بازو پکڑ کرمتوجہ کیا ۔وہ جو لب بھینچے بے تاثر چہرے سے اپنے خیالوں میں گم تھا ۔اس کی آواز پر چونک کر مڑا تو اس کو خوفزدہ سا کھڑا پایا ۔طویل سانس لیتے ہوئے اس نے خود کو نارمل کیا
“نہیں ناراض نہیں ہوں ۔ تم سے بھلا کیوں ناراض ہوں گا؟”
“تو یہاں کیوں کھڑے ہو ؟ جب سے آئے غصے میں ہو اور مجھ سے بات بھی نہیں کر رہے ۔ “اس کے نرم لہجے پر اس کے چہرے کی رونق بحال ہوئی ۔عادل نے ہاتھ بڑھا کر اس کو اپنے حصار میں لیا
“میں بہت ڈر گیا تھا ۔تم اتنے دن اس سے ملتی رہی ہو۔ اگر وہ تمہیں نقصان پہنچا دیتا تو ، اس سے آگے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔” اس کے سر پہ لب رکھتے ہوئے اس نے نرمی سے کہا
“ایم سوری ۔”اس نے سر اٹھا کر عادل کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں حیرانی ابھری
“کس لیے ۔”
“تمہیں بہت تنگ کرتی ہوں نہ ۔ہر وقت میرے لیے فکرمند رہتے ہو ۔ میں بلکل بھی اچھی نہیں ہوں ۔سب کو تنگ کرتی ہوں تمہیں بھی پریشان کردیتی ہوں ۔” اس نے سر جھکاتے ہوئے ہولے سے کہا
“ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔ میں بلکل بھی تم سے تنگ نہیں ہوتا بلکہ تمہارا خیال رکھنا، تمہارے لیے فکرمند رہنا اچھا لگتا ہے ۔مجھے میری یہ شرارتی سی بیوی پلس فتنہ بہت عزیز ہے۔
اس کے لیے تو جان بھی حاضر ہے۔ یہ چھوٹی موٹی پریشانی تو بہت کم ہے ۔ رہی بات دوسروں کی تو ان کی پرواہ مت کیا کرو بلکہ کتنی بار کہا ہے کہ اور تنگ کیا کرو ۔ “عادل نے ہنستے ہوئےکہا تو وہ بھی ہنس دی
“تھینک یو تم بہت اچھے ہو ۔”اس نے اپنا ہمیشہ والا فقرہ دہرایا تو وہ بد مزہ ہوا
“یار یہ فقرہ مجھے اچھے سے یاد ہو گیا ہے ۔کچھ اور ہی بول دو سچی میں میرے تو کان ہی ترس گئے ہیں ۔اپنے لیے کچھ اچھا سننے کے لیے۔”
“مثلا ۔”اس سے دور ہوتے ہوئے وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر بولی
“مثلا کہ مجھے تم سے بہت بہت سے بھی زیادہ محبت ہے۔ تمہارے بنا نہیں رہ سکتی ۔ تم سامنے نہیں ہوتے ہو تو کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ۔”عادل بولے جا رہا تھا اور وہ ہنسے جا رہی تھی
“کیا؟ میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہے جو یوں ہنس رہی ہو ۔” اس کو مسلسل ہنستا پا کر اس نے خفگی سے کہا
“تمہاری حسرتوں پر ہنس رہی ہوں۔ ہائے تم اور تمہاری حسرتیں ۔”وہ ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلاتی نیچے جانے کو پلٹی جب اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس کھینچا
“کیا ہو جائے گا اگر تم یہ سب بول دو گی ۔میں اور میرا بیچارہ دل خوش ہو جائے گا ۔” اس کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کرتے ہوئے معصومیت سے کہا
“اوکے بٹ ابھی نہیں کسی اور دن تمہاری یہ حسرت بھی پوری کر دوں گی ۔ یہی سب میں ڈفرینٹ انداز میں کہوں گی ۔آئی پرومس ۔” اس کی آنکھوں اور لہجے سے چھلکتے شوق سے ہار مانتے ہوئے اس نے وعدہ کیا ۔اس کا اظہار محبت واقعی ہی عادل کے لیے یادگار رہنے والا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے دن کی آوارہ گردی کے بعد وہ رات گیارہ بجے گھر آیا۔ آج کا دن اس کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا تھا ۔ اس کے اعمال کے حساب سے یہ دن تو کبھی نہ کبھی آنا ہی تھا اور وہ خود کو زہنی طور پر تیار کربھی چکا تھا۔ اس دن شہریار کے آفس میں وہ امثال کا رئیکشن دیکھ چکا تھا ۔
تب وہ جانتی نہیں تھی پھر بھی اس نامعلوم قاتل کے لیے نفرت کا اظہار کر چکی تھی ۔اب تو جان چکی تھی ۔ وہ کریم چچا کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی ۔
اس کی نفرت جائز تھی اور وہ بھی اس صورت میں جب وہ جانتی تھی کہ وہ حملہ محض اسے ڈرانے کے لیے کیا گیا تھا ۔اس کے عزیز از جان شوہر کو توڑنے ،کمزور کرنے کے لیے کیا گیا تھا ۔اپنے خیالوں میں گم صم وہ اپنے کمرے کے باہر پہنچا تو نواز عالم کو ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ لیے کھڑا پایا
“مجھے تو لگا تھا کہ شائد صدمے میں گھر آنا بھی بھول گئے ہو۔”
“پلیز ڈیڈ ! میں اس وقت بحث کے موڈ میں نہیں ہوں سو پلیز ۔”انہیں اگنور کرتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھا جب ان کی اگلی بات پر اس کے قدموں کو بریک لگی
“ظاہر ہے محبوبہ کے ہاتھوں زلیل ہونے اور تھپڑ کھانے کے بعد انسان کسی بھی چیز کے موڈ میں نہیں ہوتا ۔”انہوں نے زہرخند لہجے میں کہا ۔ایک پل میں وہ ساری بات سمجھ گیا تھا
“اوہ تو عادل کو آپ نے بجھوایا تھا۔ میں بھی کہوں کہ وہ اچانک پہنچ کیسے گیا ۔”عافین ان کی طرف مڑا تو انہوں نے قہقہ لگایا
“میں نے تو بس اس کی بیوی کی کرتوتوں کے بارے میں بتایا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے اس کی بیوی میرے بیٹے سے چکر چلا رہی ہے ۔اس کے ساتھ گلچھڑےاُڑاتی پھر رہی ہے ۔”انہوں نے ایسے بتایا جیسے کوئی شاندار کارنامہ سرانجام دیا ہو۔ ان کی بات سن کر عافین چہرہ مارے غصے کے سرخ ہوا
“ڈیڈ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ۔وہ تو چلو غیر تھی مگر میں تو آپ کا اپنا بیٹا تھا ۔آپ نے اس کے ساتھ ساتھ میرا کردار بھی مشکوک کر دیا ۔ “آنکھوں اور لہجے میں غصے کے ساتھ ساتھ بے یقینی بھی تھی
“تو کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم نے اس لڑکی کی خاطر اپنے باپ سے غداری کی ہے؟کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم اس سے محبت کرتے ہو؟ اس کی خاطر تم اپنے کام کو فراموش کر چکے ہو ۔ بس یہی سب کچھ میں نے اسے بتایا ہے کہ وہ کنٹرول کرے اپنی بیوی کو ۔ اس کے پیچھے میرا بیٹا پاگل ہوتا جا رہا ہے اور تم بہرحال مجھے سب چیزوں سے بالا تر ہو۔”
“ویسے ایک بات تو بتاؤ اپنی بیوی کو تمہارے ساتھ دیکھ کر اس کا ردعمل کیا تھا؟”اس کو آنکھیں پھاڑے اپنی طرف دیکھتا پا کر انہوں گہری مسکراہٹ سے پوچھا
“سب کو آپ نے شائد اپنے جیسا سمجھ رکھا ہے ۔ وہ نواز عالم نہیں ہے عادل شاہ ہے رشتوں کو مان اور احترام دینا جانتا ہے۔
بعد کا پتہ نہیں مگر میرے سامنے اس نے اس سے اونچی آواز میں بات تک نہیں ۔ میں نے اس کی آنکھوں میں بے اعتباری کی بجائے خوف دیکھا تھا کہ کہیں میں امثال کو کوئی نقصان نہ پہنچا دوں ۔ سو اس کو سزا دینے کا یہ پلان تو ہوا فیل ۔اب کچھ اور سوچئیے ۔”
آپ نے اچھا نہیں کیا ڈیڈ ۔اس کے لیے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا ۔” اپنے کمرے میں جا کر اس نے ٹھک سے دروازہ بند کیا ۔نواز عالم سر جھٹکتا واپس چلا گیا ۔ وہ دروازہ لاک کرتے ہوئے وہیں زمین پر بیٹھتا چلا گیا ۔ پہلے امثال اور پھر نواز عالم آج کا دن واقعی ہی اس کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا تھا
“کہاں ہیں آپ ۔ آئی مس یو ماما ۔” اس کی آنکھیں بھیگی ۔ اس نے بے بسی سے آنکھیں بند کرتے ہوئے دروازے سے ٹیک لگائی
“آپ کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں ۔جتنا بھی مل رہا ہے ہم خوش ہیں آپ کو کسی بھی غلط کام میں پڑنے کی ضرورت نہیں ۔ “جب سے انہیں پتہ چلا تھا وہ انہیں سمجھا سمجھا کر تھک چکیں تھیں مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے تھے
“دیکھیں نواز صاحب ہمارا ایک ہی بیٹا ہے۔ الحمدللہ آپ کے اس چھوٹے سے کاروبار سے ہی ہم لوگوں کو عزت کی روٹی مل رہی ہے تو پھر کیوں خود کو اور اپنے بچے کو خطرے میں ڈالنا ۔
آپ جانتے ہیں نہ ایسے لوگوں کی نہ دوستی اچھی ہوتی ہے اور نہ ہی دشمنی۔ آج جو آپ کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں کل کو کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ آپ کو یا ہمارے بچے کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ۔ “بیگم نواز نے انہیں روکنے کی ایک آخری کوشش کی
“نہایت ہی کوئی کوڑھ مغز اور عقل سے پیدل عورت ہو ۔ ایسی باتیں کر کہ تم اپنے مڈل کلاس ہونے کا ثبوت دے رہی ہو۔ تم اس چھوٹے سے گھر میں خوش رہ سکتی ہو مگر مجھے یہاں اس چھوٹے سے محلے میں نہیں رہنا ۔
اگر تمہیں زیادہ مسئلہ ہو رہا ہے تو تم جا سکتی ہو ۔”انہوں غصیلے لہجے میں کہا ۔ آہستہ آہستہ ان کی آوازیں بلند ہوتی جا رہی تھیں ۔ اپنے کمرے میں سکول ہوم ورک کرتا بارہ سالہ عافین شور کی آواز سن کر باہر آیا تو ان کو بحث کرتا پایا۔اس کے بعد تو روز کا ہی معمول بن گیا تھا بات بحث سے بڑھ کر جھگڑے تک جا پہنچی تھی ۔
بیگم نواز نے جب سے سنا تھا کہ ان کے کسی دوست نے انہیں اپنے ساتھ سمگلنگ میں شامل ہونے کا کہا وہ انہیں ہر ممکن باز رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر ان پر راتوں رات امیر بننے کا بھوت سوار ہوچکا تھا ۔ ایسے ہی ایک دن تلخ کلامی کے دوران انہوں نے غصے میں آ کر انہیں ڈائیورس دے دی اور خود عافین کو لے کر اپنے دوست کے ہاں چلے گئے۔اس کے ساتھ مل کر انہوں نے بزنس شروع کیا اورعافین کو پڑھنے کے لیے باہر بھیج دیا ۔
دنیا کے لے وہ ایک بزنس مین تھے مگر درحقیقت وہ ایک سمگلر تھے ۔ عافین کی تعلیم مکمل ہوئی تو انہوں نے اسے بھی اپنی راہ پر لگا لیا اور وہ بھی غلط صیح کا فرق کیے بغیر ان کے کام کو سنبھالے ہوئے تھا۔
جب ایک دن اسے پتہ چلا کہ پاکستان میں نہ صرف پولیس ان کے پیچھے پڑ چکی بلکہ مختلف اڈوں پر ریڈ کر کہ اسلحہ اور کچھ بندے بھی اریسٹ کر چکی ہے تو اس نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا ۔
یہاں آ کر اس کی ملاقات امثال سے ہوئی اور اس کا دل بدلتا گیا ۔اس کو وہیں بیٹھے بیٹھے ایک گھنٹہ گزرگیا تھا ۔ موبائل کی بجتی بیل سے وہ آنکھیں کھولتا ہوا سیدھا ہوا ۔دوست کی کال دیکھ کر اس نے کال کاٹ کر موبائل بیڈ پر اچھالا اور خود واشروم میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Tum Jo Aye Zindagi Main Season 02 By Shagufta Kanwal Read Online
Tum Jo Aye Zindagi Main Season 02 By Shagufta Kanwal Download PDF
We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.
Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com
