Madhoshi Novel By Mirha Kanwal
BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS, URDU NOVELS

Madhoshi Novel By Mirha Kanwal – Romantic Urdu Novels PDF Download or Read Online

In this post I am here to provide you Madhoshi Novel By Mirha Kanwal novel romantic urdu novels pdf. You can read online or download according to your choice.

Book Name: Madhoshi .
Author Name: Mirha Kanwal
Genre: Suspense based, romantic based, love story based, rude hero based, forced marriage based, family based.
Status: Completed

Mirha Kanwal is a very famous urdu writer. She is a famous writer on social media as well as web. She have written many suspense based, rude hero based romantic novels on social media. She have wide group of followers and reader being awaited for her novels.

Madhoshi novel by mirha kanwal is one the best rude hero, suspense based and romantic urdu novels pdf, family based novel by Mirha Kanwal.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels, urdu novels pdf.

Interesting Part Of Madhoshi Novel By Mirha Kanwal

سلطان صاحب اور ماہاویرا ہسپتال میں بھاگتے ہوئے ریحان کے بتائے ہوئے کمرہ نمبر کے پاس پہنچے۔۔۔

ریحان کہاں ہے میرا آحِل کیا ہوا ہے اسے۔۔۔ سلطان صاحب کا پریشانی سے سر چکرا رہا تھا

ریحان بھائی کیا ہوا ہے آحل بھائی کو پلیز بتائیں۔۔۔ ماہاویرا بھی شدید پریشانی میں بولی

ماہا آحِل مجھے بے ہوش ملا ہے اس کی حالت بہت نازک ہے۔۔۔ ریحان ماہاویرا اور سلطان صاحب دونوں کی طرف دیکھ کر بولا

ل۔۔۔لیکن کیسے بھائی تو بہت خوش تھے ان دنوں تو اچانک کیسے ہو گیا یہ سب۔۔۔ وہ رونے لگی تھی

آحِل کے کمرے سے ڈاکٹر باہر نکلا تو وہ تینوں اس کی طرف لپکے۔۔۔

ڈاکٹر بتائیں میرا بیٹا کیسا ہے وہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ سلطان صاحب ہیجانی کیفیت میں تھے۔۔۔

دیکھیے آپ لوگوں کو حوصلہ رکھنا ہو گا دراصل پیشینٹ کو کوئی صدمہ لگا ہے جسے وہ برداشت نہیں کر سکے وہ مسلسل چوبیس گھنٹوں سے بے ہوش ہیں اگر اگلے چوبیس گھنٹوں میں انہیں ہوش نہ آیا تو ہو سکتا ہے پیشینٹ کومہ میں چلیں جائیں۔۔۔

ڈاکٹر کے بولنے کی دیر تھی کہ ریحان ماہاویرا اور سلطان صاحب کے سر پر آسمان گرا۔۔۔

سلطان صاحب کا سر چکرایا وہ گرنے لگے جب ریحان نے انہیں سہارا دیا۔۔۔

ماہاویرا کرسی پر بیٹھ کر منہ پہ ہاتھ رکھے رونے لگی۔۔۔

یہ کیا ہو گیا ڈیڈ بھائی کو۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولی

میرا بچہ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے اللہ مجھے اس عمر میں اپنی اولاد کا غم نہ دینا۔۔۔ سلطان صاحب بےآواز رو رہے تھے

انکل سب ٹھیک ہو جائے گا آپ پلیز ہمت مت ہاریں۔۔۔ ریحان اس وقت خود بہت پریشان تھا مگر اس کا مظبوط ہونا ضروری تھا کیوں کہ اسے سلطان صاحب اور ماہاویرا کو حوصلہ دینا تھا۔۔۔

انکل آحِل ایک ہی طریقے سے کومہ میں جانے سے بچ سکتا ہے۔۔۔ ریحان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

کیا طریقہ۔۔۔ سلطان صاحب اور ماہاویرا دونوں نے ہی کہا

انکل آپ کو یاد ہو گا ذائشہ نام کی لڑکی کا آحِل نے آپ سے بات کی تھی۔۔۔

ہاں مجھے یاد ہے آحِل اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔ سلطان صاحب آنکھیں صاف کرتے بولے اور ماہاویرا کو بھی یاد آگیا آحل نے اس لڑکی کی تصویر اسے دکھائی تھی۔۔۔

اس نے آحِل سے ریلیشن ختم کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آحِل اس حالت کو پہنچا ہے اگر وہ آحِل سے ملنے آئے تو مجھے پورا یقین ہے آحِل ہوش میں آجائے گا کیوں کہ وہ اسی کا انتظار کر رہا ہے۔۔۔

کیا۔۔۔ اس لڑکی کی وجہ سے میرا بیٹا موت کے منہ میں پہنچ گیا۔۔۔ کیا اس کو اپنے باپ کو بہن کا خیال نہیں آیا کیا وہ اس کے لیے ہم سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔۔۔ سلطان صاحب کے ساتھ ماہاویرا کو بھی صدمہ لگا

انکل دیکھیے یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے فلحال سب سے ضروری کام آحل کو چوبیس گھنٹوں سے پہلے ہوش میں لانا ہے۔۔۔ وہ ان کے پاس بیٹھ کر ان کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا

سلطان صاحب نے اپنی آنکھیں صاف کیں اور ہاں میں سر ہلایا۔۔

وہ کھڑکی کا شیشہ کھولے آسمان سے گرتی شفاف روئی جیسی برف کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔۔۔

زمین پر بچھی برف کی سفید چادر اس کی آنکھوں کو بھلی لگ رہی تھی۔۔۔

ماہاویرا نے ایک ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا تو ننھی برف اس کے ہاتھ کو چومنے لگی۔۔۔ ماہاویرا نے اک احساس کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کیں۔۔۔

ان سات ماہ میں وہ بدل چکی تھی، اس نے ایک بار بھی اپنے بالوں کو نہیں کٹوایا تھا جس وجہ سے اس کے بال اب اس کی کمر کو ڈھانپنے لگے تھے۔۔۔

اس نے پینٹ شرٹ پہننا چھوڑ دیا تھا، اب وہ سادہ سے قیمیض شلوار میں ملبوس ہوتی تھی۔۔۔

ماہا ٹھنڈ لگ جائے گی بند کرو کھڑکی کو۔۔۔ آحِل نے لاؤنج میں داخل ہوتے کہا

ماہا نے کھڑکی بند کی اور آتش دان کے پاس صوفے پر آکر بیٹھی۔۔۔ ان سات ماہ سے وہ بہت کم بولی تھی

یہ لو چائے۔۔۔ آحل نے اسے چائے کا مگ پکڑایا

ماہا نے خاموشی سے مگ پکڑ کر ہونٹوں سے لگایا۔۔۔

مری میں آئے ہوئے ماہاویرا اور آحل کو آج ایک ہفتہ ہو چکا تھا ماہا کی حالت ان سات ماہ میں بھی سمبھلنے نہ پائی تھی اس لیے ڈاکٹر نے سلطان صاحب کو مشورہ دیا کہ ماہاویرا کو ایسی جگہ پر لے کر جایا جائے جہاں قدرت پائی جاتی ہو کیوں کہ کبھی کبھی جو انسان علاج سے بھی ٹھیک نہ ہو سکے اسے قدرت سے شفا مل جاتی ہے۔۔۔

آحِل نے ماہاویرا کے ساتھ یہاں آنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ وہ اپنی بہن کی زندگی خراب ہونے میں خود کو قصور وار سمجھتا تھا۔۔۔

آحِل نے ان سات ماہ سے لے کر اب تک اپنی زندگی اپنی بہن کے لیے وقف کر دی تھی، وہ ایک پل کے لیے بھی ماہاویرا سے غافل نہ ہوا تھا۔۔۔

ماہاویرا جب سے یہاں آئی تھی آحل اس میں تبدیلی محسوس کر رہا تھا، اب وہ پہلے سے بہتر ہو چکی تھی، یہاں آنے کے بعد اسے اب تک بلال کا خواب نہیں آیا تھا جس سے وہ نیند میں چینختی چلّاتی تھی۔۔۔

آحِل آتش دان میں مزید خشک لکڑیاں ڈالنے لگا اور ماہاویرا آتش دان سے اٹھتی آگ کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔

رات کو نیند کیسی آئی تھی۔۔۔ آحِل نے پوچھا

اچھی۔۔۔ ماہا کہہ کر خاموش ہوئی

آحِل نے کھڑکی کی طرف دیکھا برف تھمتی ہوئی نظر آئی۔۔۔

آج شاید موسم صاف ہو۔۔۔ آحِل نے اندازہ لگایا

ماہاویرا نے ایک نظر کھڑکی کی طرف دیکھا مگر خاموش رہی۔۔۔

اگر آج سنو فالنگ رک گئی تو تمہیں باہر گھومانے کیلئے لے کر جاؤں گا۔۔۔ آحِل نے ماہاویرا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

ماہاویرا نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ آحل پہلے بھی اسے دو تین بار باہر لے کر گیا تھا مگر زیادہ ٹھنڈ ہونے کے باعث وہ دس پندہ منٹ بعد اسے گھر واپس لے آتا

وہ اپنے گھر سے ایک ملازمہ کو اپنے ساتھ لے کر آئے تھے جو ان کے لیے کھانا بناتی اور گھر کے باقی کام کرتی۔۔۔ سلطان صاحب اس ایک ہفتے میں ہی ماہاویرا سے ایک بار ملنے کیلئے آچکے تھے انہوں نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنی بیٹی کو خود سے دور کیا تھا۔۔۔

ناشتہ کرنے کے بعد بارہ بجے کے ٹائم پر آحل نے ماہاویرا کو باہر لے جانے کا سوچا۔۔۔

باہر چلیں۔۔۔ آحِل نے خاموش بیٹھی ماہاویرا سے کہا

ماہاویرا نے ہاں میں سر ہلایا اور اٹھنے لگی۔۔۔

آحِل نے آگے بڑھ کر اس کی اٹھنے میں مدد کی، اس نے ماہا کو لانگ کوٹ پہنایا اور ہڈی اس کے سر پر دیا، ہاتھوں میں گلوز پہنائے اور چلنے لگا۔۔۔

ماہا کا ایک ہاتھ آحل نے پکڑا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ وہ اپنے بڑھے ہوئے پیٹ پر رکھ کر چل رہی تھی۔۔۔

آحِل دروازہ کھولے ماہا کو باہر لے کر آیا، جما دینے والی سرد ہوائیں چل رہی تھیں مگر گرم لباس پہننے کی وجہ سے ان دونوں پر اس ہوا کا زیادہ اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

برف سے بھری زمین پر ان دونوں کے قدموں کی چانپ زورو شور سے سنائی دے رہی تھی، ٹھنڈ کے مارے پرندے درختوں پر بیٹھے اپنے پنکھوں کو پھڑپھڑا رہے تھے۔۔۔

ماہاویرا نے شوق سے ان کی طرف دیکھا، ان کا یوں ٹھنڈ سے پھرپھڑانا ان کی معصومیت کو دگنا کر رہا تھا۔۔۔

دس منٹ چلنے کے بعد ماہا کو تھکاوٹ کا احساس ہوا، آحل نے اسے ایک بینچ پر بیٹھایا اور خود بھی اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔

ٹھنڈ کے احساس سے ماہاویرا اپنے ہاتھ مسلنے لگی۔۔۔

چائے پیو گی۔۔۔ آحِل نے ماہا کو ہاتھ مسلتے دیکھ کر پوچھا

ماہا نے ہاں میں سر ہلایا تو آحِل اس کے لیے پاس ہی چائے والی دکان سے چائے لینے چلا گیا۔۔۔

دو کپ چائے کے دے دیں۔۔۔ آحِل نے دکان دار سے کہا

جی ابھی دیتا ہوں۔۔۔ اس نے جواب دیا

آحِل دکان کی طرف پیٹھ کیے کھڑا ہو گیا اور دور دور تک پھیلے قدرت کے نظارے کو دیکھنے لگا۔۔۔

وہ بڑی دلچسپی سے یہ نظارہ دیکھ رہا تھا جب اس کی نظر ایک لڑکی پر آکر ٹھہر گئی۔۔۔

حیرت سے آحِل کے رونگٹے کھڑے ہوئے وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

یہ اس کا وہم تھا یا حقیقت وہ اس لڑکی کی طرف بھاگا۔۔۔

برف سے بھری زمین جہاں اتار چڑھاؤ کا کچھ پتہ نہ چلتا تھا آحل بھاگتے ہوئے کئی بار گر کر اٹھا۔۔۔

ذائشہ۔۔۔ اس نے اتنی اونچی اس کا نام پکارا کہ آس پاس کے سبھی لوگ اسے دیکھنے لگے۔۔۔

مگر آحل کو کس کی پرواہ تھی وہ تو بس جلد از جلد اس کے قریب پہنچنا چاہتا تھا اسے قریب سے دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ لڑکی اپنی جگہ سے اٹھی اور چلنے لگی۔۔۔

آحِل اسے جاتا دیکھ کر پریشان ہوا اور بھاگتا ہوا بار بار اس کا نام پکارنے لگا۔۔۔

ذائشہ رک جاؤ۔۔۔

جیسے جیسے آحِل بھاگ رہا تھا اس لڑکی کے چلنے میں تیزی آنے لگی۔۔۔

ذائشہ۔۔۔

بھاگتے ہوئے اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گڈے میں جا گرا، سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ ہوش کھونے لگا۔۔۔

ذائشہ۔۔۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں اس نے آخری بار اس کا نام پکارا پھر ہوش کی دنیا سے غافل ہو گیا۔۔۔

Madhoshi Novel By Mirha Kanwal Read Online

Madhoshi Novel By Mirha Kanwal Urdu Novels PDF Download

We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.

Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *