In this post I am here to provide you Deewangi Novel By Zeenia Sharjeel novel romantic urdu novel. You can read online or download according to your choice.
Book Name: Deewangi.Author Name: Zeenia SharjeelGenre: Suspense based, romantic based, love story based, rude hero based, forced marriage based.Status: Completed
Zeenia Sharjeel is a very famous urdu writer. She is a famous writer on social media as well as web. She wrote on social, moral issues and she also wrote romantic Urdu.
Deewangi novel by zeenia sharjeel is One Of The Most romantic and fantastic Urdu Novels. Deewangi is a Suspense based, innocent heroin based, love story based, rude hero based, love at first sight urdu novels.
Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.
They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels.
Interesting Part Of Deewangi Novel By Zeenia Sharjeel
“تم آ گئے آفس سے، میں تمہارا ہی ویٹ کر رہی تھی۔۔۔ یہ پلانٹس میں نے خاص اس جگہ کے لئے منگوائے ہیں بالکل خالی سا لگ رہا تھا یہ پورشن۔۔۔ اب کیسا لگ رہا ہے”
درید کے یارڈ میں آنے پر تابندہ اس کو دیکھتی ہوئی بولی، سوئمنگ پول سے تھوڑے فاصلے پر دائیں جانب جہاں پر میز اور کرسیاں رکھی ہوئی تھی اسی کونے پر چار سے پانچ بڑے گلملوں کا اضافہ ہوا تھا
“نائس، اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔ نگہت بتا رہی تھی کہ آپ نے کوئی بات کرنا تھی مجھ سے”
درید وہی تابندہ کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔ وہ ابھی تابندہ کے کمرے میں موجود اس کے سیل فون سے شارقہ کی کالز ڈیلیٹ کرکے آرہا تھا
“ہاں تمہیں بتانا تھا کہ آج صبح ثوبیہ کی کال آئی تھی وہ ہمارے پاس کل رات کی فلائٹ سے پاکستان آ رہی ہے اور اب کی بار اس نے طے کیا ہے کہ وہ ہفتے دس دن یہی ہمارے پاس اسٹے کرے گی، ہمارے گھر پر”
تابندہ درید کو خوشی خوشی بتانے لگی۔۔۔ ثوبیہ ثمن اور تابندہ، تینوں کی دوستی اسکول کے وقت سے تھی۔۔۔ ثوبیہ شادی کے بعد مستقل طور پر کینیڈا چلی گئی تھی مگر تابندہ اور ثمن سے اس کا ہمیشہ کانٹیکٹ رہا وہ ثمن کی موت کے علاوہ بھی تین چار بار پاکستان آئی تھی وہ جب بھی پاکستان آتی تابندہ سے ضرور ملتی لیکن اب کی بار تابندہ اس لیے خوش تھی کہ اس کی سہیلی کا قیام اس کے گھر پر ہوگا
“یہ تو خوشی کی بات ہے ثوبیہ آنٹی پاکستان آ رہی ہیں مگر میں اور زمل ان سے فوری طور پر نہیں مل پائیں گے کیونکہ کل دوپہر زمل پیپر دے کر آئے گی تو ہمیں ایبٹ آباد کے لیے نکلنا ہوگا”
درید ریلکس انداز میں بیٹھا ہوا تابندہ کو اپنے پروگرام سے آگاہ کرتا ہوا بولا تو تابندہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی
“کیا مطلب اس بات کا کہ تمہیں اور زمل کو ایبٹ آباد جانا ہے۔۔۔ مطلب یہ پروگرام کب ڈیسائیڈ ہوا”
تابندہ حیرت ذدہ سی ہوکر درید سے پوچھنے لگی
“آج صبح وہاں کے آفس سے مینیجر کی کال آئی تھی، ایک دو چھوٹے موٹے مسائل ہیں تو رضی صاحب کہہ رہے تھے کہ میں وہاں ایک دو دن کے لئے آ جاؤ”
درید تابندہ کے چہرے کے تاثرات جانچتا ہوا اسے بتانے لگا وہ اب پہلے کی بانسبت تھوڑی پریشان دکھائی دے رہی تھی
“مگر زمل۔۔۔ اس کو ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے ایسے اچھا تو نہیں لگتا کہ گھر میں گیسٹ آنے والے ہو اور گھر کے افراد ہی گھر پر موجود نہ ہو بلکہ میں تو کہتی ہو تمہیں بھی وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے، جو بھی مسئلے مسائل ہیں یہی بیٹھے بیٹھے سالو کرلو انہیں”
تابندہ اعتراض کرتی ہوئی درید سے بولی اور ساتھ ہی درید کو بھی رکنے کا مشورہ دیتی ہوئی بولی یقیناً اس کا خوشگوار موڈ اب پہلے جیسا نہیں تھا
“اگر یہاں بیٹھے ہوئے مسلئے مسائل حل ہو جاتے تو رضی صاحب ان مسائل کو خود ہی نبٹا لیتے نہ کہ مجھے کال کر کے آنے کو کہتے اور رہی بات زمل کو اپنے ساتھ کے جانے کی آپ کو معلوم تو ہے مجھے وہاں اکیلے عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے میرے ساتھ زمل ہوگی تو وقت سہولت سے گزر جائے گا۔۔۔
زیادہ نہیں صرف تین سے چار دن کا اسٹے ہے پھر ہم دونوں واپس آکر مل لیں گیں ثوبیہ آنٹی سے”
درید تابندہ کو بات کی مکمل وضاحت دیتا ہوا بولا
“ایسے اچھا تو نہیں لگے گا درید ابھی زمل کی رخصتی نہیں ہوئی ہے یوں وہ اکیلے تمہارے ساتھ جائے گی تو ثوبیہ کیا سوچے گی”
تابندہ کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا بول کر درید کو وہاں جانے سے روکے اگر زمل درید کے ساتھ وہاں پر جاتی تو درید اور زیادہ دنوں تک وہاں اسٹے کرتا جو تابندہ بالکل نہیں چاہ رہی تھی اس لیے وہ ایک اور اعتراض اٹھاتی ہوئی درید سے بولی
“ثوبیہ آنٹی تو ایسا کچھ نہیں سوچیں گیں جیسا آپ سوچ رہی ہیں۔۔۔ میں اپنے ساتھ کسی غیر لڑکی کو یا اپنی کوئی گرل فرینڈ کو لے کر تو نہیں جا رہا ہوں۔۔۔ زمل اور میں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ایک دوسرے کے روم میں بنا اجازت کہ بناء ہچکچائے بچپن سے آتے جاتے تھے جب ہمارا نکاح نہیں ہوا تھا تب سے۔۔۔
اور میری زمل سے بچپن سے اٹیچمینٹ ہے جس کا اندازہ نہ صرف آپ کو اچھی طرح ہے بلکہ ثوبیہ آنٹی کو بھی ہے تو مجھے نہیں لگتا آپ کو یا ثوبیہ آنٹی کو اس بات پر کوئی خاص اعتراض ہونا چاہیے۔۔۔ اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں ہیں تو میں زمل کو آج ہی رخصت کر کے اپنے کمرے میں لے آتا ہوں پھر اس کے بعد تو ساری ٹینشن مسلئے ہی ختم ہوجائے گے”
درید کے نان اسٹاپ بولنے پر تابندہ گھور کر اس کو دیکھنے لگی۔۔۔ وہ درید ہی کیا جو اپنی بات سے پیچھے ہٹ جاتا اس لیے تابندہ ہار مانتی ہوئی بولی
“اچھا اچھا درید اب خاموش بھی کر جاؤ۔۔۔ لے جاؤ زمل کو اپنے ساتھ میں زرقون بی کو فون کرکے بول دو گی کہ تم دونوں وہاں آرہے ہو”
تابندہ درید کو خاموش کرواتی ہوئی بولی
“زرقون بی کو کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے، میں انہیں کال کر کے اپنے آنے کا بتا چکا ہو۔۔۔ آپ وہاں کی ٹینشن لینے کی بجائے آپ یہاں ثوبیہ آنٹی کے رہنے کے لیے روم ڈیسائیڈ کریں”
درید تابندہ کو مطمئن کرتا ہوا بولا
“یہ تو مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتی ہو تم زمل کا خیال اچھی طرح سے رکھو گے، لیکن اگر وہ کوئی نادانی میں غلطی کر بیٹھے تو پلیز بھڑک مت جانا پیار سے ہینڈل کر لینا اسے”
تابند دبے لفظوں میں درید کو سمجھاتی ہوئی بولی
“میں نے آپ سے کہا تھا ناں جو چند دنوں پہلے ہوچکا ہے آگے ویسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ زمل میری لائف میں بہت معنیٰ رکھتی ہے میں بچپن سے اس کا خیال رکھتا آیا ہوں اور آگے بھی رکھو گا۔۔۔ آپ اپنے دل سے سارے خدشات نکال کر مطمئن ہوجائے اور یہاں ریلکس ہوکر ثوبیہ آنٹی کو ٹائم دیں”
درید کے بولنے پر تابندہ خاموش رہی کیوکہ نگہت وہاں چائے لے کر آگئی تھی
****
“زمل کہاں جارہی ہو آج تو پیپرز ختم ہوئے ہیں تھوڑی دیر ٹھہر کر گھر چلی جانا”
زمل پیپر دینے کے بعد کلاس روم سے نکلی تو ثمرن اس کے پیچھے آتی ہوئی بولی
“ڈرائیور ویٹ کر رہا ہے۔۔۔ 20 منٹ بھی لیٹ ہوگئی تو پھر تم جانتی ہو گھر میں مما اور دید کو ٹینشن شروع ہوجائے گی، کہ میں کہاں بھاگ گئی ہو اور میرے گھر نہ آنے پر وہ دونوں ہی کئی طرح کی باتیں خود ایزیم کرلیں گے”
زمل چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر پارکنگ ایریا کی طرف جاتی ہوئی ثمرن سے بولی
“اپنی مما اور ہسبینڈ سے اتنی بد دل مت ہو یار، وہ دونوں یہ سب تمہاری فکر میں، تم سے محبت میں کرتے ہیں۔۔۔ میرے حساب سے تو تمہیں اس دن یوں کیف کے گھر جانا ہی نہیں چاہیے تھا جب تمہیں خود اپنے ہسبنڈ کی نیچر کا اندازہ تھا اور یوں نکاح کے بعد کیف کے ساتھ تمہاری انڈرسٹینڈنگ کہاں سے مناسب ہے زمل”
ثمرن اس کے ساتھ چلتی ہوئی ایک بار پھر زمل کو سمجھاتی ہوئی بولی جس پر زمل کے قدم رکے اور وہ ثمرن کی طرف رخ کرتی ہوئی اس سے بولی
“تم بار بار میرے نکاح کی بات بیچ میں لاکر کیوں مجھ پر یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کہ میں کوئی غلط لڑکی ہو جبکہ میں تمہیں بتا چکی ہوں دید سے میرا نکاح میری چوائس پر نہیں ہوا تھا۔۔۔ کانٹیکٹ ختم کر تو دیا ہے کیف سے اب اور کیا کرو میں۔۔۔
وہ میرے اس رویہ کو لے کر کتنا دکھی ہوا ہوگا۔۔۔ ناجانے میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا،، مگر میں اس کو اپنے اس بی ہیویر کی وضاحت بھی نہیں دے سکتی کیوکہ دید کو اگر کہیں سے معلوم ہوا کہ میں نے کیف سے بات کی ہے تو دید اپنے آپ کو نقصان پہنچا لے گیں اور ان کو میری وجہ سے کچھ ہوجاتا ہے تو میں یہ بوجھ لے کر ساری زندگی خود بھی نہیں جی پاؤں گی۔۔۔ میں چند دنوں سے کس کشمکش میں مبتلا ہو میری فیلینگز کوئی بھی نہیں جان سکتا”
زمل روہانسی لہجے نے ثمرن کو اپنی دلی کیفیت بتانے لگی
Deewangi Novel By Zeenia Sharjeel Read Online
Deewangi Novel By Zeenia Sharjeel Download PDF
We also wants to share here that Novels Point always complies with Digital Copyright Laws – DMCA. We are also sharing here that Novels Point has no copyrights for this book/file. This file / book is shared for our readers just for educational purpose. Novel Point always encourages its users to buy licensed book. We are just sharing link to this book.
Neither we host this book nor we upload it to any server. If the publisher of any book ask to remove his / her book we will remove the link from our website. If you have any issue or want to send DMCA / Removal request then send us a email at info@novelspoint.com
