Pyaar hua tha by zeenia sharjeel
BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS, URDU NOVELS

Pyaar Hua Tha By Zeenia Sharjeel The Most Romantic Second Marriage Based Novel – Download PDF

In this post I am here to provide you Pyaar hua tha by zeenia sharjeel second marriage based romantic urdu novel. You can read online or download according to your choice.

Book Name: Pyaar hua tha
Author Name: Zeenia Sharjeel
Genre: Most Romantic Novel, Second Marriage Based, Murder Based
Status: Completed

Pyaar hua tha by zeenia sharjeel urdu novel is written on a husband wife toxic romantic love which reflects the real life. A beautiful journey of love and intimacy in which two lovers make each other their own. An interesting full story.

Zeenia Sharjeel is a very famous urdu writer. She is a famous writer on social media as well as web. She wrote on social, moral issues and she also wrote romantic Urdu.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

They write romantic novels,free romantic novel download pdf,forced marriage,hero police officer based urdu novel,very romantic urdu novels,full romantic urdu novel,urdu novels,best romantic urdu novels,full hot romantic urdu novels,famous urdu novel,romantic urdu novels list,romantic urdu novels of all times,best urdu romantic novels.

Interesting Part Of Pyaar hua tha by zeenia sharjeel

وہ ابھی مائے نور کے بیڈروم سے اپنے بیڈروم میں آیا تھا کل رات لیٹ نائٹ سکندر ولا پہنچنے پر اسے واچ مین سے مائے نور کے بارے میں معلوم ہوچکا تھا پھر صبح اسے مائے نور نے بتایا کہ کیسے عرا اس کو واش روم میں اٹھاکر باہر لائی کیسے وہ عون کو سنبھالنے کے ساتھ ہی اس کو بھی ہاسپٹل لے کر گئی، سارا دن اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا اور دیکھ بھال کرتی رہی مائے نور اس وقت اس قدر حساس ہورہی تھی ریان کو ساری تفصیل بتاتی ہوئی خود رو پڑی۔۔۔ شام تک عشوہ بھی ریان کی کال پر مائے نور کے پاس آچکی تھی

اس وقت ریان مائے نور کے کہنے پر عون کو اس کے حوالے کرتا ہوا خود اپنے کمرے میں چلا آیا جہاں عرا دوسرے کاموں میں مصروف تھی آج اسے تزئین سے ملنے کے لیے جانا تھا مگر مائے نور کی طبیعت کی وجہ سے وہ اپنی پھپھو کے گھر جانے کا پروگرام کینسل کرچکی تھی وہ عون کے دھلے ہوئے کپڑوں کی چھوٹی تہہ بناتی ہوئی وارڈروب میں رکھ رہی تھی تب ریان اسے دیکھ کر بولا

“کتنے دن کی چھٹی لے کر گئی ہے شمع اگر وہ کل تک نہیں آتی تو کسی دوسری میٹ کا ارینج ہو جائے گا تمہیں خود کو تھکانے کی ضرورت نہیں ہے”

آدھے گھنٹے پہلے ریان نے اسے کچن میں مائے نور کے لیے سوفٹ ڈائیٹ بناتے دیکھا تھا اب وہ دوسرے کاموں میں مصروف تھی جسے دیکھ کر ریان عرا کا خیال کرتا بولا

“میں نے کون سا سارے گھر کا جھاڑو پوچھا کیا ہے یا پھر برتن مانچے ہیں یہ تو چھوٹے موٹے کام ہیں انسان روٹین میں خود کرلیتا ہے صرف ایک کھانا بنانے کا کام کا اضافہ ہوا ہے وہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے آنٹی کے لیے کم نمک مرچ کا کھانا بنادیا ہے اب ہمارے لیے بنانے جارہی ہوں”

ریان سے باتیں کرنے کے ساتھ اس نے بیڈ پر بکھرا ہوا عون کا سامان سمیٹ دیا ریان اس کے سامنے آکر عرا کے دونوں ہاتھ پکڑتا ہوا باری باری ان کو چومنے لگا عرا خاموشی سے ریان کو دیکھنے لگی جو اب اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے خود بھی خاموش کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو”

عرا اس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی کو دیکھ کر ریان سے پوچھنے لگی آج سارے دن میں اب اسے موقع ملا تھا جو وہ ریان کے سامنے کھڑی اس سے بات کررہی تھی

“دیکھ رہا ہوں تمہارے ساتھ ساتھ تمہارا دل بھی کتنا پیارا ہے، کہاں سے لےکر آئی ہو اتنا پیارا دل”

ریان عرا کا چہرہ تھامے اس سے پوچھنے لگا تو عرا نہ سمجھنے والے انداز میں ریان کو دیکھنے لگی

“آج ماں نے اس بات کو تسلیم کرلیا کہ تم ایک اچھی بہو ہو، معلوم نہیں وہ تمہارے سامنے اس بات کا اعتراف کریں یا پھر نہیں لیکن جس طرح وہ مجھ سے تمہارے بارے میں باتیں کررہی تھیں مجھے لگتا ہے اب ان کے دل میں تمہارے لیے کوئی بدگمانی یا غصہ نہیں ہے”

ریان نے عرا کو بتاتے ہوئے اپنے حصار میں لے لیا

“تھینکس یار میری ذمہ داری میرے فرض کو تم نے میری غیر موجودگی میں اس قدر اچھے طریقے سے انجام دیا آج تو مجھے خود کی قسمت پر رشک آرہا ہے کہ میں نے اپنے لیے تمہارا انتخاب کر کے اپنی زندگی کو صرف خوشگوار ہی نہیں بلکہ آسان بھی بنایا ہے”

وہ عرا کے وجود کو اپنے سینے میں چھپائے عرا کے سامنے اعتراف کرنے کے ساتھ اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا

“تم بھی آنٹی کے جیسے ایموشنل ہورہے ہو میری جگہ کوئی دوسرا ہوتا وہ بھی یہی کام کرتا اب ایسا بھی کوئی بڑا کام نہیں کیا ہے میں نے”

عرا ریان کے سینے سے اپنا سر ہٹاکر اونچا کرتی ہوئی ریان کا چہرہ دیکھ کر بولی

“ہر کسی کا ظرف اتنا بلند نہیں ہوتا ماں نے تمہارے ساتھ ہمیشہ سے جو رویہ رکھا اس کے باوجود تم نے ان کے مشکل وقت میں ان کو نوکروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا یا پھر میرے واپس آنے کا ویٹ نہیں کیا۔۔۔ تم جانتی ہو مجھے آج ایک مرتبہ دوبارہ تم سے محبت ہوچکی ہے تمہارے اِس خوبصورت دل کی وجہ سے”

ریان بولتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا محبت بھری مہر عرا کی پیشانی پر ثبت کرتا پیچھے ہوا تو عرا ریان کی بات پر ہنس دی

“اب تم اور بھی زیادہ جذباتی ہورہے ہو اچھا ابھی مجھے چھوڑو، رات کے ڈنر کی بھی تیاری کرنی ہے”

عرا ریان سے بولتی ہوئی اس کے حصار سے باہر نکلنے لگی

“ہمارا ڈنر باہر سے آجائے گا اور تم مجھے جذباتی ہونے سے نہیں روک سکتی کیونکہ رات میں تمہیں سوتا ہوا دیکھ کر میں اپنے جذبات پر قابو پاچکا تھا اس لیے اب اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تمہیں میرے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے”

ریان عرا سے بولتا ہوا اسے اپنے بازوؤں میں اٹھاکر بیڈ پر لے آیا

“ریان یہ کوئی وقت ہے آنٹی کو کبھی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے شمع بھی موجود نہیں ہے کچھ تو خیال کرو ابھی تھوڑی دیر میں عون بھی آجائے گا”

عرا شام کے وقت ریان کا موڈ دیکھ کر ہڑبڑاتی ہوئی بولی

“عاشو ماں کے پاس موجود ہے وہ ماں کو دیکھ لے گی اور عون کا پیٹ بھرا ہوا ہے وہ ابھی ہمہیں ڈسٹرب نہیں کرے گا اس وقت عون کے باپ کو زور کی بھوک لگی ہے ویسے بھی رول (rule) نمبر سکس کے مطابق تمہیں اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے شرافت سے مان جانا چاہیے ورنہ رول نمبر( 10) کے مطابق اس دوپٹے سے میں تمہارے دونوں ہاتھ باندھ دو گا”

ریان عرا کا دوپٹہ گلے سے اتار کر سائیڈ پہ رکھتا ہوا اسے دھمکانے کے ساتھ ساتھ عرا پر جھک گیا

“بہت بدتمیز ہو تم اپنی اس بےوقت کے بھوک کا علاج کرو، اب ایسا بھی ٹھیک نہیں ہے بندہ ہر وقت ہی کسی بھی ٹائم بس شروع ہو جائے”

وہ عرا کی گردن پر جھکا اپنی شدتیں اس پر عیاں کرنے لگا تب اسے عرا کی آواز سنائی دی

“میری اس بے وقت کی بھوک کا علاج صرف تم ہی ہو میری جان، پرسوں رات میں تمہیں بےشرم لگا تھا اور اب اچانک بدتمیز ہوگیا پہلے تم خود ڈیسائیڈ کرلو کہ میں زیادہ بے شرم ہوں یا بدتمیز”

ریان اپنی شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکتا ہوا عرا کے ہونٹوں پر جھک گیا اس وقت نہ چاہتے ہوئے بھی عرا کو ریان کی مانتے ہوئے اس کی جانب متوجہ ہونا پڑا

“ریان پیچھے ہٹو دروازہ ناک ہوا ہے”

چند سیکنڈ بعد وہ ریان کو پیچھے ہٹاتی ہوئی دوپٹہ لے کر اپنے بال سمیٹتی ہوئی بیڈ سے اتری

“یار اس وقے عاشو کو کیا مسئلہ ہوگیا اسے جلدی فارغ کرنا باتوں میں مت لگ جانا”

ریان عرا سے بولتا ہوا ڈریسنگ روم میں چلے گیا۔۔۔ عرا نے کمرے کا دروازہ کھولا تو عشوہ عون کو گود میں لیے کھڑی تھی

“اس کا موڈ خراب ہورہا تھا یہ کبھی بھی رونے کا پروگرام شروع کرسکتا تھا اس سے پہلے اس کا باجا بجتا میں اس کو تمہارے پاس لے آئی”

عشوہ عرا کو عون کے بارے میں بتاتی ہوئی بولی عون جو کہ رونے والا تھا عرا کی گود میں آکر اپنے رونے کا پروگرام کینسل کرچکا تھا

“ہاں اس کو بھوک لگ گئی ہوگی”

عرا مسکراتی ہوئی عشوہ سے بولی ان دونوں کے درمیان سرد دیوار آج شام گر چکی تھی عشوہ نے خود سے پہل کر کے عرا سے بات چیت کی تھی اور عرا سے اچھی طرح ملی تھی

“کیا ہوگیا میری جان کو پھپھو کے پاس رونا آرہا تھا”

عرا عون کو گود میں لیے بہلاتی ہوئی فیڈ کروانے کے ارادے سے بیڈ پر لےکر بیٹھ گئی ریان جب ڈریسنگ روم سے واپس آیا تو ریان کو دیکھ کر عرا کو بےساختہ ہنسی آگئی وہ کندھے اچکاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی مطلب اب وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی ریان ٹھنڈی آہ بھر کر وہی عون کے پاس لیٹ گیا

“پی لے میرے لعل سارا تو ہی پی جا”

ریان عون کو پیار کرتا ہوا حسرت سے بولا جس پر عرا نے آنکھیں نکال کر ریان کو گھورا

“توبہ ہے ریان کبھی کبھار کس قدر فضول بولتے ہو تم”

عرا کے ٹوکنے پر ریان واپس اپنی شرٹ پہننے لگا

“اچھا خاصا موڈ بن گیا تھا اب رات پہلے مجھے اپنی اولاد کو خود سلانا پڑے گا نہیں تو آج رات بھی میں بھوک برداشت کرتا رہ جاؤ گا”

ریان اپنی دھن میں شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا بول رہا تھا تبھی اس کے موبائل پر میسج آیا

“موبائل دینا یار معلوم نہیں کون میسج کررہا ہے” موبائل اس کی پہنچ سے دور تھا اس لیے وہ بے دھیانی میں عرا سے بولا۔۔۔

ریان کا موبائل عرا نے اپنے قریب ہونے کی وجہ سے اٹھایا اور ریان کو دینے کی بجائے خود اس کا میسج پڑھتی ہوئی بولی

“بیوٹی فل میموریز”

یہ واٹس ایپ پر آئی کچھ پکس تھی جو نیٹ سلو ہونے کی وجہ سے ابھی تک اپلوڈ نہیں ہوئی تھی عرا نے میسج بھیجنے والے کا نام پڑھا

“یہ ایلکس کون ہے کہیں سنا سنا لگ رہا ہے یہ نام”

عرا خود سے بولتی ہوئی واٹس ایپ پر آئی پکس کھلنے کا انتظار کرنے لگی جبکہ ایلکس کا نام سن کر ریان کو بری طرح کرنٹ لگا اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر عرا سے فوراً اپنا موبائل لینا چاہا

“عرا دکھاؤ مجھے موبائل”

Pyaar hua tha by zeenia sharjeel Read Online

Pyaar hua tha by zeenia sharjeel Download PDF

Read More Romantic Novels

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *