In this post I am here to provide you Muhabbat ki hawas Muhabbat ki hawas bold romantic novels. You can read online or download according to your choice.
BOOK NAME: Muhabbat ki hawasGENRE: Bold Romantic Novel, Rich Hero Based, Second Marriage Based, Rude Hero Based, 2 Couple Based, Forced Marriage basedSTATUS: Complete
Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.
Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.
یہ ایک بہت بڑے فلیٹ کا منظر تھا
وہ مسلسل روئے جا رہی تھی
بیٹا مت رو۔۔۔۔۔۔
پاپا۔۔۔۔۔۔ اس لڑکی نے رو کر اپنے شکوے کا اظہار کرنا چاہا
رونا بند کرو تم وہاں نہیں جاؤ گی
جس پر وہ لڑکی اور رو نے لگی تھی
بیٹا وہ بہت برا شخص ہے
اس کا پوری دنیا میں بزنس ہے وہ تم جیسی کو کیسے قبول کرے گا۔۔۔
لیکن میں اسے چاہتی ہوں۔۔۔
بیٹا سمجھنے کی کوشش کرو میں نے بہت مشکل سے یہ سب ارینج کیا ہے۔۔۔۔
مجھے پتا ہے اور مجھے اس بات پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے
پھر تم رو رہی کیوں ہے۔۔۔۔؟
کیونکہ میں اس سے پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔
مجھے پتا تھا۔۔۔۔۔ چلو آج پہلی بار تم نے میرے سامنے اعتراف کیا ہے تو تمہیں اس سے ملواتا ہوں۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔ میں اس کے بنا رہ سکتی ہوں لیکن اس کا ٹھکرانا مجھے برداشت نہیں ہو پائے گا
میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔ لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ہم کبھی ایک ساتھ نہیں سکتے۔۔۔۔ لیکن میرا تم سے یہ پیار کرنا ہی کافی ہے۔۔۔۔ جینے کےلیے۔۔۔اس نے دل میں سوچا
_____________________
چلو بیٹا آؤ تمہارے فیورٹ رسٹورنٹ لے چلوں
نہیں موڈ نہیں ہے اس نے جواب دیا
راشد نے نازلین کو اصرار کیا یہاں تک کے وہ مان گئی
بیٹا وہ دیکھو یہاں کوئی ایکسیڈینٹ ہوا ہے میں دیکھ کر آیا اگر تمہیں کچھ کام ہو تو مجھے کال کر دینا۔۔۔۔۔ راشد نے دور رش دیکھ کر نازلین سے کہا
دوسری طرف دراب اپنے کیبن میں بیٹھے نیوز سن رہا تھا
ساتھ ساتھ وہ اپنی فائل بھی تلاش کر رہا تھا
وہ دیکھیں ۔۔۔۔ دونوں کار کو شدید طرح ڈیمیج ہو چکی ہیں۔۔۔۔اس ہفتے میں یہ تیسرا ایکسیڈنٹ پیش آیا ہے۔۔۔۔ ریپورٹر کی آواز دراب کے کانوں پر پڑی
کمیرا اب پورے رسٹورنٹ کی ویڈیو ٹی وی کی سکرین پر لا رہا تھا وہی پر وہ بھی بیٹھی تھی
دراب کی نظر اس سکرین پر پڑی تھی
نازلین ۔۔۔۔!!!! اس کی آنکھوں کو یقین ہی نا آیا تھا۔۔۔۔ اس نے نازلین کو دیکھا جس کی آنکھوں میں درد تھا
ٹی وی کی جانب جا کر اس نے سکرین کو چھوا
لیکن اس وقت ویڈیو دوبارہ ایکسیڈنٹ والی سائیڈ پر چلی گئی تھی
مجھے اسے تلاش کرنا ہے وہ ۔۔۔وہ زندہ ہے۔۔۔۔ دراب ہوش و خرد سے بے گانا تھا
چلو بیٹا ادھر سے چلے۔۔۔ یہاں پر ایکسیڈنٹ ہوا ہے ٹرافک جام ہے۔۔۔۔ دوسری طرف راشد نے نازلین سے جانے کا کہا
وہ وہاں سے چلے گئے
اور دراب نے اتنے میں ٹی وی چینل کے ہیڈ کو کال کی کہ اس جگہ کی لوکیشن ٹریس کی جائے
اس نے دراب کو سٹی کا نام بتایا
دراب نے شاید کے ذریعے ٹکٹس بک کروائی
تم زندہ تھی نازلین تو کیوں۔۔۔۔؟ کیوں مجھے چھوڑا تم نے میں تمہیں چین سے جینے نہیں دونگا نازلین۔۔۔۔تم میرے بغیر ایسے نہیں جی سکتی ۔۔۔۔۔ میں آ رہا ہوں نازلین۔۔۔۔ میرے اندر کا جانور تم جگا چکی ہو۔۔۔۔ دراب نے غصے سے کہا
______________________________
اگلے دن نازلین کے گھر بہت سے بچے داخل ہوئے
آپی آج آپ ہم سب کو پینٹنگ کرنا سکھاؤ گی نا۔۔۔؟
جی۔۔۔۔ نازلین نے بچوں کی بات پر ہاں کی
وہ بچوں کو پینٹنگ سکھانے لگی
کون سی پینٹنگ سیکھنی ہے ۔۔۔؟ نازلین نے انسے پوچھا
آپی آپ کے پرنس چارمنگ والی۔۔۔۔ ایک بچے نے کہا
نازلین کی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے اس کی آنکھوں کے سامنے دراب کا عکس چھانے لگا تھا جسے تصور کر کے وہ پینٹنگ بناتی تھی
_________________________
وہ دوسرے شہر پہنچ چکا تھا یہاں نازلین کی موجودگی کی خبر ملی تھی
اس نے اپنا پورا دن گزار دیا تھا لیکن نازلین کا کوئی سراغ نہ ملا
بینچ پر بیٹھ کر اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی
کچھ دیر کے بعد وہ نازلین کو تلاش کرنے کےلیے دوبارہ کھڑا ہوا
جب اس کی ساری ہمت جواب دے گئی تو وہ اپنی کار میں واپس جانے لگا
لیکن اچانک اس کی نظر دور پارک میں بیٹھی نازلین پر پڑی
اس کی آنکھیں یہ منظر دیکھ کر شعلہ برسانے لگی تھی
وہ اس کے پاس آیا تھا
اس نے فوراً نازلین کو اپنے سینے سے لگایا تھا
لیکن نازلین نے اس کی کاروائی کا کوئی جواب نہ دیا تھا اور سن کھڑی تھی
دراب۔۔۔۔!!! نازلین دوسری طرف حیران تھی
ایک منٹ کے بعد دراب اس سے الگ ہو کر اسے زور کا تھپڑ مار چکا تھا
نازلین اس کی وجہ سے بینچ پر گری تھی
تم !۔۔۔۔ تم !۔۔۔۔ بے شرم !۔۔۔۔ تم نے مرنے کا ڈرامہ رچایا میرے آگے !۔۔۔۔ دراب کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا
نازلین نے جھکتی نظر سے ہاں میں سر ہلایا جب دراب نے اس کے بال اپنی مٹھی میں کیے تھے
مجھے لگا میری قسمت نے کھیل کھیلا ہے میرے ساتھ لیکن نہیں کھیل تو تم نے کھیلا ۔۔۔۔ میں ٹھیک تھا سب لڑکیاں بلاڈی ایک جیسی ہوتی ہیں۔۔۔۔ اپنا ہاتھ دوبارہ اس نے نازلین کی گال پر چھاپ کر کہا تھا
دراب۔۔۔۔۔!!! نازلین نے ہمت کی
اپنی زبان سے میرا نام بھی مت لینا۔۔۔۔ دراب نے انگلی اٹھائی
نازلین رو نہیں رہی تھی
راشد وہاں آیا تھا اس نے نازلین کو گھاس پر دیکھا پھر اس کی نظر دراب پر پڑی
نازلین نے اپنے پاپا کو وہاں سے جانے کا کہا جو کہ ایک درخت کی اوڑ میں چھپ گئے
نازلین ۔۔۔۔ مجھے کیوں چھوڑا تم نے۔۔۔۔۔ ؟؟؟۔۔۔۔دراب گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کا چہرہ تھام چکا تھا
کیونکہ میں تم جیسے انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔۔۔ جس نے اتنے لوگوں کی جان لی ہو۔۔۔۔ وہ ایک خونی ہو۔۔۔۔۔ اور یہاں تک کہ اس کی اپنی ماں نے اسے پیچا کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نازلین چلائی
اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی جب دراب کا صبر ختم ہو گیا اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا
آئی ہیٹ یو۔۔۔۔!!!۔۔۔تم جانتی ہو پہلی مرتبہ میں نے ایک لڑکی سے پیار کرنا محسوس کیا ۔۔۔ اس کےلیے فیلنگ محسوس کی ۔۔۔لیکن اب سمجھ آیا وہ میری بہت بڑی غلطی تھی ۔۔۔۔ دراب نے اپنا چہرہ صاف کئا
وہ جانے لگا لیکن مڑا
نازلین مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم مجھے اس لیے چھوڑوگی کہ میں برا ہوں
تمہیں پتا ہے تمہارے لیے میں بدل چکا تھا ۔۔۔۔ لیکن اب میں وہی پرانا دراب شاہ ہوں۔۔۔۔ وہی مافیا باس ولااس نے شیطانی مسکراہٹ سے کہا
اور چلا گیا
راشد نازلین کے پاس آیا
نازلین پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
تم نے اسے سچ کیوں نہیں بتایا ۔۔۔
نہیں پاپا اسے آگے بڑھنے دو۔۔۔۔
مجھے تم پر فخر ہے ۔۔۔۔ راشد نے اسے گلے لگایا اور اس وقت کو یاد کیا جب وہ ہاسپیٹل تھی
اس نے اپنے ڈاکٹر سے کہا جو کہ اس کا جاننے والا تھا اور اس کی مدد سے فیک ڈیتھ نیوز بنوائی تھی
اپنی بیٹی کو وہ اس جھنجھل سے دور کرنا چاہتا تھا جس میں پھنس کر اس کی جان بھی خطرے میں ہو ۔۔۔۔ اس لیے دراب سے وہ نازلین کو چھپاتے آیا تھا
_____________________________
راشد اپنی بیٹی کو ٹوٹے دل کے ساتھ گھر لے کر آیا تھا اسے خدشہ تھا کہ ایک سال سکون کے بعد اب دوبارہ اسے بےسکونی کا سامنا نہ کرنا پڑے
اس کی ہمت کیسے ہوئی تمہیں تھپڑ مارنے کی میرے ہوتے ہوئے اس کا کوئی حق نہیں تمہارے ساتھ ایسا کرے ۔۔۔۔تم نے اسے سچائی کیونہ بتائی ۔۔۔۔ راشد نے اس کی گال کو چھو کر کہا جو کہ لال ہوئی تھی
نہیں پاپا پہلے بھی میں بتا چکی ہوں کہ اسے اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنے دے اور رہی بات طلاق کی تو وہ مجھے بالکل نہیں دے گا۔۔۔۔۔ میری ہمت بھی نہیں ہے دراب سے طلاق کا بولو وہ اور مچھر جائے گا۔۔۔۔۔ اسلئے میں کچھ دن تک خود ہی ہاتھ پیر ہلاؤں کی
_________________________
دراب نے بجلی پانی اور ساری سہولت ان کے گھر سے کٹ آف کی تھی ۔۔۔۔
مسز دراب۔۔۔۔میرا سکہ ہر جگہ چلتا ہے ۔۔۔۔ اور میں تمہیں ایسے سکون سے تو بالکل بھی نہیں رہنے دونگا۔۔۔تم نے مجھے بے حال کیا تھا ۔۔۔اب تمہاری باری ہے ۔۔۔ دراب نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر اچھال کر خود کو آئینے میں دیکھا تھا یہ بات سچ تھی کہ جب سے نازلین کے زندہ ہونے کی خبر سنی تھی اور اس سے ملا تھا تو دراب کے چہرے پر سکون چھا گیا تھا
_________________________
پاپا پانی نہیں آ رہا۔۔۔۔ نازلین نے جیسے ہی ٹیپ آن کی تو پانی ختم تھا
اور بجلی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ راشد نے اسے کہا اور کمپلین کرنے کےلیے نمبر ڈائل کیا
جی میں گھر نمبر چھ سے بات کر رہا ہوں ہمارے گھر میں نا پانی ہے نا بجلی کیا میں وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔۔؟؟؟؟
جی آئے گا بھی نہیں۔۔۔۔ اوپر سے آڈر ہیں ۔۔۔دوسری طرف سے جواب موصول ہوا
دراب نے ہی کروایا ہے یہ سب ۔۔۔ نازلین نے اس کی بات سنی تو کہا
اٹس او کے بیٹا ۔۔۔۔ ہم دو تین دن میں ہی چلے جاہے گے یہاں سے
______________________
نازلین گہری نیند سو رہی تھی
آدھی رات کو وہ کھڑکی سے اس کے روم میں آیا
دراب نے اس کا چہرہ دیکھا جو بے سکونی میں ڈوبا ہوا تھا
اس کے بعد اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما
اس سے پہلے کے نازلین شور مچاتی ۔۔۔۔ کیونکہ وہ اٹھ گئی تھی ۔۔۔دراب نے اس کے منہ کے اندر اپنا رومال ٹھونسا تھا
شششش۔۔۔۔۔ ایک لفظ بھی نہیں۔۔۔۔ نہیں تو تمہارے باپ کو یہ مافیا خونی ۔۔۔۔ برا انسان ۔۔۔ مار ڈالے گا۔۔۔۔ دراب نے چبا چبا کر بولا
نازلین نے ڈر کے مارے سر ہلایا
دراب نے اس کا معائنہ کیا تھا پہلے سے بھی ویک تھی اس کا دل مچل رہا تھا ۔۔۔۔ نازلین کی قربت کی پیاس اس نے پورے ایک سال برداشت کی تھی ۔۔۔۔۔ یہی سوچ کر وہ اس کی گردن پر جھکا تھا ۔۔۔اپنے دہکتے ۔۔۔تڑپتے لب اس نے اس کی گردن پر رکھے تھے ۔۔۔ نازلین کی سانسیں تیز ہو چکی تھی ناجانے کیا تھا اس کے دل میں وہ بھی اسے پیچھے نہ ہٹا سکی
آہستہ آہستہ دراب کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا وہ اپنے ہونٹ کا مرکز اب نازلین کے دل کو بنا چکا تھا ۔۔۔۔ نازلین کے آنسو نکلنے لگے تھے
اسے مضبوطی سے بیڈ کے ساتھ پن کر چکا تھا اس کے انداز سے وہشت ٹپک رہی تھی ۔۔۔۔۔ شاید اس سے وہ اپنے اندر کے غبار کو کم کرنا چاہتا تھا
پلیز دراب ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔!!! نازلین با مشکل بول پائی تھی
دراب نے اس کی جانب اپنی نظر اٹھائی تو اس کے روتے بھیگے چہرے کو دیکھ کر دراب کا دل پگھلنے لگا تھا
دراب نے اس کے ہاتھوں سے اپنے پھنسائے ہوئے ہاتھ چھڑا کر بیڈ اس کے ہاتھوں کو بیڈ سے آزاد کیا
نازلین کی آنکھوں میں درد تھا
دراب نے اسے محسوس کیا اس کا چہرہ پیار سے تھام کر اس کے ماتھے پر لب رکھے اور اسے اپنے سینے سے لگایا
تم بے حیا ۔۔۔ بے شرم ہو۔۔۔ آئی ہیٹ یو۔۔۔۔ آئی جسٹ ہیٹ یو۔۔۔۔ اچانک ہی اس نے ایک جھٹکے سے نازلین کو خود سے دور کیا تھا
تم بھی برے ہو۔۔۔۔۔ نازلین نے خود کو چادر سے ڈھانپ کر روتی آواز سے شکوہ کیا تھا
یہ مگر مچھ کے آنسو مت بہاؤ۔۔۔۔ مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہیں ہاتھ بھی لگانے کا۔۔۔۔ میں خود کو گندا نہیں کرنا چاہتا تمہیں چھو کر۔۔۔۔اس نے نازلین کا چہرہ دبوچ کر کہا اور وہاں سے نکل گیا
____________________
اگلی صبح بھی وہاں کوئی بجلی اور پانی نا تھا
راشد مارکیٹ سے پانی اور کھانے پینے کی اشیأ لے کر آیا
شام کو دراب نے غنڈوں کو بلاوایا تھا
اس کے گھر میں داخل ہو جاؤ اور توڑ پھوڑ کرو ۔۔۔۔ اس نے سخت آڈر کیا
اوکے سر۔۔۔سر ان دونوں کو بھی مارنا ہے ۔۔۔۔ ایک آدمی نے پوچھا
ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔ لیکن حد میں رہتے ہوئے۔۔۔۔ دراب نے مسکرا کر کہاباہر کی جانب نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
