Rooh Ka Makeen Bold romantic Urdu Novels Online & Download Pdf
BOOKS I LOVE, ROMANTIC URDU NOVELS, URDU NOVELS

Rooh Ka Makeen Bold romantic Urdu Novels Online & Download Pdf

In this post I am here to provide you Rooh Ka Makeen bold romantic urdu novels by azbeena khan bold romantic novel. You can read online or download according to your choice.

BOOK NAME: Rooh Ka Makeen
AUTHOR NAME: Azbeena Khan
GENRE: Bold Romantic Novel, Rich Hero Based, Second Marriage Based, Rude Hero Based, 2 Couple Based, Forced Marriage based
STATUS: Complete

Azbeena Khan is a social media writer. She has written many novels in a unique and interesting writing style. She love to write interesting stories.

Novels point is a platform where we provide quality reads. As I am book lover so I share my best reads with my people. There are all types of urdu novels available here like romatic urdu novels, kidnapping based urdu novels, forced marriage based urdu novels, after nikkah based urdu novels, mafia hero based urdu novels, bold romantic novels.

Novels point also promote new writers to write online and show their writing abilities and talent. We give new writers a platform to write and show the power of their words.

رات کے کھانے کے بعد وہ باہر لان میں آگئی دو تین دن رہ گئے تھے اس کی شادی میں

اس کا دل خالی خالی سا تھا جیسے اب کوئی احساسات ہی نہ بچے ہوں

اچانک گیٹ کھلنے پہ اس نے گردن موڑ کے دیکھا جبران گاڑی لے کے اندر داخل ہوا مرال کی دھڑکن یک دم تیز ہوئی کیا وہ اب بھی اس کے لیے اتنا ہی اہم تھا جیسے پہلے ہوا کرتا تھا….. وہ اس کو یک ٹک تکے جا رہی تھی اس نے بھی مرال کو دیکھا اور وہیں چلا آیا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی

” ایسے کیا دیکھ رہی ہو قتل کرنے کا ارادہ ہے کیا” وہ شرارت سے بولا مرال نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں شرارت پنہا تھی اور وہاں سے جانے کے لیے قدم بڑھائے ہی تھے کہ جبران اس کی راہ میں حائل ہو گیا

” مجھ سے کیوں بھاگتی ہو تم مرال….. جہاں بھی میں آؤں تم وہاں سے چلی جاتی ہو ہمیشہ مجھے یہ باور کراتی ہو کہ مجھ سے تمہار کوئی رشتہ نہیں نا ہی تم مجھ سے محبت کرتی ہو لیکن تمہاری آنکھیں سب کہہ دیتی ہیں تم جتنا مرضی جھٹلاؤ سچ یہ ہے کہ تم اب بھی مجھ سے محبت کرتی ہو”

” پہلی بات.. میں آپ سے بھاگتی نہیں ہوں میں آپ سے دور رہنا چاہتی ہوں اور دوسری بات میں نےآپ جو اس دن بھی بتایا تھا کہ میں آپ سے محبت نہیں کرتی میں محبت کرتی تھی پر صرف اپنے شوہر سے جب وہ چلا گیا تو محبت پھر کہا رہ گئی” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اور وہ بار بار نظریں چرا رہی تھی

” یہ ہی بات میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو” جبران نے کہا تو مرال کی جان مشکل میں آگئی وہ سب کرسکتی تھی پر جبران کی آنکھوں میں دیکھ کر اپنی محبت کا انکار کرنا بہت مشکل تھا

” بولو مرال” وہ پھر بولا

” پلیز ہٹیں جبران”

” پہلے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہو کہ مجھ سے محبت نہیں کرتیں” وہ بضد تھا مرال نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں محبت کا ایک جہاں آباد تھا

کوشش کی پر نہیں کہہ پائی اور جانے لگی جبران مسکرایا اور اس کا ہاتھ تھاما

” ایک دن میں نے تم سے یہیں کھڑے ہو کر اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا اور آج یہیں کھڑے ہو کر میں اپنی محبت کا اقرار کرتا ہوں کہ مجھے اس لڑکی سے بےانتہا محبت ہے” اس نے مرال کی طرف اچارہ کیا “مجھے مرال سے بےانتہا محبت ہے” مرال کی آنکھیں بھر آئیں جبران نے انگلیوں کی پوروں سے اس کے آنسو چنے

” اب نہیں مرال اب نہیں” وہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولا مرال نے ذرا کی ذرا نظر اٹھائی اور اس سے دور ہوئی اور روتے بھاگ گئی وہ وہیں کھڑا رہ گیا

اپنے کمرے میں آکے وہ بے تحاشا روئی

” کاش جبران کاش…… کاش کہ میں تم سے محبت نہ کرتی…… کاش کہ یہ ہی محبت تم مجھ سے کرتے تو آج سب ٹھیک ہوتا…..

” وہ زور زور سے روتے ہوئے بول رہی تھی “میں چاہوں بھی تو کچھ نہیں کر سکتی جبران کچھ نہیں…… تم مجھے اپنی محبت کی تپش سے پگھلا رہے ہو جبران پر میں پھر بھی تمہاری نہیں ہو سکتی…… میں اب تمہارا نصیب نہیں بن سکتی….. ہماری راہیں کب کی الگ ہو چکی ہیں جبران کاش جبران کاش تم میرے ہوتے کاش……” وہ بہت دیر تک روتی رہی تھی.

——

رات کے گیارہ بج رہے تھے نشاء کچن میں چائے بنانے آئی تو دیکھا جبران اپنے لیے کافی بنا رہا تھا اس کے دل کو کچھ ہوا یہ اس کا شہزادہ بھائی تھا روز سارہ یا ارسہ اسے کافی بنا کے دیتے تھے اور اب وہ جب سے آیا تھا خود ہی کافی بناتا تھا جبران نے اسے دیکھا

” کیا ہوا نشو سوئی نہیں گڑیا” اس کے اس طرح بولنے سے اس کا دل پگھلا کتنے دن ہوگئے تھے اس نے اپنے بھائی کے منہ سے یہ لفظ نہ سنا تھا تھا تو یہ عام سا جملہ پر اس کی تاثیر بہت گہری تھی

” لائیں میں بنادوں” جبران نے سر ہلایا اور اس کو جگہ دی

” ہاں آج تم بنا دو بہت وقت ہوگیا تمہارے ہاتھ کی کافی نہیں پی…..” وہ کافی بنانے لگی

” پتا ہے میں تمہاری کافی کو بہت مس کرتا تھا” وہ بولا تو نشاء نے اس کی طرف دیکھا

” کیوں آپ کی وائف آپ کو کافی نہیں دیتی تھیں”

” کون سی وائف….. وائف کو تو یہاں چھوڑ گیا تھا میں”

” میں مرال کی نہیں آپ کی وائف کی بات کررہی ہوں”

” وہ محض میری ایک غلطی تھی نشو….. جس کا مجھے اچھا سبق بھی مل گیا” نشاء خاموش ہوگئی

” ناراض ہو گڑیا” وہ خاموش رہی

” معاف نہیں کروگی” وہ بولا

” کان پکڑوں” وہ پھر بھی نہ بولی

” ہاتھ جوڑوں تو معاف کردوگی” جبران کے ایسا کہنے پہ نشاء نے بھائی کو تڑپ کے اس کے بندھے ہاتھوں کو دیکھا

” نہیں بھئییوں نو…..” نشاء نے اس کے بندھے ہاتھوں کو الگ کیا اور ان پہ اپنا سر رکھا

” یہ تو نہیں کہا بھائیا بس دکھ ہوا تھا بہت کہ آپ نے ہمیں بہت تکلیف دی اور کچھ نہیں….. ” جبران نے اسے اپنے ساتھ لگایا جبران کی آنکھیں بھی نم تھیں

” ہم نے آپ کا بہت انتظار کیا بھائی بہت پر آپ نہیں آئے”

” سوری گڑیا میں نے اتنی تکلیف دی تم لوگوں کو معاف کردو” نشاء روئے جا رہی تھی بہت سا رونے کے بعد جبران نے اس سے پوچھا

” ناراض تو نہیں ہو نا مجھ سے” جبران نے پوچھا نشاء نم آنکھوں سے مسکرائی

” نہیں ہوں….. “

” تھینک یو گڑیا” وہ بھی مسکرادیا

” دیکھیں کافی تو میں بھول ہی گئی” وہ پھر سے کافی بنانے لگی اور جبران سے باتیں کرنے لگی جبران بہت خوش تھا کہ اس کی بہن اس سے راضی ہوگئی تھی.

—–

گلے دن احتشام والوں کے گھر سے فون آیا تھا وہ لوگ آج مرال کا شادی کا جوڑا لے کر آرہے تھے جبران تو سنتے ہی گھر سے باہر نکل گیا تھا

شام میں احتشام اپنی ماما کے ساتھ آیا تھا وہاج صاحب کے بہت کہنے پر وہ لوگ ڈنر کے لیے رک گئے تھے.

—–

بہت دیر تک سڑکوں پی گاڑی گھمانے کے بعد وہ گھر کی طرف لوٹا اس کا خیال تھا کہ اب تو وہ لوگ جا چکے ہوں گے وہ گھر آیا احتشام والے ڈنر کر چکے تھے چائے کا دور چل رہا تھا

جبران لاؤنج میں داخل ہوا احتشام اور اس کی ماما کو دیکھ کے یک دم چونکا احتشام بھی اسے دیکھ کر حیران ہوا ویسے تو سب مرال کے پہلے شوہر کے برے میں انہیں بتا چکے تھے پر یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ واپس گھر آچکا ہے

سارہ تعارف کرانے کے لیے بولی

” بھائی یہ مرال آپی کے ہونے والے شوہر ہیں” جبران سن کھڑا رہ گیا اسے لگا جیسے قیامت آگئی ہے اس ک سب دے اچھا دوست مرال کا ہونے والا…… اس سے آگے وہ سوچ نہیں سکا تھا

” اور احتشام بھائی یہ ہمارے بڑے بھائی جبران ہیں” سارہ اپنے بھئی کی حالت سے بےخبر دونوں کا ایک دوسرے سے تعارف کروارہی تھی احتشام نے ناسمجھی سے ابتہاج اور وہاج کو دیکھا

” بیٹا یہ ہی مرال کے ایکس ہزبینڈ ہیں” وہاج نے نظریں چراتے ہوئے کہا احتشام کے سر پہ جیسے پہاڑ ٹوٹا تھا.

ن

احتشام گھر آکے اپنے روم میں آیا سر تھا کہ درد سے پھٹا جا رہا تھا یہ کیا ہو گیا تھا اس کا سب سے اچھا دوست جبران اس کی ہونے والی بیوی کا پہلا شوہر…….

اس کے کانوں میں بار بار جبران کی تڑپتی آواز گونج رہی تھی

” وہ میری زندگی میرا سکون ہے”

” احتشام وہ شادی کررہی ہے”

پھر مرال کی آواز آتی

” مجھے اپنے شوہر سے بہت محبت ہے”

اسے لگا وہ پاگل ہو جائے گا اس نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیا

یہ کیوں ہوا اور صرف اسی کے ساتھ ہی کیوں…..

اگر جبران کی جگہ کوئی بھی اس کے شوہر کی صورت میں آجاتا تو اسے اتنا برا نہیں لگتا جتنا اب لگ رہا تھا

اس نے اپنے کمرے کی ساری چیزیں توڑ دیں پھر بھی اسے سکون نہ ملا

“مرال اس سے محبت کرتی ہے اب تو وہ کب سے کتنے دنوں سے ساتھ ہوں گے….. جبران تو اس خلع کو مانتا ہی نہیں تھا اس کی نظر میں….. تو اب بھی وہ اس کی وائف ہے…..

” وہ پتا نہیں کیا کیا سوچ رہا تھا “اور مرال وہ تو علیحدگی کے بعد بھی صرف اسے ہی چاہتی تھی اسے یوں اپنے روبرو دیکھ کر وہ محبت پھر زور و شور سے امڈ آئی ہوگی اور جذبات میں پتا نہیں کتنی بار انہوں نے اپنی حدیں پار کی ہوں گی……” اور اس سے آگے وہ سوچ ہی نہیں سکا تھا ایک گرہ سی دل میں پڑ گئی تھی تھا تو وہ بھی ایک مرد ہی نا تو اپنی عورت کے بارے میں پزیسو کیوں نہ ہوتا

—–

جبران ٹیرس پہ کھڑا اندر کی گھٹن کو کم کرنا چاہ رہا تھا

اس نے تو کبھی زندگی میں نہ سوچا تھا کہ ایسا ہو جائے گا

وہ نہ ےو اپنے دوست کو دکھ دے سکتا تھا اور نہ مرال کو خود سے الگ کرسکتا تھا اس کو اپنے سے جدا کرتا تو کب کا مر جاتا…… احتشام بھی اس سے محبت کرتا تھا مگر وہ تو جبران کا عشق و جنون بن چکی تھی

قسمت نے عجیب دوراہے پہ کھڑا کردیا تھا انہیں وہ ایک تکون میں کھڑے تھے ایک پئیر کی شکل دینے کے لیے ان میں سے کسی ایک کو تو نکلنا ہی تھا

—-

” حیدر بس اب آپ میری سنیں ختم کریں یہ سب نہیں کرنی میں نے اپنے بیٹے کی شادی اس لڑکی سے”

” اب کیا ہو گیا ہے ضوباریہ جانے تک تو تم ٹھیک تھیں” حیدرصاحب لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے چینل سرچ کرتے ہوئے بولے

” حیدر اس لڑکی کا ایکس ہزبینڈ آگیا ہے” اس بات پہ حیدر بھی چونکے

” آپ کو پتا ہے وہ کون ہے”

” جون ہے؟؟؟” انہوں نے پوچھا

” احتزام کا دوست جبران”

” واااااٹ….. یو شیور کہ وہ وہی ہے”

” جی حیدر میں سچ کہہ رہی ہوں “

” احتشام کہاں ہے؟؟؟”

” میرا بچہ تو بہت ڈسٹرب ہو گیا ہے آتے ہی اپنے کمرے میں چلا گیا پلیز آپ ہی کوئی حل نکالیں حیدر….. آپ خود جانتے ہیں کہ جبران اپنی ایکس وائف کو بہت چاہتا ہے” ایک طرح سے انہوں نے حیدر کو اموشنل کرنا چاہا

” ضوباریہ ان کی علیحدگی ہو چکی ہے اور اگر آبھی گیا ہے تو وہ ہزبینڈ وائف نہیں ہیں….. تین دن بعد شادی ہے احتشام کی وہ سمجھدار ہے سمجھ جائے گا تم سمجھاؤ اسے ہمممم” انہوں نے اپنی بیگم کو سمجھایا وہ منہ بنا کے رہ .گئیں انہیں وہ لڑکی اپنے ہیرے جیسے بیٹے کے لیے ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور اب تو اور ذہر لگنے لگی تھی.

Rooh Ka Makeen bold romantic urdu novels By Azbeena khan Complete PDF Download Link

Rooh ka Makeen Bold Romantic urdu Novels By Azbeena Khan Read online

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *